آئی جی سندھ اور بیمار مختار الدین - احسن کوہاٹی

سیلانی اس وقت کشمیر کے حوالے سے ایک مجلس میں شریک تھا،وفاقی دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں ہونیوالی اس مجلس میں کم بولنے اور زیادہ سوچنے والے لوگ موجود تھے وہ بتارہے تھے کہ نریندر مودی نے اپنی بھارتی نژاد برطانوی دوست مدھو شرما کے ذریعے اسمارٹ چال چلنے کی کوشش کی تھی ،یورپی یونین کے چنے گئے مخصوص ارکان کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروا کر ان سے کلین چٹ لینے کا آئیڈیا اچھا تھا لیکن یورپی یونین نے وفد سے لاتعلقی ظاہر کر کے سب کئے کرائے پر پانی پھیر دیا۔

ٹائمز آف انڈیا نے اعتراف کیاکہ اس وفد سے بھارت کو کلین چٹ نہیں مل سکتی ،برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ نے یہ لکھ کرکہ یہ دورہ نجی حیثیت سے ہے اسکی سفارتی حیثیت ہی ختم کر دی،ٹائمز آف انڈیا یہاں تک لکھنے پر مجبور ہوگیا کہ دورہ تو کرادیا گیا لیکن کسی کشمیری رہنما،سیاسی،جماعتوںیا تاجروںکے وفد سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔۔۔سیلانی اس سنجیدہ مجلس میں بیٹھا لیکچر کے نوٹس لے رہا تھا کہ اسکی جیب میں پڑا فون تھرتھرانے لگا،اس نے سیل فون نکال کر دیکھا اسکرین پر ایک انجانا نمبر نظر آرہا تھا سیلانی نے لائن کاٹ دی اور ہمہ تن گوش ہو کر لیکچر سننے لگا بعد میں چائے ناشتے کے وقت سیلانی نے فون چیک کیا تو اسی نمبر سے پے درپے پانچ کالز آئی ہوئی تھیں اس نے کچھ سوچ کر وہ نمبر ڈائل کیا دوسری جانب بیل جاتی رہی اورپھر ایک کمزور سی آواز سنائی دی’’سیلانی بھائی ،آپ نے بھی اب ہمارا فون اٹھانا چھوڑ دیا‘‘
آواز سن کر سیلانی چونک گیا یہ کمزور نحیف سی آواز کراچی کے سید زادے مختار الدین کی تھی ، سید مختار الدین کیچڑ میں کنول کا پھول اور کراچی پولیس کا سپاہی ہے ،خدا خوفی رکھنے والا مختار الدین کے دو بچے حافظ قرآن ہیں ان کے سینوں میں محفوظ اللہ کا نور ہی اسکی ساری کمائی ہے وہ سیلانی کا پرانا قاری ہے اور ان پاکستانیوں میں سے ہے جس کاوطن عزیز کے حالات پر دل کڑھتا رہتا ہے کچھ غلط دیکھتا ہے تو برداشت نہیں کرپاتا اکتیس برس کی ملازمت کے باوجود اسکے سپاہی ہی رہنے کی ایک وجہ اسکا یہ مزاج بھی ہے۔

سیلانی نے مختار سے پوچھا’’طبیعت تو ٹھیک ہے ناں‘‘ ’’کہاں سیلانی بھائی ،بستر پر پڑا ہوں ‘‘
’’اللہ رحم کرے کیا ہوا؟‘‘سیلانی کے اس سوال پر مختار الدین نے ٹھنڈی سانس لی اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا’’سیلانی بھائی !لگتا ہے کہ چلنے کا وقت آگیا ہے‘‘
’’ہوا کیا؟‘‘سیلانی نے تیزی سے پوچھا اور ہوٹل کے گوشے میں چلا آیاجہاں شیشے کی شفاف دیوار کے پار جاڑے کی بارش برس رہی تھی،سیلانی کے پوچھنے پروہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روپڑا’’سیلانی بھائی ! اکتیس برس بندوق اٹھا کر اس شہر کی خدمت کی ہے لٹیروں کو پکڑا ہے ڈاکوؤؤں سے مقابلہ کیا ہے کبھی لوٹ مار نہیں کی ،اکتیس سال پہلے 7032نمبر کی بیلٹ باندھی تھی کھری کڑیل جوانی اس محکمے کو اس شہر کو اس وطن کودی جس کے پاس آج میرے علاج کے لئے دھیلا بھی نہیں۔۔۔سیلانی بھائی !سنا ہے ہمارا آئی جی کلیم امام بڑا بھلا آدمی ہے جوانوں کا بڑا خیال کرتا ہے ،اس تک میری بات پہنچا دیں کہ یہاں جوان بیمار پڑ کر ایڑیاںرگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں اور انہیں ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک گولی کے پانچ روپے بھی نہیں ملتے ،ہمیںملتی ہے تو وہ گولی جو کسی کے جسم میں اتارنی ہوتی ہے یا مقابلے میں خود کھانی ہوتی ہے‘‘۔

