احتجاج اوردھرنے صرف تباہی لاتے رہے ہیں - پروفیسر جمیل چودھری

پاکستان کی تاریخ پر سرسری نظرڈالنے سے 2کام بہت واضح نظر آتے ہیں۔جنگ وجہاد اور احتجاجی جلوس اوردھرنے۔ایک کے علاوہ تمام احتجاجی تحریکیں میں نے خود دیکھی ہیں۔1953ء کی احتجاجی تحریک کا حوالہ مذہبی تھا۔تحریک کے دوران2۔نامورعلمائے دین کو فوجی عدالت کی طرف سے پھانسی کی سزاسنائی گئی۔

جو بعد میں عوامی ردعمل کی وجہ سے ختم کردی گئی۔ہم احتجاجی سیاسی تحریکوں کا ذکر مختصر ہی کریں گے اورپھر آگے بڑھیں گے۔1969ء میں ایوب مخالف تحریک کئی ماہ چلتی رہی۔طلباء بھی اس میں پیش پیش تھے۔نتیجہ1962ء کے آئین کا خاتمہ اور یحیٰ کے مارشل لاء کا نفاذ تھا۔1974ء میں پرانا قادیانی مسٔلہ دوبارہ ابھرا۔ذوالفقار علی بھٹو نے اسے نہایت فراست سے آئینی طریقے سے حل کردیا۔ایک سیکولر اور سوشلسٹ حکمران سے اتنے جرأت مندانہ فیصلے کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔بھٹو کو یہ کریڈٹ ملناتھا۔سومل گیا۔مسلم دنیا کے کسی آئین میں اتنی وضاحت سے مسلمان کی تعریف نہیں لکھی گئی۔جوکسررہ گئی تھی۔وہ جنرل ضیاء الحق نے پوری کردی تھی۔پاکستان قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک کئی ماہ پر مشتمل تھی۔اس میں خون خرابہ بھی ہوا۔نتیجہ آئین کی معطلی اور مارشل لاء کا نفاذ۔

اورپھر مارشل لاء کی رات گیارہ سال پر پھیل گئی۔بھٹو کی پھانسی کے بعد ایک۔آر۔ڈی کی تحریک نے اندرون سندھ کافی معاشی نقصان کیا۔اگلی دہائی میں بھی دھرنے اور احتجاج مختلف شکلوں میں جاری رہے۔حکومتیں بنتی اور گرتی رہیں۔90ء کی دہائی کو معاشی لہاظ سے تباہ کن دہائی کہا جاتا ہے۔کسی وزیراعظم کو ٹرم پوری کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔لاہور۔اسلام آباد موٹروے کے علاوہ کوئی بڑا پائیدار پروجیکٹ نظر نہیں آتا۔بے نظیر نے مختلف کمپنیوں سے بجلی پیداکرنے کے سودے کئے۔اسی دہائی سے بجلی کے نرخ بڑھنے شروع ہوگئے تھے۔یہ کام اب تک تسلسل سے جاری ہے۔2007ء کی ججز بحالی کی تحریک ایک مثبت نتیجے پر ختم ہوئی اور ججز آزاد ہوئے اور اپنی پوسٹوں پر بحال ہوئے۔2014ء کا دھرنا تو آپ سب کو ہی یاد ہے۔چین کے صدر کا دورہ پورا ایک سال لیٹ ہوا۔سی پیک کے شروع ہونے میں بھی کافی دیر ہوئی۔پاکستان کا Imageپوری دنیا میں خراب ہوا۔واضح طورپر ریاست پاکستان کی رٹ کو چیلنج کیاگیا۔حکومتوں کی مخالفت تو ہم لمبے عرصے سے دیکھتے آئے تھے۔

لیکن ریاست کا تمسخر اڑایا گیا۔سول نافرمانی کی باتیں اور سروس بلوں کا اعلانیہ طورپر جلایاجانا بہت ہی تکلیف دہ منظر تھا۔اگر پشاور آرمی سکول کا وقوعہ نہ ہوتا تو اس کے خاتمے کا کوئی امکان نہ تھا۔اس سے جڑی بے شمار غلط روایات ہیں۔جس کاذکر میڈیا کرتارہتا ہے۔اور اب مولانا فضل الرحمن کئی دن سے اسلام آباد میں ڈیرہ لگائے بیٹھے ہیں۔مطالبات وہی پرانے۔مطالبات کے مانے جانے کا نہ پہلے امکان تھا اور نہ اب کوئی بات بنتی نظر آتی ہے۔دونوں کمیٹیوں کی ملاقاتیں جاری رہتی ہیں۔ہم اپنے ملک کا تماشہ دنیا کو دکھاتے رہتے ہیں۔کیا 7۔دہائیاں گزرنے کے بعد قوم کو بالغ نظری کا اظہار نہ کرنا چاہئے۔مولانا فضل الرحمن اب تک الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کو کسی عدالت میں لیکر نہیں گئے۔کسی ٹربیونل کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔بس ایک شور ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔مولانا نے انکوائری کے لئے کسی کمیشن کا مطالبہ نہیں کیا۔ان کے لوگ اسمبلی میں موجود ہیں۔وہاں کسی نہ کسی طرح کی انکوائری کامطالبہ کرسکتے تھے۔وہ دھرنے اور احتجاج کولیکر اسلام آباد آگئے۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

