چمکتی ہوئی دوکان سیاست - ام عمار

کچھ باتیں ہمارے یہاں زبان زد عام ( سوشل میڈیائی زبان کے مطابق وائرل یا ٹاپ ٹرینڈ ) ہیں۔ جیسا کہ یہ جملہ ہمارے بچے بچے کو یاد کرا دیا گیا ہے کہ
" مولوی دین کے نام پر سیاست کرتے ہیں " سب نے سنا ہی ہوگا ؟ خاص طور پہ الیکشن کے دنوں میں یہ باتیں ضرور ہی ہماری سماعت سے ٹکراتی ہیں
کہ " یہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنا اس کے مسائل کو حل کرنا ان دیندار لوگوں کے بس کا کام نہیں ۔"

" یہ تو بس دین کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہےہیں" سیاست سے ان کا کیا لینا دینا ؟ یہ تو بس مسجد و مدراس سنبھال لیں یہی بہت ہے... اور اسی بات کا اظہار ہمارے سابق صدر جرنل ایوب خان نے بڑی معصومیت سے مولانا مودودی رحمہ اللہ کے سامنے بھی کردیا تھا کہ .. "مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کے اسلام کا سیاست سے کیا تعلق ہے ؟ " یہ سوال چونکہ ایک مدبر شخصیت سے کیا گیا تھا تو جواب بھی انتہائی جچا تلا تھا کہ .. "یہ بات تو صرف آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی نا مگر پوری قوم کی سمجھ میں یہ تو بات نہیں آرہی کہ فوج کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟ " اب ہم جیسے سادہ لوح عوام جس کی سوچ بنانے کا ٹھیکہ ہمارے میڈیا کے سپرد ہے۔ وہ اتنا غور فکر کہاں کرتے ہیں کہ انہیں یہ نظر آئے کہ اصل میں دین کے ذریعے اپنی سیاست کی دوکان کون چمکا رہا ہے ؟ اور کون باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ دین کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کررہا ہے؟ (جس کی عملی ذندگی میں دین کا ذیادہ عمل دخل بھی نہیں ہے ) خواہ وہ مرحومہ بے نظیر صاحبہ کے سر کا دوپٹہ یا ہاتھ میں پکڑی تسبیح ہو یا ہمارے تین مرتبہ منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف صاحب کی ٹوپی پہنے مسجدوں اور درگاہوں کے دورے کی تصاویر ہوں جو "مناسب موقعوں" پہ میڈیا پہ گردش کرتی تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی ٹی 20 فیصل آباد! شیخ خالد زاہد

اور ان سب کو پیچھے چھوڑ جانے والے ہمارے موجودہ وزیراعظم صاحب کی تو بات ہی الگ ہے۔ جو میوزک کی دھنوں پہ جب خطاب کے لیے تشریف لاتے اور اس کے آغاز میں یہ قرآنی آیت " ایاک نعبد وایاک نستعین" پڑھتے تو بس سماع بندھ جاتا پورا مجمع لڑکے لڑکیاں مل کر بھنگڑا ڈالنا شروع ہوجاتے ۔ اور انہوں نے الیکشن سے پہلے "مدینہ کی ریاست" کا دلفریب نعرہ لگا کر تو بڑے بڑوں کے دلوں کو موم کردیا تھا .. اچھے خاصے دیندار لوگ بھی اس سریلے نعرے کی ترنگ پہ لہک اٹھے تھے
اور عوام کے کانوں کو تو یہ نعرہ اتنا بھلا لگا اور وہ تو یہ دیکھ کر ہی صدقے واری ہوگئے کہ "یہ آکسفورڈ سے پڑھا منہ اور ریاست مدینہ کی بات " کیا کہنے ہیں ماشاءاللہ ، سبحان اللہ سبحان اللہ ، یہ ہوتا ہے نا لیڈر اور یہ ہوتا ہے وژن ۔ بس جی حکومت قائم ہوگئی . سال سے زیادہ ہوگیا کوئی ایسا کام دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں ہیں کہ جس سے ریاست مدینہ کی کوئی ہلکی سی جھلک بھی دکھائی دیتی۔ (بلکہ زیادہ کام اسلامی تشخص کو مٹانے والے نظر آرہے ہیں)
خیر جیسے ہی عوام تھوڑا بے چین نظر آتی ہے۔ وزیراعظم کی احرام میں ملبوس اپنی باپردہ اہلیہ کے ساتھ مکہ مدینہ کی گلیوں میں چہل قدمی کرتی ایسی دلفریب تصاویر پورے میڈیا پہ چھا جاتی ہیں . کہ قوم سبحان اللہ سبحان اللہ . پڑھنے پہ مجبور ہو جاتی ہے ۔ لیکن بس پوری قوم کو یہ بات ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ
" دین کے نام پر سیاست صرف مولوی کرتے ہیں "