اخلاق کا انجام - شہلا اسلام

جسم میں شدید درد اور بخار نے مجھے مجبور کیا کہ ڈاکٹر کے چلی ہی جاؤں بھائی کو گاڑی میں ہی چھوڑ کر امی کے ساتھ کلنک کے اندر گئی تو ڈاکٹر ندارد ... ایک اور کمرے میں جھانکا تو نرس کو کرسی پر سوتے پایا ہم دونوں اندر داخل ہوئے ڈاکٹر صاحب کا پوچھا... شام میں بیٹھیں گے...

مختصر جواب موصول ہوا جسے سنتے ہی امی تو کمرے سے نکل گئیں میں نے مزید تفصیل معلوم کرنی چاہی تا کہ دوبارہ آ نے پر اسی طرح کی مزید کسی پریشانی سے بچا جا سکے ... شام میں کس و قت بیٹھیں گے؟ کپکپاتے جسم اور چکراتے ہوئے سر کے ساتھ پوچھا ... مغرب کے بعد! پھر ایک مختصر غیر واضح جواب موصول ہوا... 7 بجے ؟... میں نے مزید تفصیل چاہی کیوں کہ ڈینگی بخار کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر مجھے کلنک پر رش کا اندازہ تھا ِِ... فون پر نمبر مل جاتا ہے؟.. ہم دور رہتے ہیں بار بار نہی آ سکتے سوال کے ساتھ ہی وجہ بھی بتائی تاکہ وہ تسلی بخش جواب دے سکیں... پہلی بار آئی ہو؟ انہوں کڑی نگاہوں سے مجھے گھورا ... نہی بہت ٹائم کے بعد آئی ہوں میں شرمندہ ہوئی ... سب کچھ پرانا ہی ہے انہوں نے بیزاری سے کہہ کر مجھے چلتا کیا ... لوگ کتنے روکھے اور بیزار ہو گئے ہیں میں نے واپسی پر امی کویہ سب بتایا ... شام میں ڈاکٹر کو دکھانے کے بعد ہم ویٹنگ ایریا میں اسی نرس کے روم کے سامنے بیٹھے تھے امی کو جانے کیا ہوا نرس کے پاس گئیں حال چال پوچھا اور واپس آکر بیٹھ گئیں ...

کچھ لمحوں کے بعد مجھے ایسا لگا نرس کچھ پوچھ رہی ہے ... جی! میں نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا... ڈاکٹر کو دکھا دیا؟ سوال میں نرمی تھی ... جی ہاں دکھا دیا بھائی کا انتظار کر رہے ہیں ـ  میں نےبھی اسی نرمی سے جواب دیا ... میں نے ساتھ بیٹھی امی کو حیرت سے دیکھا آپ ان سے کیا بات کر کے آئی تھیں؟... کچھ نہی خیریت پوچھی تھی مجھے اس کی طبیعت ٹھیک نہی لگ رہی تھی ـ اس نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ا یکسیڈنٹ کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی آپریشن ہوا تھا اب ڈینگی ہو گیا جاب پر آنا بھی ضروری ہے معذرت کر رہی تھی کہ آپ کی بیٹی نے دوپہرمیں کچھ پوچھا مجھے بالکل ہوش نہی تھا مجھے نہی پتہ میں نے اسے کیا کہا کیا نہی... میں حیران امی کو دیکھ رہی تھی ان کے دو میٹھے بولوں اور دوسرے کے خیال  نے کیسی کایا پلٹی امی کا اس سے اچھا برتاؤ اس کا مجھ سے اور پھر میری سوچ کا بدلنا  ... سخت اور درشت بات کے جواب میں اس سے  بھی سخت جواب اب معاشرے کا چلن ہے ـ میں نے اس کے منہ پر ایسا جواب دیا کہ وہ یاد رکھے گی..

ہم تو صاف گو لوگ ہیں جو دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر ہوتا ہے.. سچی بات ہمیشہ کڑوی ہی لگتی ہے ... اگلے کو ایسا جواب دو کہ آئندہ منہ کھولنے سے پہلے سو بار سوچے.. ہم کسی کے باپ کے نوکر نہی ہیں جو جی حضوری کرتے رہیں گے...یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو شرافت کی زبان نہی سمجھتے...یہ اور اس جیسے بہت سے جملے ہم نے صرف سنے ہی نہی ہیں کہے بھی ہیں ، سڑکوں پر گاڑیوں کے ہجوم میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں اوور ٹیک کرتے گالیاں دیتے گالیاں سنتے آپے سے باہر ہوئے لوگ ـ سرکاری اداروں میں اسپتالوں میں یہاں تک کے پرائیوٹ اداروں میں بھی ماتھے پر تیوری اور رویوں میں بیزاری لئے لوگ اب اس قدر عام ہو گئے ہیں کہ خوش اخلاقی سے بات کرتے لوگ کسی اور ہی دنیا کا حصہ لگتے ہیں اور اس بد اخلاقی کا جواب حسب حیثیت اور حسبِ حالات دینا ہم میں سے ہر کوئی اپنا فرض سمجھتا ہے ـ جب اس طرح کے زہر خند جملے اور رویے ہم معاشرے میں انجیکٹ کرتے ہیں تو اس عمل کے تباہ کن نتائج معاشرے میں ا خلاقی گراوٹ کی صورت میں نظر آتے ہیں.

 معاشرے میں پائی جا نیوالی اس بے چینی کے ذمہ دار بھی ہم خود ہی ہیں ـ زندگی نے جب حسن سلوک اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کا درس دیا تو احساس ہوا کہ یہ درس تو نیا نہی ہے پہلے بھی کئی بار کا دیا ہوا ہے ذہںن کے دریچوں پر بچپن سے لے کر اب تک کئی بار مختلف مواقعوں پر پڑھا جانے والا واقعہ دستک دینے لگا... رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اس بڑھیا کی عیادت کا واقعہ جو روز ان پر کچرا پھینکتی تھی اور جب وہ ان پر کچرا نہیں پھینکتی تو وہ ان کی خیریت معلوم کرنے جاتے ہیں ان کے اس حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر وہ مسلمان ہو جاتی ہے ... میں نے ہر بار اسے سنا تو بڑی عقیدت سے آنکھوں میں آنسو لا کر اس نبی کی شان میں قصیدے بھی بہت پڑھے لیکن اس پر عمل کی نو بت کبھی نہی لا سکی ... آج جب اس پر عمل ہوتے دیکھا تو سمجھ آیا کہ جس طرح کا معاشرہ ہم اپنے لئے چاہتے ہیں ہمیں ویسا بننا بھی پڑے گاـ جو ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ ہمیں دے اسے لینے کے لئے ہمیں پہلے کچھ دینا بھی پڑے گاـ اچھا ئی کو تقسیم کیجئے آپ کے پاس پلٹ کر اچھائی ہی آئے گی ـ