حسنِ کرشمہ ساز - عالیہ زاہد بھٹی

یہ بہت زیادہ پرانی بات تو نہیں بس پانچ سال پرانی بات ہے ، کراچی میں سردی تو نہیں ہوتی البتہ تعلیمی اداروں میں سردی کی چھٹیاں ضرور ہوتی ہیں انہی چھٹیوں کا زمانہ تھا کہ ہم نے معمول کے مطابق بچوں کے ددھیال اور اپنے سسرال لاہور جانے کی ٹھانی . ہرچند کہ زبانِ خلق پر دھرنے کے نقّارے کی صدا گونج رہی تھی احباب نے بہت ڈرایا مگر بچوں کے ابّا تو جانے پر بضد تھے ہی بچّے بھی کم نہیں سو ہم چند اضافی چھٹیاں لے کر عازمِ سفر ہوئے.

راستے کی مشکلات اور سفر کی تھکان اور کلفت دو دن کی میزبانی میں راحت میں بدلنے ہی والی تھی کہ 16دسمبر 2014کی خوفناک شام نے کہا کہ 1971کے بعد آج دوبارہ اس دھرتی کا کلیجہ مسلہ گیا ہے،آج پھر کسی سفّاک نے اس کے پھولوں کو نوچ لیا ہے اور اس سارے معاملے کے ساتھ ہی ٹھنڈے پڑے ہوئے دھرنے کو خون کی گرمی سے گرما کر پلٹا دیا گیا اوراب ٹھیک پانچ سال بعد تاریخ نے اپنے آپ کو یوں دہرایا کہ وہی دھرنا ، وہی منظر ، بس کردار الگ واقعات الگ بس وہاں ٹھنڈا پڑے دھرنے کو گھر بھیجنے کا راستہ براستہ لہو تھا اور آج دھرنے کے گرم ابلتے لاوے کو سوختہ لاشوں سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش؟ اب تو ٹرین پر سفر بھی مشکل ہوگیا ہے کہ وزیرِ ریلوے کے حسنِ کرشمہ ساز نے ریلوے کے نظام کو اتنا "اونچا" کر دیا ہے کہ ٹرین میں بیٹھنے والے آج کل فوراً ہی بہت اوپر پہنچ جاتے ہیں ریلوے کے نظام سے خوف کا شکار میرے میاں صاحب ذاتی سواری پر بذریعہ سڑک جانے لگ گۓ جسے بائے روڈ سفر کہتے ہیں مگر صاحب کیا کہئے تبدیلی مافیا کی سفّاکی کہ سانحہء ساہیوال نے اس سفر کو بھی ایک سوال بنا کر رکھ دیا اور مرے پر سو درّے سانحہ ساہیوال کے قاتلوں کو رہا بھی کر دیا .

یہ بھی پڑھیں:   کہاں ہے انصاف؟؟ - شہلا خضر

اب تو گھر سے نکلتے ہی یوں لگتا ہے کہ ہمارا شمار بھی ان میں ہوجاۓ گا جو بزبانِ روح آج پکار رہے ہیں کہ "میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں۔؟" آج میں جن لوگوں کوموضوع بناکر لکھنے کا کام سرانجام دے رہی ہوں کل ایسا نہ ہو کہ مجھے موضوع بنا کر کوئ اور لکھ رہا ہو اگر اس کیفیت سے بچنا ہے تو سچ صرف لکھنا ہی نہیں سچ کہنا بھی ہے سچ کرنا بھی ہے اور سچ کا ساتھی و مدگار بھی بننا ہے بنیں گے ناں؟