لبرل اور مولانا- خورشید ندیم

پاکستان کا لبرل طبقہ فی الجملہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کھڑا ہے۔ بہت سوں کیلئے یہ اچنبھے کی بات ہے۔ میرا خیال ہے لوگوں نے دونوں کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔
بطور تمہید یہ وضاحت ضروری ہے کہ لبرل سے میری مراد وہ طبقہ ہے جس نے لبرل ازم کو بطور طرزِ حیات اپنا رکھا ہے۔ نظریاتی لبرل اور سماجی لبرل میں فرق ہے۔ نظریاتی لبرل وہ ہے جو خود کو کسی عقیدے یا الہامی ہدایت کا پابند نہیں سمجھتا۔ وہ انسان کی مطلق آزادی کو بطور قدر قبول کرتا ہے۔ سماجی لبرل وہ ہے جو ممکن ہے کہ خود کو کسی خاص عقیدے کا پابند سمجھتا ہو لیکن اسے دوسروں پر بزور نافذ کرنے کا قائل نہیں اور ان کو بھی یہ حق دیتا ہو کہ وہ اپنی مرضی سے جو عقیدہ یا آئیڈیالوجی چاہیں، اختیار کر سکتے ہیں۔ نظریاتی لبرل، سماجی لبرل بھی ہوتا ہے لیکن سماجی لبرل لازم نہیں کہ نظریاتی لبرل بھی ہو۔ مذہبی انتہا پسندوں کی طرح ایک طبقہ لبرل انتہا پسندوں کا بھی ہے لیکن وہ یہاں زیرِ بحث نہیں۔

مولانا فضل الرحمن ایک مذہبی آدمی ہیں لیکن وہ سماجی لبرل بھی ہیں۔ یوں ان کے ذاتی تعلقات کا دائرہ اہلِ مذہب تک محدود نہیں۔ سیاست اپنے مزاج میں لبرل ہوتی ہے۔ جو سیاست دان سماجی اعتبار سے لبرل نہ ہو، اس کا دائرہ اثر ہمیشہ محدود رہتا ہے۔ وہ کبھی اپنے نظریاتی تنگنائے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ہم نے بڑے بڑے لوگوں کو سیاست میں اس لیے تنہا دیکھا کہ وہ 'نظریاتی سیاست‘ کے علم بردار ہی نہیں تھے، سماجی اعتبار سے بھی 'نظریاتی‘ تھے۔ اپنے ہم خیالوں ہی میں گھرے رہنے کے سبب وہ معاشرے سے کٹتے چلے گئے۔ مولانا فضل الرحمن کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی مجلس میں متنوع نظریاتی پس منظر رکھنے والے خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتے۔
مولانا فضل الرحمن، پاکستان کی سیاست میں مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود کے وارث ہیں۔ ان بزرگوں نے 'مولانا مودودی کے اسلام‘ پر 'بھٹو صاحب کے سوشلزم‘ کو ترجیح دی۔ یہ 1970ء کے انتخابات کا واقعہ ہے۔ اسی بات سے اختلاف کرتے ہوئے، مولانا احتشام الحق ان سے الگ ہوئے اور انہوں نے اپنی الگ جمعیت علمائے اسلام بنائی جو تاریخ کے دھندلکے میں غائب ہو گئی۔ اس سے پہلے ہمیں معلوم ہے کہ مفتی محمود صاحب کے بزرگوں نے کانگرس کو مسلم لیگ پر ترجیح دی جو مسلمانوں کی سیاست کر رہی تھی۔
سیاست میں وسیع المشربی دیوبندی علما کی وہ روایت ہے مولانا فضل الرحمن جس کے وارث ہیں۔ اس لیے اگر آج وہ اور پاکستان کا لبرل طبقہ ایک مقصد کے لیے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ تاریخی تسلسل میں یہ قابلِ فہم ہے۔ یہ کسی کلی اتفاق کا معاملہ نہیں۔ ایک درپیش مسئلے میں ہم آہنگی کا قصہ ہے۔

پاکستانی لبرلز نے گزشتہ دو تین برسوں میں جمہوری قدروں اور کلچر سے وابستگی کا جو مظاہرہ کیا ہے، وہ اس پر فخر کر سکتے ہیں۔ بطور طبقہ اگر کسی نے جمہوریت کا علم اٹھائے رکھا ہے تو وہ یہی لبرل ہیں۔ جس طرح بلند آہنگ ہو کر انہوں نے جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کا مقدمہ لڑا ہے، وہ ہماری تاریخ کا یادگار واقعہ ہے۔ اس میں عاصمہ جہانگیر کا کردار قائدانہ تھا۔ جس جرأت اور بہادری کے ساتھ انہوں نے پاکستان کی سیاست کے تلخ حقائق کو بے نقاب کیا، اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ یہ انہی کا دیا ہوا حوصلہ ہے کہ آج وہ بات برسرِ بازار کہی جا رہی ہے، جسے لوگ خود کلامی کے انداز میں کہنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے تھے۔
میڈیا میں بھی جس طبقے نے جرأت کے ساتھ عاصمہ جہانگیر کا کردار نبھایا، وہ یہی لبرل طبقہ ہے۔ ان کے ٹی وی پروگرام بارہا بند ہوئے۔ ان کے کالم اخبارات میں شائع نہیں ہو سکے۔

