ایک جملہ - جانیتا جاوید

تم اس قابل نہیں کہ تم پر بھروسہ کیا جاسکے . یہ جملہ تھا ایک ماں کی طرف سے اپنے بچے کے لئے! میں یہ سوچتی ہوں کہ جب ماں باپ ہی اپنے بچوں کے لئے اس قسم کے جملے استعمال کریں گے تو بچوں کی شخصیت پر کیسا اثر پڑے گا۔۔۔۔بچوں کے بگڑنے میں والدین کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ آس پاس کتنے ہی بچے ہیں جو اس قسم کے جملوں سے دل برداشتہ ہوجاتے ہیں ۔ بیشک انہوں نے غصہ میں بولا ہوگا اور پھر بھول بھی گئے ہونگے۔

مگر بچے ، وہ نہیں بھول پاتے ۔ یہ بات انکے ذہن سے چمٹ جاتی ہے کہ وہ برے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں بچوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ برے ہیں ، نالائق ہیں ، یا کچھ کر نہیں سکتے اور یہ بات ذہن نشین کرانے والے انکے اپنے والدین ، اساتذہ اور گھر والے ہی ہوتے ہیں ۔ بچے بہت حساس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں ۔ انکو ڈیل کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے اور ہر بچے جو ڈیل کرنے کا الگ طریقہ ہوتا ہے۔ جیسے ایک ہی گھر میں ایک پڑھنے والا بچہ ہوتا ہے اور ایک اچھا نہیں پڑھ پاتا ۔ بات یہ ہے کہ دوسرا بھی ذہین ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی دلچسپیاں مختلف ہوں ۔ اس طرح دل آزاری والے جملوں سے ہم انکی شخصیت کو خراب کردیتے ہیں پھر انکو لگتا ہے کہ دوسرا ہی ان سے بہتر ہے ۔

والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی نیچر کو سمجھیں ، بچوں کا دوسروں سے موازنہ نہ کریں اور اس طرح کے جملوں سے گریز کریں ۔ بیچ محفل میں تعریف کریں انکی ، یہ چیز انکے حوصلوں کو بلند رکھے گی مگر اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ غلط بات کی حوصلہ افزائی نہ کریں اور سمجھائیں تو اکیلے میں پیار سے یا کسی بھی مثال سے۔ یہ بچے ہی ہمارا سرمایہ ہیں ، اگر ہم ہی انکی شخصیت خراب کردینگے تو اگے کی نسلیں برباد ہوجائیں گی ۔ والدین اس بات پہ ضرور توجہ دیں اور بچوں سے نرمی سے پیش آئیں ۔ سختی بھی ضروری ہوتی ہے مگر ایک حد تک، بے جا سختی انکو ڈھیٹ بنا دیتی ہے ۔ پھر آخر میں ہم ہی رونا رو رہے ہوتے ہیں کہ بچہ ہی بگڑ گیا !