گالی گلوچ‎ - بشارت حمید

ہمارے اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ آپس میں گپ شپ کرتے ہوئے ہنسی مذاق میں ایک دوسرے کو گالی دیں گے یا کسی کے بارے کوئی بات کریں گے تو اس شخص کو یا کام کو گالی دے کر بات کریں گے۔ پھر گالی کی مختلف اقسام ہیں جو کتا، سور وغیرہ سے لے کر دوسرے کی ماں بہن بیٹی کو کم سے کم اپنی زبان سے ننگا کرنے تک چلی جاتیں ہیں۔

دوستوں کی محفل میں بے تکلفی سمجھا ہی اسے جاتا ہے جب ایک دوسرے کو غلیظ ترین اور گھٹیا ترین گالی دے کر بات کی جائے۔ یہ کلچر اتنا عام ہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں کی ڈگریاں بھی انکا کچھ بگاڑ نہیں پائیں اور جاہلوں کی طرح انکی اکثریت بھی گالی دینا فرض عین سمجھتی ہے۔گالی کے الفاظ جو زبانوں پر اتنے پکے چڑھ چکے ہیں کہ بات کرتے وقت جب تک گالی کی آمیزش نہ ہو تو بات کرنے والا سمجھتا ہے کہ بات میں وزن نہیں پڑا اور گالی کے بغیر بات مکمل بھی نہیں ہوئی ذرا ان الفاظ کو حقیقت میں اپلائی کرنے کا تصور تو کریں۔ کسی کی ماں بہن یا بیٹی کے بارے جو بکواس ہم کرتے ہیں کیا ویسا عمل ہم وقوع پذیر ہوتا دیکھنے کی تاب رکھتے ہیں؟ جو ہم گالی میں دوسرے کو کہتے ہیں کیا اپنے ساتھ یا اپنی فیملی کے ساتھ وہی کچھ ہوتا پسند کریں گے؟ ہر بات میں گالی دینے والا اپنے والدین کی تربیت اور انکے بارے کیا تاثر دوسروں پر چھوڑتا ہے اس بارے بھی کبھی خیال آیا؟ جو بندہ خود ماں کا بیٹا ہے بہن کا بھائی ہے بیوی کا شوہر ہے بیٹی کا باپ ہے وہ کس زبان سے دوسروں کو ماں بہن کی گالیاں دے سکتا ہے۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ یقینی طور پر گالیاں ہم عادتاً اور غیر ارادی طور پر دیتے ہیں اور یہ ہمارے اس ماحول کا اثر ہوتا ہے جس میں ہمارا اٹھنا بیٹھنا رہتا ہے۔

ہمیں دوران گفتگو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا جب تک کہ کوئی دوسرا توجہ نہ دلائے۔ ہم جس محفل میں بیٹھتے ہیں اگر تو خود کردار اور گفتار میں مضبوط ہوں تو اس محفل پر اپنا اثر ڈالتے ہیں ورنہ پھر اس کا اثر قبول کرکے اسی کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ حدیث مبارکہ میں گالی دینا منافق کی نشانی بتائی گئی ہے۔ جو بندہ گالیاں دیتا ہے وہ کسی سنجیدہ محفل میں اپنا اچھا تاثر نہیں چھوڑتا۔ آئیے ہم اپنا جائزہ لیں اور اپنی بول چال کو خود مانیٹر کریں اور اپنی زبان کو گالیوں کی نجاست سے پاک کرکے اسے اللہ کے ذکر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے سے مزین کریں۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ جو بندہ گالی نہیں دیتا اس کی بات بھی مکمل اور وزن دار ہوتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں اسکی عزت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہم سب جنت میں داخلے کے خواہشمند ہیں۔ اللہ تعالٰی نے جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں جنتی لوگ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے بس سلام سلام پکارا جائے گا۔ یعنی لغو بات کا سننا بھی ایک نفیس طبع انسان کی طبعیت پر بہت گراں گزرتا ہے کجا کہ وہ خود لغویات میں ملوث ہو جائے۔ یاد رکھئے کہ بات چیت گالی کے بغیر بھی کی جا سکتی ہے اور ہماری آپس کی بے تکلفی گالی کے بغیر بھی ہو سکتی ہے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.