ٹک ٹاک اور ہماری نوجوان نسل - سطوت اویس

وہ خوش شکل تھا۔ خوش اخلاق تھا زندگی سے بھرپور تھا۔ ہنستا ،کھیلتا، گاتا بجاتا، اپنی ہی دھن میں مگن۔ اسکی آنکھیں بولتی تھیں۔ انکی چمک سے اندازہ ہوتا تھا کہ کتنی ہی امنگیں تھیں ان میں۔ بہُت کچھ کرنا تھا اُسے۔ زندگی میں آ گے بڑھنا تھا۔۔ اور اس لمحے وہ ہر فکر سے آزاد صرف اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔ جوانی کے نشے میں چور اپنے ہم عمروں کی ساتھ۔۔ نہ جانے کس منزل کی جانب چلا جارہا تھا۔ ۔ ۔

اُسے معلوم ہی نہ تھا منزل تو ایک ہی ہے۔۔ سب کے راستے چاہے جو بھی ہوں منزل تو موت ہی ہے۔ وہ جو جوانی کی آغوش میں کھویا ہوا تھا موت نے اُسے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔ کوئی موجود نہ تھا جو اسکی مدد کرسکتا۔ اُسے روک سکتا۔ کیونکہ حکم الٰہی آ پہنچا تھا۔ اور حکم الٰہی کی تردید ممکن ہی نہیں۔ وہ جو قضاء ہوتی ہے نہ۔ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ نہ جوانی دیکھتی ہے اور نہ خوبصورتی، اُسے تو یہ بھی افسوس نہ ہوا کے کتنا برا سٹار ہے یہ، پیارا سا چنچل سا۔۔ نہیں۔ بس لے چلی اُسے۔ اور کس حال میں پُہنچا دیا؟؟ اُسکا تو اصل حلیہ ہی بگڑ گیا۔ہاں۔اس وقت اگر وہ خود اپنی ویڈیو نہ بنا رہا ہوتا تو شاید پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ کس کرب سے گزرا۔ اسکی کرب آمیز آخری سانسیں اور انک ساتھ اُسک تڑپنے کی آوازیں میرے کانوں میں ابتک گونجتی ہیں۔ میرا کوئی رشتہ نہیں تھا اس سے ہاں سوائے اسکے کہ وہ بھی ایک مسلمان تھا۔ اور ایک مسلمان کی تکلیف پوری امت کی تکلیف ہے۔ ہو سکتا ہے اللہ نے اپنے کرم سے اُسے کلمہ نصیب کیا ہو، لکن اللہ نے یہ عبرت بھی تو دی ہے نہ کہ کسی بھی وقت موت آسکتی ہے۔ ہمیں اسکے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ ! - فرحت طاہر

لیکن اتنے بڑے سبق کہ باوجود بھی آج بھی ہماری نوجوان نسل اسی راہ پر گامزن ہے۔اُنکا گمان یہی ہے کہ ابھی بہُت وقت ہے ہمارے پاس۔ ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے۔ ہمیں اسے enjoy کرنا ہے۔ اور اس enjoyment کے چکر میں وہ بھول ہی جاتے ہیں کے خالق حقیقی کے سامنے بھی کھڑے ہونا ہے۔ میرا دل تڑپ اٹھتا ہے میں جب بھی ٹک ٹوک یا اس جیسے کسی app پر کسی نوجوان کو دیکھتی ہوں۔ جو اپنے مذہب کو بھلا کر ویڈیو بنانے میں مشغول ہوتے ہیں۔ خدارا میں دل سے چاہتی ہوں کے نوجوان اس زہر سے نکلیں۔ اور اپنے اصل مقصد کی طرف آجائیں۔ اس راہ پر چلیں جس سے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سرخ رو ہوجائیں۔ کب کس کی موت کیسے لکھی ہو کوئی نہیں جانتا۔ لکن لکھی ہے۔ یہ تو برحق ہے۔ تو یہ کیوں سوچیں کے ابھی وقت ہے؟ ہاں لکن یہ سوچیں کے یہی وقت ہے۔ اسی میں خود کو سنوارنا ہے۔ ہر لمحے کو خدا کی طرف سے دیئے گئے تحفے اور مہلت کی طرح گزار کر اس کا شکر بجا لانا ہے۔۔ میری دعا ہے اللہ اس بچے کی مغفرت فرمائے اور ہماری نوجوان نسل کو تباہی اور گمراہی کے راستے سے نکال کر صراط مستقیم پر لے آئے۔ آمین