حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! اسلام دین فطرت ہے . جس نے عورت کو شیطان کی مکروه چالوں سے محفوظ کیا اور اسے ذلت و بے حیائی کے دلدل سے نکال کر عزت واحترام کے اعلیٰ مقام پر بٹھایا . اسے خوبصورت نازک آبگینے قرار دیا . عورت اس انمول موتی کی طرح ہے . جسمیں شرم وحیاء مردوں کے مقابلے میں کہیں زیاده ہوتی ہے .

اور یہی شرم وحیاء دین اسلام کی پہلی ترجیح ہے . جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ کا فرمان ہے ''جب تم حیاء نه کرو تو پہر جو چاهے کرو "
عورت کو گهر کی ملکه قراد دیتے ہوئے اسے آنے والی نسل کی تربیت جیسی اہم زمہ داری سونپی .. تو مرد کو معاش اور بیرونی معاملات کا ذمہ دار ٹھرایا...عورت کو حجاب میں رہنے کا حکم دیا .تو مرد کو بهی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا . عورت اللہ کے لطف وجمال اور صفت تخلیق کا مظہر ہے .. شیطان جب کسی سماج کو تباہ کرنا چاہتا ہے .تو سب سے پہلے اس کا وار عورت کی صنف حیاء کی طرف ہوتا ہے . یہی اس کی سب اولین اور پسندیده چال ہے .. اس نے سب سے پہلے بابا آدم اور بی بی حوا رضی اللہ تعالی پر اپنی یہ چال آزمائی ...اس وقت سے لے کر اب تک وه حضرت انسان کو اس جال میں پھنساتا آرہا ہے . حجاب دراصل ہے کیا.؟؟..دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی چیز کو حائل کر دینا .جس سے دونوں ایکدوسرے سے اوجھل ہو جائیں پرده یا حجاب کہلاتا ہے... عورت کا اپنے جسم کو اس طرح چهپا لینا کہ اس کا بدن اور زینت اجنبی مردوں پر ظاهر نہ ہو .. پردے کی تعریف میں آتا ہے .. پردے کا حکم سن 5 هجری میں نازل ہوا...سوره الاحزاب اور سوره نور پردے کے احکام نازل ہوئے ... سوره نور میں ارشاد باری تعالی ہے ...اے نبی مومن عورتوں سے کہ دیجیے کہ اپنی نظروں کو نیچی رکھیں.....

یہ بھی پڑھیں:   میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں - محمد شافع صابر

انتہائی افسوسناک امر ہے کہ مسلم خواتین سے تعصب برتتے ہوئے فرانس نے 2 ستمبر2003 ءمیں اسکارف اور حجاب پر پابندی کا قانون منظور کیا جوکہ مسلم خواتین کے لئے اسلام کے بنیادی قوانین کے منافی اور ناقابل قبول تھا۔ اس صورتحال میں مسلمان خواتین کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مغرب زدہ ذہنیت کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی طور پر میدان میں نکلیں ۔ لہٰذا اس کالے قانون کے خلاف منظم آواز بلند کی گئی ، جولائی 2004ءمیں لندن میں قائم مسلمانوں کی ایک تنظیم(اسمبلی فار دی پروٹیکشن آف حجاب) کے زیر اہتمام مغرب کے غیر اخلاقی اور امتیازی رویے کے خلاف ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں مسلم دنیا کے سینکڑوں محققین، علمائے دین و مدبرین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ میںہر سال 4 ستمبر کے دن ”عالمی یوم حجاب“ منانے کا اعلان کیا گیا۔..انسان اشرف المخلوق ہے پردے کا مقصد اس کے اشرف انسانی کی حفاظت کرنا ہے .. اسے حیوانی زندگی. مادر پدر آزاد..مخلوط معاشرے. جنسی آوارگی . بدکرداری بے حیائی سے تحفظ دے کر پاکیزه ماحول فراهم کرنا ہے ...

بےپردگی کی ابتدا نظروں کے بے حجابانہ استعمال سے ہوتی ہے .. پرده اور حیاء ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں..پردے کے بغیر حیاء کی حفاظ ناممکن ہے .اور حیاء کے بغیرایمان ممکن نہیں.... بے پردگی دراصل بے حیائی کا نقطه آغاز ہے .. بےپردگی کوفروغ دینے کا سب سے زیاده کردار ہمارے میڈیا کا ہے . میڈیا نے اسلامی تشخص کو پامال کرنے میں اہم کردار ادا کی ہے .. پاکستان میں فرنگی تمدن اپنے قدم جمانے میں کوشاں ہے .اور مغرب کی مصنوعی چکا چوند سےمرعوب ایک مخصوص طبقه پردے کو فرسوده قرار دینے کیلئے تیار ہے . مگر هماری پاکستانی خواتین باحیاء ہیں اور باکردار ہیں. جوں جوں شعور آگاهی میں اضافہ ہو رہا ہے . پاکستانی خواتین میں پردے کارواج عام ہوتا جا رہا ہے .ان شاءاللہ حجاب نقیب انقلاب بن کر دلوں پر دستک دے گا . حجاب ذبردستی جبر کا نام نہیں. بلکه محبت ، ترغیب اور تعلیم کا نام ہے کہ عورت کی عزت واحترام میں کوئی کسر نہ چهوڑی جائے.