کرتارپوربارڈر،ہم اپنی روایتوں کے امین ہیں! محمدعنصرعثمانی

راہداریاں لوگوں کے درمیان آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، مذہبی عبادات سے انسان روحانی تسکین حاصل کرتا ہے،انسان ان آسان ترین ذرائع کی تلاش میں رہتا ہے کہ جن سے وہ اپنی مذہبی عبادات کو سہولت کے ساتھ اداکرسکے۔ کرتارپور بارڈر کھولنے سے دنیا بھر میں موجود دونوں ملکوں کی سکھ برادری میں قربتیں مزید بڑھیں گی،کیوں کہ کرتارپور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔

گر دوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’’کوٹھے پنڈ‘‘ میں دریا راوی کی مغربی سمت میں ہے اورا س گر دوارے سے بھارت کے ریلوے اسٹیشن ڈیرہ صاحب کا فاصلہ تقریباََ چار کلومیٹر ہے اوردریاراوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی بھارتی سرحدموجود ہے۔ گردوارہ بھارتی سرحد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع نارووال کی حدودمیں واقع ہے۔ لاہور سے 130 کلومیٹر کا سفر طے کرکے سکھ یاتری 3 گھنٹوں میں یہاںپہنچتے تھے، لیکن حکومت پاکستان نے کرتاپور راہداری بنا کر دنیا بھر میں موجود چودہ کروڑ سکھوں کے لیے ان کی مذہبی رسومات میں آسانیاں پیدا کرکے مذہبی تفریق کو ختم کردیا ہے،جس سے دنیا بھریہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔

مذہبی آزادی کے اسی جذبے کے تحت پاکستان نے کرتارپور راہداری کھولی اورسکھوں کو ان کے مقدس ترین مقام تک رسائی دی ۔ کرتارپور راہداری سے یقینی نہیںالبتہ موہوم سی امید کی جانی چاہیے کہ اس سے دونوں ملکوں میں موجودسیاسی تناؤ کم ہوگا اوردنیا میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کا اچھا تاثرجائے گا۔ سابق انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جو بھارتی پنجاب کے وزیر سیاحت رہ چکے ہیں، وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان آئے تو مودی سرکار ،انڈین میڈیا نے آسمان سر پہ اٹھالین ،لیکن نوجوت سنگھ سدھو نے بھارتی دھمکیوں کو سنے بغیر پاکستان کا دورہ کیا اور کرتارپور راہداری کھولنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا،ادھرپاکستان نے کرتارپور بارڈر کھول کر دونوں ملکوں کے سکھ یاتریوں کا چارسو کلومیٹر کا فاصلہ چار کلومیٹر کاکردیاہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سے اقلیتوں کا تحفظ کیا ہے ،اسی وجہ سے پاکستان میں موجود سکھوں کے دیگر مذہبی مقدس مقامات جن میں ڈیرہ صاحب لاہور ،پنجہ صاحب ، حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب میں سکھ یاتری پاک فوج کی حفاظت میںاپنی مذہبی رسومات اداکرتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک اور اسرائیل بسانے کی سازش - ایم سرور صدیقی

کرتارپوربارڈر کو غیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو یہ خالصتا مذہبی معاملہ نہیں لگتا،جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ اس سے پاکستان کو خطرہ ہے،لیکن کچھ پہلو ایسے ہیں جہاں حکومت پاکستان نے قومی حمیت کو پس پشت رکھا۔ان میں اہم بھارت سے آنے والے سکھوں کا ڈاٹا یعنی پاسپورٹ کی شرط کاختم کرنا ہے۔ پاسپورٹ لازمی قرار دیا جائے تاکہ ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس یاتریوںریکارڈ موجود ہوکہ کون آرہا ہے کون جارہا ہے۔ کرتارپور بارڈرضررو کھلنا چاہیے لیکن اس پر ماضی جیسی سیایت نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کی طرح کرتارپور بارڈرپر بھی بھارت کبھی ذاتی طور پر سنجیدہ نہیں ہوگا،لہذا یہ سوچنا غیر اخلاقی ہوگا کہ بھارت کے تحفظات ختم ہوچکے اور وہ کھلے دل سے پاکستان کی طرح بھارتی مسلمانوں کے لیے مستقبل قریب میںکوئی ایسی راہداری کے بارے میں سوچ سکتا ہے کہ جس سے اسلامی مذہبی رواداری کو فروغ ملے۔

بھارت تو مسلمانوں کے خلاف کسی بھی ہرزہ سرائی کا موقع نہیں جانے دیتا۔اپنی سیاسی رعونت ، سفارتی چالاکیوں کے بل پر کروڑوں مسلمانوںکے حقوق کا غاصب ہے۔ کشمیر کے مسلمان اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ پاکستان نے بھار ت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہر ممکن پیشکشیںکیں ، لیکن بھارت کی سوئی جس اٹوٹ انگ پر 72 سال سے اٹکی ہوئی تھی ،آج بھی وہیں رکی ہوئی ہے۔ایسے میں کیسے مان لیا جائے کہ بھارت مذہبی آزادی کی اہمیت اور مشرق وسطیٰ میں اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے منافقانہ کردار ادا نہیںکررہا اور بنا کسی مصلحت کے مسئلہ کشمیر کے حل سنجیدہ ہے؟ پاکستان نے کرتارپوربارڈر کھول کربہت بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں بھارت ملوث ہے ۔

بھارت کا دہشت گردی میں فعال رکن پاکستان میں قید ہے اس کے باوجود پاکستان مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل چاہتا ہے ۔ خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کرتارپور بارڈر پاکستان کی اتنی قربانیوں کے بعددونوں ملکوں کے درمیان 72 سالوں سے چلے آرہے سیاسی،مذہبی ،سفارتی معاملات کا قبلہ درست کرنے میں کوئی کردار ادا کرے گا؟