روایت اور تشریح دین ! محمد عرفان ندیم

اسلام کی دینی و علمی روایت ایک خاص مزاج کے ساتھ پروان چڑھی ہے ، اس کی اساس میں استاد اور شاگرد کا تعلق بنیادی حیثیت رکھتا ہے ، حدیث جبرائیل اس حیثیت کاواضح بیان ہے ۔صحابہ کرام نے نبی اکرم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ، ادیان سابقہ کے راہب اور ربی جو دائرہ اسلا م میں داخل ہوئے انہیں بھی یہ زعم نہیں ہوا کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں ، انہوں نے بھی عام اصحاب کی طرف تحصیل علم کے لیے بارگاہ نبوت میں حاضری دی ۔

عہد تابعین و تبع تابعین اس حوالے سے زرین دور تھا ، آپ امام ابوحنیفہ کی مجلس علمی کو چشم تصور میں لائیے ، امام ابوحنیفہ مسند نشین ہیں ، سامنے چالیس کبار اہل علم تشریف فرما ہیں ، ایک طرف صاحبین ہیں ، ان کے ساتھ امام زفر اور حسن بن زیاد بیٹھے ہیں ، دوسری طرف امام حماد اور امام مکی ہیں ، ان کے ساتھ محمد بن نوح اور فضیل بن عیاض تشریف فرما ہیں ، سامنے کی صف میں عبد اللہ بن مبارک ، امام داود اور مالک بن مغول جگمگا رہے ہیں ۔

امام صاحب کی طرف سے ایک مسئلہ پیش کیا جاتا ہے ، پہلے امام صاحب اس بابت اپنی رائے دیتے ہیں ، اس کے بعدعام بحث اور مناقشہ شروع ہوتا ہے،مجلس میں موجود دیگر آئمہ کواظہار خیال کی دعوت دی جاتی ہے ، تمام اہل علم اپنے فہم کے مطابق رائے دیتے ہیں ، جہاں کسی کو اختلاف ہو وہ استاد کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنی رائے بمع دلائل پیش کرتا ہے، عام بحث اور مناقشے کے بعدکثرت رائے سے کسی مسئلے کی حیثیت کا تعین کر لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کسی مسئلے کوفرض کرکے اس پر غو ر وفکر ہوتا ہے، مختلف مفروضہ حالتوں پر مناقشہ کیا جاتا ہے اور نتائج فکر پیش کیے جاتے ہیں بعد میں انہی مفروضہ مسائل کی بنیاد پر فقہ تقدیری وجود میں آتی ہے ۔امام صاحب کی مجلس علمی استاد اور شاگرد کے تعلق کی خوبصورت کہکشاں تھی جس کے ستارے صاحبین ، امام زفر اور حسن بن زیاد جیسے اصحاب علم تھے ۔

پوری اسلامی روایت انہی طرق پر چلتی آئی ہے ، علم محض الفاظ کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طرح کا روحانی فیض ہے جو رسول اللہ سے سینہ بسینہ منتقل ہوتا چلا آ رہاہے ۔ صحابہ کرام کو بھی صحابی اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے نبی کی صحبت میں رہ کر کسب فیض کیا ۔ بغیر استاد کے محض کتابوں سے جو علم حاصل کیا جائے وہ قابل اعتبار نہیں ہوتا ، اس میں تفقہ ،روحانیت کا نور اوروہ تاثیر نہیں ہوتی جو استاد کے سامنے زانوئے تلمذہ تہہ کرنے سے نصیب ہوتی ہے ۔ہماری روایت میں جس صاحب علم نے بھی بذات خود تحصیل علم کا دعویٰ کیا اور تشریح دین کے منصب پر فائز ہونے کی کوشش کی وہ خود بھی راہ اعتدال سے منحرف ہوا اور متعلقین کو بھی مقام اعراف پر لاکھڑا کیا ۔ ماضی قریب میں اس کی مثال مولانا مودودی ہیں اور حال میں یہ منصب محترم جاوید احمد غامدی کے حصے میں آیا ۔

غامدی صاحب اپنی گفتگو میں اکثر کہتے ہیں کہ یہ میرا فہم دین ہے ، میں براہ راست قرآن وسنت کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں ۔سامعین کو بھی وہ یہی دعوت دیتے ہیں کہ وہ براہ راست قرآن و سنت کے مطالعے سے دین کو سمجھیں ، سوال یہ ہے کہ کیا ہر فرد یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ خود براہ راست قرآن و سنت سے استفادہ کرے ، خود غامدی صاحب کہ جن کی زندگی کا ایک حصہ قرآن و سنت کے مطالعے میں گزرا ہے ،وہ براہ راست قرآن وسنت کے مطالعے اور اس سے ماخوذ نتائج فکر کے اعتبار سے روایتی فکر سے منحرف ہوئے تو ایک عام اور سادہ لوح فرد کے راہ راست سے بھٹکنے کے کتنے ذیادہ امکانات ہیں ۔ میں یہاں اہل علم کے چنداقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ فہم دین اورتشریح دین کے منصب پر فائز ہونے کے لیے کسی استاد یا شیخ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنا کتنا ضروری ہے ۔