احتجاج عین اتنے ہی وقت کے بعد شروع ہوا۔جتنے عرصے کے بعد عمران خان نے احتجاج شروع کیاتھا۔فضل الرحمن صاحب یہاں عمران خان کے پیروکار نظر آتے ہیں۔عمران نے بھی ایسا کیاتھا۔مجھے بھی اب انکے نقش پا پر چلنا ہے۔ہم تو اب تک یہی پڑھتے آئے تھے کہ علماء دین اپنے بڑے فقہاء کے مقلد کہلاتے ہیں۔لیکن مولانا فضل الرحمن نے ایک آزاد منش سیاست دان کی تقلید شروع کردی ہے۔یہ صورت حال مولانا فضل الرحمن اور جمعیت العلمائے اسلام کے لئے ہرگز مناسب نظر نہیں آتی۔علماء کے 2 ۔دھرنے اس سے پہلے بھی ہوچکے ہیں۔عوام اور معیشت نے تب بھی بہت کچھ برداشت کیاتھا۔جیلوں کے بعد ہی انہیں رہائی ملی تھی۔7۔دہائیوں میں ہم نے بہت نقصان اٹھا لئے۔اپنے ملک کو بے توقیر کرلیا۔ہمارا ملک دھرنوں اور احتجاج کے لئے پوری دنیا میں بدنام ہوگیاہے۔مسٔلہ سیاسی،معاشی ہویا مذہبی اسے سیمینارز اور مذاکروں میں زیر بحث لایاجائے۔

اس رائے کا اثر عوامی نمائندوں پر لازمی پڑے گا۔اور عوامی نمائندوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں بحث ہو۔اور اس کاکوئی نہ کوئی حل تلاش کرلیاجائے۔دنیا بھر میں حکومتیں اور وزرائے اعظم تبدیل ہوتے ہیں۔لیکن ہرجگہ تبدیلی کے لئے پارلیمنٹ کو استعمال کیاجاتا ہے۔چند ہفتے پہلے انگلستان میں بھی پارلیمنٹ کے ذریعے وزیراعظم تبدیل ہوا۔نئے وزیراعظم نے بورس نے پریگزٹ کے لئے یورپی یونین سے مہلت حاصل کرلی۔پاکستانی قوم کو Matureاسی وقت کہا جائے گا۔جب اپنے تمام مسائل اور مطالبات کے حل پارلیمنٹ سے حل کرائے۔مسٔلہ جب پارلیمنٹ میں پیش کیاجاتا ہے۔تو ہر ایک کو اس پر گفتگو کا پورا حق دیاجاتا ہے۔بل کی منظوری یا قرار داد کی منظوری کے بعد تمام لوگ نتیجہ تسلیم کرلیتے ہیں۔یہ پورا منظر نامہ کتنا خوش نظر آتا ہے۔مولانا فضل الرحمن کو اپنے والد کی سرکردگی میں چلنے والی تحریک پاکستان قومی اتحاد کے نتیجہ سے سبق لینا چاہئے۔

آئین معطل ہوگیاتھا۔اسمبلیاں ختم اور خاکی والوں نے حکومت پر قبضہ کرلیاتھا۔مارشل لاء کی تاریک رات پھیل کر11۔سال پر محیط ہوگئی تھی۔پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کو میں نے خود دیکھا اور پڑھاہوا ہے۔بہت سے لوگوں کی جانیں چلی گئی تھیں۔قوم کو سیاسی اور معاشی لہاظ سے قطعاً کوئی فائدہ نہ ہواتھا۔ذوالفقار علی بھٹو کا پھانسی لگنا ایک ذہین ترین لیڈر کا پھانسی لگناتھا۔بھٹو نے اقتدار اس وقت سنبھالا تھا۔جب پوری پاکستانی قوم مایوسیوں کا شکار تھی۔ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کے بعد لوگوں کو ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا محسوس ہوتاتھا۔جونہی20۔دسمبر کی رات کو بھٹو کی آواز سنائی دی لوگوں کی رگوں میں خون دوڑنے لگاتھا۔لوگوں کو لیڈر مل گیاتھا۔اختلاف کرنے والے بھی اطمینان محسوس کرتے تھے۔ایسے لیڈر کو پھانسی دینا بہت ہی نقصان والادن تھا۔یہ تمام نقصان ایک احتجاجی تحریک کانتیجہ تھا۔احتجاجوں کے مثبت نتائج نہ پہلے نکلے اورنہ ہی اب کوئی امکان ہے۔ان دنوں حکومت اور اپوزیشن کی توجہ صرف دھرنے کی طرف ہے۔بے روزگاری اور مہنگائی اسوقت اہم ترین مسائل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قائداعظم، اسلامی نظام اور ہمارے سیاستدان - میر افسر امان

یہ دونوں دھرنوں کی وجہ سے Ignoreہورہے ہیں۔میری پوری پاکستانی قوم سے یہ التجا ہے کہ دھرنوں اور احتجاج کو ترک کردیں۔اپنے اپنے شعبوں میں اپنے کاموں کی طرف توجہ دیں۔دن رات محنت کرنے سے ہی ہمارے ملک کے مسائل حل ہونگے۔دھرنے اور احتجاج پہلے بھی تباہی کا سبب بنے تھے۔اس کانتیجہ اب بھی نقصان کی شکل میں ہی نکلے گا۔اس سے پوری دنیا میں پاکستان کا Imageخراب ہوتا ہے۔لوگ سوچتے ہیں کہ پاکستانیوں کو ایسے منفی کاموں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ہمارا ملک پہلے ہی قرضوں کے شکنجے میں آچکا ہے۔FTAFکی تلوار ابھی سرپہ لٹک رہی ہے۔دھرنے سے اس ادارے کو پھر منفی پیغام ہی جائے گا۔کسی بھی طرح سے دیکھاجائے دھرنے اور احتجاج تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیںکرتے۔پاکستانی قوم کو اب احتجاج اوردھرنوں سے توبہ کرلینی چاہئے۔