مولانا طارق جمیل صاحب ، غامدی صاحب اور مغالطہ - حسین اصغر

طارق جمیل صاحب آج کل حکمرانوں کے لئے جن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کچھ عرصے پہلے تک وہ کوٹ لکھپت جیل میں اس شریف زادے کے لئے بھی اس ہی طرح کے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اب ہم جیسے قاری کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں بند قیدی امیرالمومنین تھا یا موجودہ اقتدار میں مقتدر حلقوں کا سلیکٹیڈ امیرالمومنین ہے خیر سے صورت حال یہی رہی اور کل مقتدر حلقوں نے اگر مہوش حیات کو اقتدار کی سیر کرادی تو مولانا کہ خیالات دیکھنے کے قابل ہونگے کیونکہ کوئی خدمت اور صلاحیت تو ہوگی جس بنا پر عمرانی حکومت نے صدارتی ایوارڈ سے نوازا ہے ۔

ایک بار شاگردوں نے استاد سے پوچھا:

مغالطہ سے کیا مراد هے؟

استاد نے کہا:اس کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں.دو مرد میرے پاس آتے ہیں. ایک صاف ستھرا اور دوسرا گندا.
میں ان دونوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کرکے پاک و صاف ہو جائیں.
اب آپ بتائیں کہ ان میں سے کون غسل کرے گا؟

شاگردوں نے کہا: گندا مرد.
استاد نے کہا:نہیں بلکہ صاف آدمی ایسا کرے گا کیونکہ اسے نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
بچوں نے کہا: صاف آدمی.
استاد نے کہا:نہیں بلکہ گندا نہائے گا کیونکہ اسے صفائی کی ضرورت ہے.
پس اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟

سب نے کہا: گندا.
استاد نے کہا :نہیں بلکہ دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے جبکہ گندے کو نہانے کی ضرورت ہے.
اب بتائیں کہ کون نہائے گا؟
سب نے کہا :دونوں.
استاد نے کہا:نہیں کوئی نہیں. کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں جبکہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں.

اب بتائیں کون نہائے گا؟
بولے :کوئی نہیں.
شاگرد بولے:استاد آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب درست معلوم ہوتا ہے. ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو؟
استاد نے کہا:مغالطہ یہی تو ہے

یہ بھی پڑھیں:   ہمتِ کفر ملے ، جرأتِ تحقیق ملے- تزئین حسن

تمام سلسلے اب دار سے ملے ہوئے ہیں
فقہی شہر بھی اب سرکار سے ملے ہوئے ہیں
ادھر حُسین کے لشکر میں نام شامل ہے
اُدھر یزید کے دربار سے ملے ہوئے ہیں

مولانا طارق جمیل ایک داعی کی حیثیت سے نواز،زرداری،مشرف یا عمران سے ملیں کسی سودی کاروباری یا سیاستدانوں سے ملیں ہمیں اعتراض کیسے ہو سکتا ہے مگر مولانا کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ حکومت سے لے کر شوبز تک ہر چور اچکے شخص پر اپنی مہر تصدیق نصب کریں اور ہم جیسے عوام کے لئے قابل قبول بنایا جائے۔
کیا خوب مشورہ دیا تھا مفتی سید عدنان کاکا خیل نے مولانا طارق جمیل صاحب کو جب وہ حکومت کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے
‏”علماء کرام اگر کسی مصلحت کی بنا پر غیر اسلامی تصورات پر مبنی کانفرنسوں میں شرکت ضروری سمجھیں تو کم از کم اس موضوع سے متعلق قرآن و سنت کی نصوص واضح انداز میں ضرور پیش فرمائیں ۔۔ ورنہ ان کی شرکت کو تائید و حمایت سمجھا جاۓ گا اور مغربی تصورات کو اسلامی سمجھا جانے لگے گا”

شاعر بھی ہیں پیدا، عُلما بھی، حُکما بھی
خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

حکمران معیشت IMFکے سپرد کر دیں، عبدالشکورقادیانی ،وجہل اسعد اور آسیہ ملعونہ کو بھگا دیں،سلامتی کونسل میں بھارت کے حق میں ووٹ دے دیں، سود در سود پر قرضے لیں، شہریوں کو بلاعدالت غائب کرائیں لیکن مولانا کہ کان میں چوں تک نہیں رینگتی اور دوسری طرف مولانا نے ہر حکمران کے آس پاس پھٹکتا نظر آنا ہے۔ کبھی رمضان ٹرانسمیشن میں اداکاراوں کے شو پر آواز بلند ہونے لگے تو یہ اس کا جواز نکال لیتے ہیں، جب سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی ہٹ دھرمی کے خلاف کمر کس لیں تو یہ رضاکارانہ وڈیو بنا کر دفاع میں حاضر ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کو بتاتے رہے ہیں کہ سیاست سے دور رہیں۔

لیکن اب یاد رہے، یہ آفر صرف جرنیلوں، حکمرانوں، اداکاراوں کے لئے ہے، ورنہ عوام کا تو ریڑھی والا بھی چور ہے جس کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں ۔ دنیا میں دین کا جو تصور کچھ مقصود مزہبی جماعتوں نے ایسا پیش کیا کہ جس سے دین ایک مزہبی رسومات سے زیادہ اہمیت حاصل نا کر سکا اس لئے لوگوں کی بڑی تعداد نے اس کو قبول کیا اس میں کسی کا کچھ نہیں جاتا آپ کاروبار کریں اس میں جس نوعیت کی کرپشن کریں اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے !

یہ بھی پڑھیں:   ہمتِ کفر ملے ، جرأتِ تحقیق ملے- تزئین حسن

آپ گھر سے لے کر محلے تک کسی کے حقوق پر ڈاکا ڈال دین اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکل ایسے ہی جیسے ہم خود دیکھتے ہیں کہ ہر مذہبی فرقے کا کارکن بڑی تعداد میں ن لیگ ، پی پی پی ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو ووٹ دیتا ہے اور بھرپور دیتا ہے ورنہ ان لوگوں کو اتنی بڑی پبلک سپورٹ نہیں مل سکتی کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا اسلام کے تصور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے یعنی اسلام صرف کچھ ایسے کام کرنے کا نام ہے جس سے انسان ظاہری پکا مسلمان لگے ۔

اب موجودہ دور میں جب عوام کا رابطہ پوری دنیا سے ہوگیا ہے تو اس کو کسی نئے تصور دین کی ضرورت تھی جو اسلامی نظام زندگی کو مزید آسان اور سہل کر دے اور تمام تقاضوں سے آزاد کر دے تو اب آپ کو جابجا غامدی صاحب کا تصور دین مل جائے گا آپ خود اندازہ لگائیں کے فواد چودھری جیسے پکے سیکیولر بھی ٹوئیٹ کرتا ہے کہ میں کسی کو عالم نہیں مانتا میرے عالم غامدی صاحب ہیں۔تو ایسی صورت حال میں نبی ﷺ کے تصور دین کو سمجھنا کتنا مشکل ہوجاتا ہے آپ اس موضوع پر بات کر کے دیکھ لیں۔

جِس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بُوٹ،

ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تُھو۔

زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور،

عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو۔