سید مختار الدین کا آٹھ ماہ پہلے کولہے پرچھوٹا سا دانا نکلا تھا،اس نے توجہ نہ دی،پانچ بچوں کے باپ اورغریب تنخواہ دار شخص ایسی ’’فضولیات‘‘پر توجہ دینا بھی چاہے تو نہیں دے سکتا،مختار الدین اسی حالت میں میٹھادر تھانے ڈیوٹی پرجاتا رہا تھانے کا ہیڈ محرر اورایس ایچ او کواسکی بیماری کا علم ہوا تو انہوں نے اسکا یوں خیال رکھنا شروع کیا کہ آنے جانے کے اوقات میں رعائت کردی،ڈاکٹر کے پاس جاناہوتا تو رخصت دے دیتے لیکن گھریلو ٹوٹکوں اور گلی محلوں کے ڈاکٹروں سے پھوڑا ٹھیک نہ ہو اور اندر ہی اندر جڑیں بناتا چلا گیا یہاں تک کہ مختار الدین سے کھڑاہونا محال ہوگیا اک روز وہ تکلیف سے کراہا تو بڑا بیٹا اسے دوڑا کر سول اسپتال لے گیا،وہاں ڈاکٹروں نے مختار کا آپریشن کیا کولہے پر نکلنے والا پھوڑا اندر ہی اندر جڑیں پھیلاچکا تھا زخم اتنا بڑااور گہرا تھا کہ ہاتھ اندر چلا جائے،سول اسپتال میں ڈاکٹروں نے سرجری تو کردی لیکن سرجری کے بعد اسکا زخم خراب ہونے لگا،اس میں پیپ آنے لگی ،زخم بھر ہی نہیں رہا تھا،مختار الدین کی حالت دیکھ کر اسکے گھر والے اسے ایک نجی اسپتال لے گئے ،مختار الدین کی وہاں دوبارہ سرجری ہوئی ،سرجن کوئی بھلا مانس خدا ترس انسان تھا اس نے غریب سپاہی کی مالی حالت دیکھ کر اپنی فیس معاف کر دی،اس کے گھر والوں نے علاج معالجے کے لئے محکمے سے رابطہ کیا مختار اسی حالت میں اپنے افسران کے سامنے پیش ہوگیا انہوں نے اسے ایک نظر دیکھااور ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ رابطہ کرنے کی ہدائت دے دی ۔

ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ چیل کو وہ گھونسلہ ہے جہاں بے وسیلہ سپاہیوں کو ماس کیا گوشت کا ریشہ بھی نصیبوں سے ہی ملتا ہے،مختار الدین کی کوئی سفارش نہ تھی اس لئے محکمے کے سارے اصول قاعدے ضابطے اس پر پوری شدت سے لاگو ہونے لگے پہلا اعتراض یہ لگایا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے علاج کروارہا ہے اس لئے محکمہ اسکی مدد نہیں کرسکتا،وہ اپنے اخراجات کا بل درخواست کے ساتھ جمع کرادے اس پر غور کر لیا جائے گا اور یہ غورسپاہیوں کے لئے بیس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کا ہوتا ہے،مختار کو بیس روپے بھی نہیں ملے ،اس نے بتایا کہ جب دوبارہ اسے اسپتال لے جانے کی ضرورت پڑی توسابقہ تلخ تجربہ دیکھتے ہوئے اسے اسٹریچر پر ڈال کر پولیس اسپتال لے گئے وہاں موجود ڈاکٹروں سے مختار نے کہا کہ میری یہ حالت سرکاری اسپتال ہی سے ہوئی ہے خدا کے لئے میرے بچوں پر رحم کریں اور مجھے لیاقت نینشل اسپتال بھجوا دیں ،مختار کی حالت دیکھ کر ان ڈاکٹروں کا دل پسیج گیا وہ پولیس اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور تھوڑی دیر بعد ایک سرکاری اسپتال کے نام raffer latterبنا کر لے آئے مختار نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو کہنے لگے کہ پرائیوٹ اسپتالوں میں سپاہیوں کا علاج نہیں کرایا جا سکتا ۔

