جلے ہیں دل نا چراغوں نے روشنی کی ہے- زینب جلال

اماں بی کی سرد آہیں میرے دل کو بوجھل کیے دے رہی تھیں،میں ان کی کیفیت سمجھ رہی تھی دکھ تو ہوتا ہے ان حالات کو دیکھ کر اور بے بسی کا احساس دکھ کو اور سوا کردیتا ہے . اب تو بچوں نے بھی دادی جان کی افسردگی کو محسوس کرلیا تھا جبھی شجو میاں نے ان کے کاندھوں پر بازو پھیلاتے ہوۓ انہیں روشنیاں دکھانے کا پروگرام بنا لیا”چلیں نا دادو ،آپ ہر دفعہ ٹال جاتی ہیں، دیکھیں شہر کیسا روشنیوں میں نہایا ہوا ہے، اس بار تو اور بھی مزا انے والا ہے کہ ہمارے اٸریا میں گھر روشنیوں سے سجانے کا مقابلہ ہورہا ہے۔

حاجی صاحب نے تو ابھی سے لگا بھی لی ہیں دیکھیے گا کیسے ان کی چار منزلہ عمارت روشنیوں سے جگمگ کرتی ہے ُُساری رات ٗ “ ”میرے بچے پیارے نبیﷺ سے محبت کا یہ انداز خوشی نہیں دکھ دیتا ہے۔ میں ہر بار سمجھاتی ہوں محلے کی بیبیوں سے بھی بات کی ۔بس اللہ ہی ہدایت دے“ ”جی بی بی جو طریقہ کسی کو تکلیف دے وہ کیسے محبت اور خوشی کا ذریعہ بن سکتا ہے“ماسی نوراں کام دوران ہی گفتگو کا حصہ بن گٸ”دن میں لوڈ شیڈینگ اور رات بھر روشنیاں جلا نا یہ عقیدت ہے یا بے حسی۔ برابر والی باجی بتا رہی تھیں حاجی صاحب کی عمارت پر جگمگ کرتی روشنیاں رات بھر انکے کمروں کی کھڑکیوں پر ایسا دھمال کرتی ہیں کہ رات کا سکون غارت ہوجاتا ہے“ ہاں بیچاری پردے بدلیں یا صبر کریں ..”میرے اللہ رحم ، دیکھو تو کیسا تضاد ہے “ اماں بے چین ہوگیں ”پیارے نبیﷺکی حدیث کا مفہوم ذہن میں ارہا ہے صحیح بخاری میں روایت ہے ٗجب پیارے نبیﷺ کے صحابہؓ آپﷺ کے وضو کا پانی اپنے چہروں پر مل رہے تھے ٗ آپﷺ نے اسکا سبب پوچھا جواب ملا ٗمحبت صحابؓہ نے کہا ” اللہ کے رسول ہم آپ سے محبت کرتے ہیں “ تب پیارے نبیﷺ فرمایا ” مجھ سے محبت ہے تو پڑوسیوں کا خیال رکھو“

یہ بھی پڑھیں:   محبت ایک دن کی :حافظ امیرحمزہ سانگلوی

اماں بی نے ٹھنڈی آہ بھری ”ذرادیکھو تو ہم کس الٹی طرف دوڑ رہے ہیں اور اسی پر کیا موقوف ہے کل منی نے جو مجھے وڈیو دکھاٸی وہی جسمیں باجوں کے ساتھ نعت کے اشعار گائےاور تال میل کے ساتھ رقص کیا جارہا تھا اور دیکھنے والا ایک جمعغفیر ... اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلاۓ ..جانتے ہو محبت کے ساتھ جوش وولولہ اللہ نے فطرت میں رکھ دیا ہے۔اور اسی جذبے سے سرشار ہوکر پیارے نبﷺ کے جانثار ساتھیوں نے بَہتّر، بّہتّر زخم جسموں پر سہے اور اللہ کے دین کی حفاظت کی۔ آج یہی فطری جذبہ گا، بجا کر جھوم جھوم کر سرد کیا جارہا ہے۔ جبکہ انہی جذبوں کو سود مند رکھنے کے لیے ہمارے رب نے ہمیں ہدایات بخشی ہیں ۔ فرمان ربی ہے ” مجھ سے محبت ہے تو نبیﷺ کا اتباع کرو“ (البقرہ) اور دیکھو نبیﷺسے محبت کا طریقہ قران وحدیث سے کیا ملتا ہے۔”نبیﷺسے محبت ہے تو قرآن کی پیروی کرو“ . تھوڑی دیر خامشی چھاٸی رہی کہ اماں جان کی انسٶں سے بھری اواز نے ہمیں متوجہ کیا ” آؤ بچوں! دعا کریں رب کریم ہمیں اپنے نبیﷺسے وہ سچی محبت عطا کردے جو روز محشر ہمیں شرمندگی سے بچالے آمین “