جس طرح انسان کا خاندانی شجر ہ نسب ہوتاہے اسی طرح دینی علم کا بھی ایک روحانی سلسلہ نسب ہے جس کا ماخذو منبع رسول اللہ کی ذات اقدس ہے ، امام نوویؒ آئمہ کرام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ انھم آئمتنا و اسلافنا کالوالدین‘‘ یہ ہمارے آئمہ اور اسلاف ہیںجو ہمارے والدین کی طرح ہیں ‘‘۔امام نووی ؒامام شافعی کے استاد مسلم بن خالد زنجی کے بارے میں لکھتے ہیں ’’ و ہ ہمارے فقہی سلسلے کے جد ہیں جو رسول اللہ تک پہنچتا ہے ۔‘‘یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایت میں جب کسی صاحب علم کا تعارف کروایا جاتا ہے تو یہ نہیں کہاجاتا کہ وہ فلاں فلاں کتب کا مصنف ہے بلکہ اس کی پہچان اور تعارف میں اس کے شیخ اور استاد کا نام بتایا جاتا ہے ، شیخ اور استاد کے مقام و مرتبے سے اس کی علمیت اور استناد کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔قاری محمد طیب صاحب رقمطراز ہیں ’’ اگر یہ روحانی اور علمی سند اور تعلیمی وتربیتی استناد کا سلسلہ شیوخ سے گزرتا ہوا رسو ل اللہ تک نہ پہنچتا ہو تو آدمی علوم نبوت کی حد تک محروم الارث شمار ہو گا اور اس کا علم لفظی، خود ساختہ اور اس کے اپنے تخیلات و جذبات سے پیدا ہوگا جو دینی امور میں نہ حجت ہو گا نہ قابل التفات بلکہ ہدایت کی بجائے الٹا ضلالت و گمراہی کا باعث ہو گا ۔ ‘‘

عبد اللہ بن مبارک کہا کرتے تھے جو بغیر استاد کے علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ بغیر سیڑھی کے چھت پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ امام شافعی سے منسوب ہے کہ جومحض فقہ کی کتابوں سے علم حاصل کرنے کی کوشش کرے گا وہ احکام کو بگاڑ دے گا ۔ ابن حجر ہیتمی کا قول ہے جو کتابوں سے علم حاصل کرے گا خود بھی گمراہ ہوگا دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا ۔ امام ابوحنیفہ سے کہا گیا کچھ لوگ مسجد میں حلقہ بنائے فقہی مسائل پر غور کر رہے ہیں ، اما م صاحب نے دریافت کیا ان کے پاس کوئی بڑا یا استاد بھی ہے ، لوگوں نے بتایانہیں ، تو فرمایا تب یہ لوگ کبھی تفقہ حاصل نہیں کر سکتے ۔ امام شاطبی لکھتے ہیں’’کہیں کوئی منحرف فرقہ پایا جائے یاکوئی مخالف سنت فرد نظر آئے وہاں آپ دیکھیں گے کہ اپنے زمانے کے مشہور و معتبر علماء سے ان کا رابطہ نہیں ہوتا اور وہ ان کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ‘‘امام مالک سے پوچھا گیا کیا اس شخص سے علم حاصل کیا جا سکتا ہے جس نے تحصیل علم کی ہو نہ علماء کی صحبت اٹھائی ہو ، فرمایا نہیں ، مزید فرمایا علم صرف اسی سے حاصل کیا جاسکتا ہے جس نے علم کے لیے جد و جہد کی ہو اور علماء کی صحبت میں وقت گزارا ہو ۔

اسلام کی علمی روایت کے تناظر میں غامدی صاحب کے علمی مقام و مرتبہ کا تعین چنداں مشکل نہیں ، ان کا سارا علم سراسر ذاتی مطالعے اور ماضی کے اہل علم کی شاذ آراء پر مشتمل ہے ، وہ دین کی جو تصویر پیش کرتے ہیں وہ اس تصویر سے قطعی مختلف ہے جو رسول اللہ پر ناز ل ہوا تھا اورجو روایت کے صورت میں آج امت کے پاس محفوظ ہے۔ غامدی صاحب نے جو تصور دین پیش کیا اس کی اتباع میں درجنوں لوگوں نے دین کے مسلمات کا انکار کیا ، ڈاڑھیاں منڈو ا ڈالیں ، باپردہ خواتین نے غامدی صاحب سے متاثر ہو کر پردہ ترک کر دیا ، فرائض و واجبات سے لے کر سنن و نوافل تک کا انکار لازم ٹھہرا۔

تاریخ شاہد ہے کہ ماضی میں بھی جس اہل علم نے محض اپنے ذاتی فہم سے تشریح دین کے منصب پر فائز ہونے کی کوشش کی وہ خود گمراہ ہوا اور امت کے لیے آزمائش ثابت ہوا ، اللہ موجودہ عصر کے مسلمان کوغامدی صاحب کی آزمائش سے محفوظ رکھے ۔