مجبورا مختار کی اہلیہ نے ادھر ادھر سے قرض لیاا ور شوہر کو لیا قت نیشنل اسپتال لے آئی ،یہاں ڈاکٹروں نے اسکا چیک اپ کیا ٹیسٹ لئے اور یہ افسوس ناک خبر سنائی کہ زخم بہت بگڑچکا ہے وائرس کمر سے اوپرکی طرف جارہے ہیں ٹانگ کاٹنی پڑے گی،مختار پانچ دن تک اسی نجی اسپتال میں رہا اور جب بل ادا نہ کرنے کی سکت نہ رہی تو کسی کے بتانے پرنسبتا کم خرچ والے احمد میڈیکل کمپلکس فیڈرل بی ایریاآگیااسپتال والوں نے اسکے لئے ایک اچھے ڈاکٹر سرجن کو بلایا اس نے چیک اپ کیااورزیادہ امید نہیں دلائی اس کا بھی وہی کہنا تھا کہ ہفتہ دس وائرس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیںکامیابی نہ ہوئی تو ٹانگ کاٹنی ہوگی،مختار کا کہنا ہے کہ اس کی مالی حالت اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ اسے بچوں کو اسکول سے اٹھاناپڑگیا ہے،اب ایک بیٹا الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا ہے اور دوسرا بچوں کو قرآن پڑھارہا ہے،مختار نے بتایا کہ اسکے بڑے بیٹے کا سال ڈیڑھ میں شناختی کارڈ بن جائے گا میں نے کہا کہ پولیس میں بھرتی ہوجا لیکن اس نے صاف انکار کردیا،سیلانی بھائی ! وہ اپنے باپ کا حال دیکھ رہا ہے وہ بھلا میرے بعد وردی پہن کر بندوق کیوں اٹھائے گا،ہم پولیس والے گالیاں بھی کھائیں،گولیاں بھی اوربیمار پڑیں تو ایک ڈسپرین کی گولی بھی نہ ملے‘‘۔

مختار گلوگیر آواز میں کہنے لگا’’سیلانی بھائی ! ڈاکٹر کہہ رہے ہیں وائرس دل کی طرف بڑھ رہے ہیں شائد میں نہ بچوں ،آپ دعا کیجئے گا‘‘مختار کے گلوگیر لہجے پر سیلانی تڑپ گیااس نے اسکی ہمت بندھاتے ہوئے کہا’’یار !کیسی باتیں کررہے ہو،جوان آدمی ہو ٹھیک ہوجاؤ گے‘‘سیلانی نے کہنے کو تو کراچی پولیس کے ایک بے وسیلہ سپاہی کو دلاسہ دے دیا لیکن وہ ساڑھے چودہ سو کلومیٹر کے فاصلے سے سید مختار الدین کے اشک نہیں پونچھ سکا،اسے جسم میں بنے ناسور سے زیادہ بیٹوں کا دکھ تھاجنہوں نے قلم کتاب چھوڑ کر پیچ کس اوراوزار اٹھا لئے ہیں ،اس کے گھر میں تین باحیاء بیٹیاں ہیں ،اسے غم ہے کہ میرے بعد ان کا کیا ہوگااسکی بیماری پر ساڑھے چار لاکھ روپے کا قرض چڑھا ہوا ہے وہ کیسے اترے گا؟سید مختار الدین احمد میڈیکل کمپلکس کے کمرہ نمبر 203میں بستر پر پڑا یہی سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جارہا ہے۔۔۔سیلانی سے باتیں کرتے کرتے اسکی رندھی ہوئی آواز گلے ہی میں پھنس گئی اور اس نے روتے روتے لائن کاٹ دی ۔

پولیس والے معاشرے میں ظالم اور پیدا گیر مشہور ہیںاس محکمے میں اکثریت ایسے ہی اہلکاروں کی ہے لیکن یہاں ایسے خوف خدا رکھنے والے بھی ہیں جنہیں تھانے ،ناکے یا موبائل پر ڈیوٹیاں نہیں چاہیئں ان کا گزارہ پہلی کی پہلی ملنے والی تنخواہ پر ہوتا ہے،کلیم امام کی شہرت ایک اچھے افسر کی ہے یہ ان گنتی کے افسران میں سے ہیں جنکے حق میں سپاہی ہاتھ اٹھاکر دعائیں کرتے ہیں ،مختار الدین بھی ان میں سے ہے ہو سکتا ہے یہ تحریر پڑھ کرآئی جی صاحب مختار الدین کے علاج معالجے کا انتظام کر دیں لیکن بات ایک مختار الدین اور ایک کلیم امام کی تو نہیں ہے بات تو پولیس کے ہر مختار الدین کی ہے اس سسٹم کی ہے ۔
جس میں پی ایس پی افسران کے لئے ملک کے مہنگے ترین نجی اسپتال اور بیچارے جوانوں کے لئے ان اسپتالوں کی او پی ڈی بھی نہیں ؟ سیلانی مدھو شرما ،یورپی یونین کے وفد کا سری نگر کا دورہ بھول بھال کرچشم تصور سے بسترپر پڑے مختار الدین کو افسردگی اور بے بسی سے دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اوردیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.