تو چلائے ہائے گل میں پکاروں ہائے دل - سائرہ نعیم

تصویر کائنات کے رنگ وجود زن کے علاوہ بہت سی چیزوں سے منسلک ہیں، مثلاً خوشنما پھول، پودے، سایہ دار درخت، پرندے ،آبشار اور پہاڑ ۔ زندگی کی بقا دراصل انہی حسین قدرتی مناظر کی محتاج ہے۔مزاج یار کی طرح اب دنیا بھر کے موسموں میں بھی تغیر آرہا ہے، تو شجر کاری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔
وطن عزیز جو بنیادی طور پر زرعی ملک ہے لیکن درختوں اور جنگلات کی بری طرح کمی کا شکار ہے۔

عالمی بینک نے ۱۹۹۵ میں ملکی ترقی کے عنوان سے کئے گئے سروے میں جنگلات کی تعداد %۱۰۹ بتائی جبکہ بھارت میں یہ تعداد %۲۳۰۷ ہے۔ درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ قرآن و حدیث میں پودے و درخت لگانے کی تاکید اور اس پر بے شمار اجر و ثواب کی خوشخبری دی گئی ہے۔ ایک مسلمان ملک ہوتے ہوئے آبِ رواں کی وافر مقدار کے ساتھ بھی ہمارا ملک کیسا ویران اور روکھا نظر آتا ہے۔ جنگل ہوتے تو عشاق کم از کم اپنے اور اپنے محبوب کے نام تو وہاں لکھ آتے ، کوئی عندلیب مونس ہجراں ہوتی کہ مل کر آہ و زاریاں ہی کرلیتے۔ پھول پودے اور درختوں کی افادیت سے سب ہی واقف ہیں۔ ان انمول قدرتی تحفوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان کے بارے میں معلومات بہت ضروری ہے ورنہ ہم نقصان بھی اٹھا سکتے ہیں۔ گرم اور معتدل موسم والے علاقوں کے لئے نیم، جامن، آم، سکھ چین اور سوہانجنا کے درخت موزوں ہیں۔ ٹھنڈی چھاؤں والے یہ درخت نہ صرف مضبوط ہوتے ہیں بلکہ چرند پرند اور انسانوں کے لئے یکساں مفید ہیں۔ اس کے علاوہ پپیتا، کھجور، ناریل اور صنوبر ہر موسم میں کاشت کئے جاسکتے ہیں۔ یہ تمام درخت بارش لانے والے بھی کہلاتے ہیں اور نظروں کو فرحت بخشتے ہیں۔ جن علاقوں میں بارش تباہ کن حد تک ہوتی ہے وہاں بارش روکنے والے درخت لگائے جاتے ہیں مثلاً کونوکارپس ۔ یہ درخت ہر ۲۴ گھنٹے بعد ایک گیلن پانی جذب کرلیتا ہے جس سے سیلاب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پھولوں کی حفاظت ۔ایمن طارق

سڑک کنارے لگے درخت اور پھول شہر کو جاذب نظر بناتے ہیں۔ سردیوں کی نرم دھوپ میں صحن میں لگے مختلف، سبزیاں اور پیڑ بہترین ساتھی ہوتے ہیں اور ماضی اور حال کی تلخ یادوں کو بھلانے کے بھی کام آتے ہیں ۔کوئی بھلا سا نغمہ گنگناتے ہوئے اپنے گملوں یا کیاری میں رات کی رانی، گل عباس، چنبیلی، موتیا، گیندے، گلاب، سدا بہار کی آبیاری کیجئے۔ یہ بے زبان پودے آپ کے قلب و ذہن پَر،سکون آور ادویات کی طرح اثر کریں گے ۔شرط صرف محبت ہے۔لوگ تو شاخ گل لاکر قریب آشیاں رکھیں گے لیکن آپ نے خیال رکھنا ہے کہ کبھی شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زبان نہ رکھ دیں۔ مناسب انتظامات کے ساتھ باغبانی کے ان لمحات کو انگیز کریں پھر دیکھیں کہ “تم، میں اور ایک کپ چائے” پینے میں کیا لطف آئے گا۔ گھر والوں کی پرشکوہ نظروں کی پرواہ نہ کریں, جب آپ کا لگایا ہوا پودینہ سلاد کے اوپر پڑا مسکرائے گا تب وہ بھی آپ کی صلاحیت کے قائل ہوجائیں گے ۔ اپنے پودوں کی اچھی نشوونما اور گھر سے کچرے کا بوجھ کم کرنے کے لئے کوئی پرانی بالٹی یا کنستر لیں اس کے اطراف میں بٹن کے برابر سوراخ کرلیں ، اس کے اندر مٹی ڈالیں، پھر سوکھے پتے پھر اپنے باورچی خانے کا کچرا گوشت ہڈی کے علاوہ ڈالتے رہیں ، تھوڑے عرصے میں کمپوسٹ کھاد تیار ہوگی وہ اپنے درخت و پودوں کو دیجئے۔ چھ مہینے میں آپ کو ضرور کوئی خوشخبری ملے گی .