ماَے نی ماَے - میمونہ بلوچ

آج میرے بیٹے کے اسکول میں"مدرز ڈے" منایا جا رہا ہے اور مجھے بھی اس موقع پر مدعو کیا گیا ہے، میں نے تمام کام جلدی سے نمٹاے اور جانے کیلئے تیار ھو گیءـ جانا بہت ضروری تھا کہ جاتے ہوئے میرے بیٹے نے تاکید کی کہ امی ! آپ نے ضرور آنا ہے، میں سکول جانے کےلیے روانہ ہوئی ـ

اسکول میں بہت چہل پہل تھی، یہ ایک ایسا سکول تھا جہاں زریعہِ تعلیم انگریزی زبان ہے، والدین کی اشد خواہش ہوتی ہے کہ انکے بچے انگریزی تعلیم حاصل کریں اور اسکے لئے وہ اپنے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہیں، میں نے بھی اپنے بچے کو ایسے ہی ایک اسکول میں داخل کیا، آج مدرز ڈے تھا، اسکول کی پرنسپل نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا، تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا، کچھ اساتذہ اور ایک دو ماوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، اسکے بعد کچھ کھیل کھیلے گئے اور یہ مقا بلہ ماوں کےلیے تھا، سب بہت محظوظ ہوے، اسکے بعد تقسیمِ انعامات کا مرحلہ آیا، جیتنے والوں کو فرداً فرداً سٹیج پر بلایا گیا اور انعامات دیئے گئے، اچانک میرا نام پکارا گیا اور ایک سرٹیفکیٹ میرے ہاتھ میں تھمایا گیا اور کہا گیا کہ یہ اپنے بچے کو ھمیشہ گھر کا بنا ہوا کھانا لنچ باکس میں دے کر بھیجتی ھیں اس لیے یہ اس تعریفی سرٹیفکیٹ کی مستحق ہیں، میں نے سرٹیفکیٹ وصول کیا، تالیاں بجنے لگیں، میں جب واپس اپنی نشست پر آ کر بیٹھی تو سوچنے لگی کہ آخر باقی ماییںء اپنے بچوں کو لنچ میں کیا دے کر بھیجتی ھونگی، کیا یہ میرا فرض نہیں تھا کہ میں اپنے بچے کو کھانا بنا کر لنچ باکس میں ڈال دوں ـ

تقسیمِ انعامات کی تقریب کے بعد تمام ماوں کو چائے پیش کی گئی، اچانک پرنسپل کی نظر مجھ پر پڑی اور وہ چائے کا کپ تھامے میری طرف چلی آئیں اور کہنے لگیں کہ آپ کی بہت ہمت ھے کہ آپکا بچہ ایک سال سے یہاں پڑھ رہا ہے اور ہر روز صبح آپ اسکو گھر کا بنا ہوا کھانا دیتی ہیں، میں نے حیرت سے پوچھا کہ باقی تمام مائیں اپنے بچوں کو کیا دیتی ہیں ، پرنسپل کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور گویا ہوئی کہ ماوں کے پاس آجکل اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں، وہ انکے ہاتھ میں پیسے تھمادیتی ہیں اور بچے یہاں کنٹین سے غیر صحت بخش چیزیں لے کر کھاتے ہیں یا پھر انکے والد یا والدہ سکول چھوڑ تے وقت انکو بیکری سے کچھ لے کر دے دیتے ہیں، ھماری یہ خواہش ہے کہ بچے گھر کا بنا ھوا کھانا کھائیں، یہ کہہ کر پرنسپل ایک دوسری خاتون کیطرف چل پڑی، میں سوچنے لگی کہ آج کل کے بچے کن حالات میں بڑے ہو رہے ہیں، ماوں کے ہاتھ کا بنا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، مجھے اپنا بچپن یاد آگیا کہ میری والدہ کبھی دیسی گھی کی چوُری اپنے ہاتھوں سےبنا کر ایک ڈبے میں سکول کے لئے دیتی تھیں اور کبھی آلو کا پراٹھا جسکی خستگی اور خوشبو مجھے آج بھی نہیں بھولی، یہی چیزیں میں اپنے بیٹے کو بنا کر دیتی تھی ـ
کیا آجکل کی ماوں کے پاس واقعی اپنے بچوں کو پکا کر کھلانے کا وقت نہیں...... سوچنے کی بات ہے ـ