محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

محبت کی تاریخ بہت پرانی ہے ِ جب خالقٍ کائنات نے حضرت آدم کی تخلیق کی اور تمام جنًات اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا تو ابلیس جو اپنی ذات کی محبت میں گرفتار تھا اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ِاور کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ مجھے آگ سے پیدا کیا گیا ہے جبکہ آدم کو سوکھی سڑی ہوئی مٹًی سے پیدا کیا ہے ۔

اسکے اس تکبًر اور نخوت اور اپنی شخصی محبت کا نتیجہ یہ نکلا کہ خالقِ کائنات نے غضب ناک ہو کر اسکو اپنے پسندیدہ بندوں سے نکال ذلیل اور معتوب بنادیا اور رہتی دنیا تک کے لئے اس پر لعنت کر دی گئی ۔ محبت کی دوسری مثال جب آدم نے الله تعالیٰ کی نافرمانی کی ۔ جس کی بناء پہ ان کو سرزنش کی گئی تو وہ گھنٹوں کے بل زمین پر گر گئے اور رو رو کراپنے قصور کی معافی طلب کرنے لگے ۔اللہ نے انہیں معاف فرما کر اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمالیا ۔ یہ تو چند مثالیں ہیں ۔تاریخ کے ہر صفحہ پہ محبت کی ایک داستان رقم نظر آتی ہے ۔ صحابہ کرام رضی کا اپنے نبی کریم صلی الله عليه وسلم سے ایسا عشق کہ وضو کا پانی زمین پہ نہیں گرنے دیتےہیں بلکہ اپنے چہرے اور ہاتھوں پہ مل لیتے ہیں ۔ابراہیم علیہ السلام کا اپنے رب سے ایسا عشق کہ گھر، والدین ، وطن اور اولاد سب کچھ محبوب کی خاطر قربان کرتے چلے گئے ۔ یہ ہوتی ہے حقیقی محبت ۔ ایسی محبت جو انسان کو دیوانہ بنا دیتی ہے ۔

انسان کو اپنے آپ سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔اسکی صرف ایک ہی لگن اور خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح محبوب کے رنگ میں رنگ جائے ۔اسکی مرضی کے مطابق اپنی زندگی سنوار لے۔اسکے بتائے ہوئے راستے پہ چلے ۔تاکہ محبوب اس سے خوش اور راضی ہوجائے ۔ آج دنیا بھر میں چہار سو دعویٰ محبت کرنے والوں کی بھر مار ہے۔خصو صاً مسلمانوں کو اپنے پیارے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم سے بہت زیادہ محبت ہے ۔ جس کا اظہار وہ ماہِ ربیع الاول کہ آغاز سے ہی کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔کہیں گھروں کو سجایا جاتا ہے اور کہیں محفلِ میلاد منعقد کرکے نعتیں پڑھیں جاتی ہیں جو زیادہ تر شرکیہ اشعار پہ مشتمل ہو تی ہیں ۔نیز ان تمام امور کا شمار بدعت میں ہوتا ہے ۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے ان کاموں سے پیارے نبیۖ خوش ہوں گے اور ہم ان سے محبت کا حق ادا کریں گے ۔یا پھر پیارے نبی اکرم صلی الله عليه وسلم کی سنتوں پہ عمل کرکے ہم آپ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