اگر ہمیں بھی ہٹلر نصیب ہوتا - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جب کبھی فیس بک پر کسی دوست کی وال پر یہ خواہش نما اسٹیٹس نظر آتا ہے "اگر ہمیں ہٹلر، مسولینی، کاسترو، چارلس ڈیگال ، لی کوان یو، مہاتیر محمد وغیرہ جیسا کوئی لیڈر مل جائے تو ہماری ڈولتی نَیّا کنارے جا لگے" تو باوجود اپنے ان دوست کے خلوص میں صد فیصد یقین ہونے کے، ہنسی روکنا مشکل ہو جاتا ہے.
یہ تو ایسا ہے کہ کہا جائے کہ ایسا گنا مل جائے جو بیلنے کو سیدھا کر کے رکھ دے. کبھی گنے سے بھی بیلنا درست ہؤا ہے ؟ آج تک تو بیلنے نے ہی گنے کے تمام کس بل نکالے ہیں ہمیشہ. بھائی ہم تو وہ بیلنا قوم ہیں کہ بڑے سے بڑے طرم خاں کا برادہ بنا کر رکھ دیں اور اسے پتا بھی نہ لگے .

مندرجہ بالا محترم (و چند غیر محترم) ہستیوں کا دماغ پھرا ہے کہ ہمیں مل جائیں؟؟؟ اور اگر کہیں مل جاتے تو آج ان کی داستان بھی نہ ہوتی داستانوں میں. ہمارے ہاں کے فول پروف ماحول سے ممکن ہی نہیں کہ کوئی "اِن ون پِیس" بچ کر نکل جائے. شیعہ اس کا سنی لنک ڈھونڈ لیں گے اور سنی اس کا شیعہ ہونا. نہیں تو دونوں مل کر اسے قادیانی ثابت کر دیں گے. ابھی ہم بین السنی کی تقسیم سے صرف نظر کیے دے رہے ہیں. یہاں سے بچ نکلا تو پھر صوبائیت میں جا اٹکے گا اور ملک بچانے کے لیے تابڑ توڑ " ٹامک ٹوئیانہ" فیصلے کرنے لگے گا. پھر یہ لکشمن ریکھا پار کرنا ہو گی کہ مذہبی ہے یا لبرل. حسب ضرورت (ان کی اپنی) یہ دونوں حلقے اس کے ساتھ پنگ پانگ کھیلتے رہیں گے اور وہ ان کے ساتھ. پھر پرو اور اینٹی ایسٹبلیشمنٹ کا کھیل شروع ہو گا اور یہاں بھی وہ قابو نہ آیا تو شادیاں، اسکینڈل، بچوں کی شادیاں، بچوں کے سکینڈل ، ذات برادری، کلاس فیلو ... کہیں نہ کہیں الجھ کر گرے گا. اگر یہ سب کچھ بھی فیل ہو گیا تو پھر "ویپن آف ماس ڈسٹرکشن" بروئے کار آئے گا اور اس سے کوئی نہیں بچ پایا آج تک .... جی ہاں آپ پہچان گئے ..... خوشامد. بس پھر.... ہانکا مکمل اور شکار شروع. ہٹلر ، مسولینی کیا بیچتے ہیں یہاں. ہونہہ. گو ہمارے ہاں متفق قومی اہداف نامی کوئی شے نہیں، تاہم ایسا بھی نہیں کہ سب اندھیرا ہی ہو.

دو باتوں پر عمومی اتفاق بہرحال پایا جاتا ہے : اول یہ کہ یہاں کڑا احتساب ہونا چاہیے .... لیکن صرف دوسروں کا، اور ... دوسرا ... شکم پروری، بلکہ شکم پرستی، ہی اصل مطلوب و مقصودِ پاکستانی ہے.اب احتساب والی بات تو پوری ہو نہیں سکتی کہ "پہلے آپ، پہلے آپ " میں گِھر کر ہی اس کی روح سلب ہو جاتی ہے. شکم پرستی میں البتہ ایسی کوئی قدغن نہیں اور اس کا اصول بھی سادہ ہے، "پہلے میں"! تو ایسی قوم کو کون سِدھا سکا ہے صاحب ؟ جو کوشش کرے گا خود ہی سیدھا ہو جائے گا، ورنہ پھر قوم اس کے ساتھ سیدھی ہو جائے گی. اس کے تمام ٹوٹکے اوپر لکھے جا چکے. بس عرض یہ کرنا تھی کہ ان ناموں کو معاف فرما دیں اور جو تھوڑی بہت عزت لے کر وہ تاریخ کے صفحات میں کہیں دبکے بیٹھے ہیں انہیں وہاں بیٹھا رہنے دیں. لطائف "عیبی" میں سے ایک کی پنچ لائن کے مطابق، یہ ایک کونے میں بیٹھے دہی کھا رہے ہیں، میرا اور آپ کا کیا لے رہے ہیں ؟ کیوں بلا وجہ ان کا توا لگایا جائے، خدا کو جان نہیں دینی کیا ؟؟؟ ہاں، جس دن شکم پرستی اور "پہلے میں" سے نجات پا لی، پھر کسی دھانسو لیڈر کی ضرورت نہیں پڑے گی حالات بدلنے کو. ان سب کی تو بالکل بھی نہیں ... !!!

ٹیگز

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.