سینے کا انفیکشن: سردیوں میں‌ کیسے بچا جائے؟

موسم کروٹ بدل رہا ہے اور اب سردی کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس موسم میں ذرا سی بد احتیاطی نزلہ، کھانسی، شدید سر درد اور موسمی بخار میں مبتلا کر سکتی ہے۔ سردیوں میں سینے اور سانس کی نالی کی خرابی اور کھانسی ہونا ایک عام بات ہے۔

اکثر لوگ کھانسی کو دور کرنے کے لیے مختلف گھریلو نسخوں کا سہارا لیتے ہیں، جو کارگر بھی ثابت ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں سینے کے انفیشکن اور نظامِ تنفس کی کسی خرابی کی وجہ سے کھانسی میں شدت آسکتی ہے۔ ایسی صورت میں مکمل طبی معائنہ اور ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

موسمِ سرما میں خاص طور پر سینے اور سانس کی نالی کے امراض میں مبتلا افراد کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ عام کھانسی سے گھریلو نسخوں اورمعمولی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے نجات پاسکتے ہیں۔ تاہم زیادہ عرصہ کھانسی برقرار رہے تو کسی مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق کھانسی کو ایک ہفتے سے زائد گزر جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

کھانسی کا تعلق نظام تنفس کی پیچیدگیوں سے ہوتا ہے۔ یہ خشک اور شدید قسم کی ہو ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ برقرار رہے تو ماہر معالج سے رجوع چاہیے کیوں کہ شدید کھانسی اور پھیپھڑوں کی مخصوص نالیوں میں خرابی سے برونکائیٹس کا عارضہ جنم لے سکتا ہے. اس کی تشخیص اور باقاعدہ علاج ضروری ہوتا ہے ورنہ پھیپھڑوں کی نالیوں میں بلغم جمع ہونے لگتا ہے اور متأثرہ فرد کو سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔

سردیوں میں جہاں بڑوں کو نزلہ زکام اور کھانسی کی شکایت ہوسکتی ہے، وہیں اس موسم میں بچوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ ان کو گرم کپڑے پہنانے کے ساتھ کھانے پینے میں احتیاط ضروری ہے۔ اس موسم میں آئسکریم، ٹھنڈے مشروبات کا غیر ضروری استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