کچھ لوگ ملک سے باہر جا بسے۔ ان کی حب الوطنی کو چیلنج کیا گیا۔ اس کے باوجود وہ کھڑے رہے۔ یہ طبقہ نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود جنرل مشرف کے خلاف بھی کھڑا ہوا کہ جمہوریت کے ساتھ وابستگی کا یہ ناگزیر تقاضا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے بھی ایک مرحلے پر اسی وابستگی کا اظہار کیا جب وہ جنرل ضیاالحق کے خلاف کھڑے ہوئے۔ نظریاتی اعتبار سے وہ ضیاالحق سے زیادہ قریب تھے لیکن سیاسی طور پر انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اتحاد بنایا۔ انہوں نے مولانا سمیع الحق اور قاضی عبداللطیف جیسے دیوبندی علما کا سینیٹ میں پیش کردہ شریعت بل بھی اس وجہ سے قبول نہیں کیا کہ وہ ضیاالحق سے قریب تھے۔
اس میں شبہ نہیں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح، مولانا نے اپنے گروہی‘ سیاسی مفادات کیلئے اس اصول سے انحراف بھی کیا، جیسے متحدہ مجلسِ عمل کے محاذ سے جنرل مشرف کی حمایت یا سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کا استحصال؛ تاہم بحیثیت مجموعی، انہوں نے جمہوریت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور اسی بات نے لبرل طبقے کو ان کے ساتھ لا کھڑا کیا۔

اس اتحاد کا تعلق تاریخی جبر سے بھی ہے۔ پاکستان کا لبرل طبقہ تاریخی اور فطری اعتبار سے پیپلز پارٹی سے قریب تر ہے۔ پیپلز پارٹی علانیہ لبرل خیالات رکھنے والی جماعت ہے؛ تاہم آصف زرداری صاحب کے دور میں، جب اس جماعت نے صرف اقتدار کی سیاست کی اور جمہوری اقدار کے بجائے، اسٹیبلشمنٹ سے قربت کو ترجیح دی تو لبرل طبقہ پیپلز پارٹی سے مایوس ہونے لگا۔ دوسری طرف نواز شریف ایک نظری و سیاسی ارتقا سے گزرے۔ اس کے نتیجے میں وہ اسٹیبلشمنٹ سے نہ صرف دور ہوئے بلکہ وقت نے انہیں اس کا حریف بنا کر کھڑا کر دیا۔ اس کے ساتھ ان کی خیالات میں بھی ایک تبدیلی آئی۔ وہ ماضی میں نظریاتی سطح پر مذہبی جماعتوں سے قریب اور پاک بھارت تعلقات جیسے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کے موقف کے مؤید تھے۔ اب وہ دائیں بازو کے بجائے قومی سیاست کے علم بردار بن گئے۔ اس نے انہیں مذہبی جماعتوں سے دور اور لبرل طبقے سے قریب کر دیا۔

نواز شریف اور مریم نواز جب جیل چلے گئے تو نون لیگ اس جذبے کے ساتھ نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ گنتی کے چند افراد کے علاوہ کم و بیش سب نے مفاہمت کی راہ اپنائی۔ شہباز شریف اس گروہ کے سرخیل تھے۔ آزادی مارچ میں ان کی تقریر سے بھی یہی اندازہ ہوا کہ وہ ایک بار پھر مسلم لیگ کو مقتدر حلقوں کے باندی بنانے کیلئے آمادہ ہیں۔اس پس منظر میں مو لانا فضل الرحمن واحد قومی راہنما کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے جرأت کے ساتھ غیر جمہوری حلقوں کو للکارا اور عوام کی حاکمیت کا مقدمہ پیش کیا۔ یوں جمہوریت کی حمایت کرنے والوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ رہا کہ وہ مولانا کی تائید کریں۔ یہ مخمصہ صرف انہیں نہیں، بہت سے ایسے حلقوں کو بھی درپیش ہے جو عوام کی حاکمیت چاہتے ہیں، اور اس سیاسی بندوبست کو ناجائز سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ کسی غیر جمہوری یا غیر آئینی طریقے سے تبدیلی بھی نہیں چاہتے۔

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ مولانا کے کمزور ہونے کا مطلب جمہوریت پسندوں کا کمزور ہونا ہے لیکن اگر وہ تصادم کی طرف بڑھتے تو ان کی حمایت کا مطلب ایک ایسے اقدام کی تائید ہے جس کا نتیجہ سماجی فساد ہو سکتا ہے اور جو غیر آئینی بھی ہے۔ کسی گروہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ریاستی اداروں پر چڑھ دوڑے۔ اگر خدانخواستہ ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو میرے نزدیک اس کی تمام تر ذمہ داری ان قوتوں پر ہو گی جو عوام کی مرضی کے بغیر ان پر ایک خود ساختہ سیاسی بندوبست مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ عوامی جذبات کو منطق کے تابع کرنا مشکل ہوتا ہے۔
حاصل یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن لبرلز کا انتخاب نہیں لیکن یہ وقت کا جبر ہے جس نے سب جمہوریت پسندوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہنے دیا کہ وہ مولانا کی حمایت کریں۔ پیپلز پارٹی اگر اپنا قومی کردار ادا کرتی اور نون لیگ نواز شریف کے بیانیے سے کسی حقیقی وابستگی کا ثبوت دیتی تو وہ خلا واقع نہ ہوتا جس کو اب مولانا فضل الرحمن نے بھر دیا ہے۔