پولنگ سٹیشن سے ڈی گرائونڈ تک کا سفر- خالد مسعود خان

زاہد فخری سے میرے تعلق اور محبت کی کئی پرتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ میرے مرحوم بھائی طارق محمود خان کا بہت ہی عزیز دوست تھا۔ دوسری یہ کہ وہ اپنے دور میں ایک بہترین مقرر اور خطیب تھا‘ تب ہم اس میدان میں بہت جونیئر تھے اور زاہد فخری‘ چوہدری نعمت اللہ‘ چوہدری عاشق کنگ‘ قمر فاروق‘ نعیم رضا ناز اور بڑے بھائی طارق محمود خان سے فنِ تقریر کے رموز سیکھا کرتے تھے اور انہیں سن کر اس فن میں اپنی استعداد بڑھایا کرتے تھے۔ زاہد فخری تب بھی اپنی شاعری کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔ بعد میں اس نے شاعری کے حوالے سے اپنا ایک مقام بنایا۔ نظم‘ غزل‘ گیت‘ سلام اور خاص طور پر نعت کے حوالے سے اس نے بڑا نام پیدا کیا‘ پھر وہ مزاحیہ شاعری کے میدان میں داخل ہوا اور نہایت ہی مختصر عرصے میں اس صنف میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ ''کدی تے پیکے جا‘ نی بیگم‘‘ کے مصرعے والی اپنی شہرہ ٔآفاق نظم کے طفیل اس نے جتنی شہرت اور پذیرائی حاصل کی‘ اس کی مثال کسی ایک مزاحیہ نظم کے حوالے سے دینا مشکل ہے۔ شاعری‘ تقریر اور لطیفہ گوئی اس کے خاص میدان ہیں۔ لطیفہ گوئی اور جگت بازی ''لائل پوری‘‘ ہونے کے ناتے اس کی روح کا حصہ ہیں‘ تاہم قصہ گوئی اور واقعہ بیان کرنے پر بھی اسے ید طولیٰ حاصل ہے۔ ایک باراس نے فیصل آباد میں ہونے والی ایک ادبی تقریب کا واقعہ سنایا۔

صاحب تقریب کا نام لکھنا مناسب نہیں۔ مقصد واقعہ سنانا ہے‘ کسی کو خراب و خستہ کرنا نہیں۔ ویسے بھی واقعے میں نام کی شاید خاص اہمیت بھی نہیں ہے ۔اس لیے اس کے نہ لکھنے سے فرق نہیں پڑے گا‘لیکن ظاہر ہے اب مخاطب کرنے کے لیے کوئی نام‘ نشانی تو لکھنی پڑے گی۔ سو‘ ہم اسے ''فلاں‘‘ صاحب کے نام سے یاد کریں گے۔ یہ تقریب ایک ریسٹورنٹ میں ہو رہی تھی اور جیسا کہ رواج ہے ‘اپنے اعزاز میں ہونے والی ایسی تقریبات کا خرچہ بذمہ صاحب ِتقریب ہوتا ہے‘ لہٰذا اسی اصول کے مطابق ‘ریستوران میں ہونے والی اس تقریب کا سارا خرچ صاحب ِتقریب کے ذمے تھا‘ نئے نئے شوقین لکھاری‘ شاعری اور ادیب اپنی پذیرائی خود ہی کرواتے ہیں‘ اسی طرح نئے بننے والے مصنفین بھی اپنی کتابوں کی تقریب ِرونمائی وغیرہ خود کرواتے ہیں۔ یہ تقریب بھی ایسی ہی تھی۔ صاحب ِ تقریب نے اپنی شان میں گفتگو کروانے کے لیے کئی اصحاب کو تقریب میں بلا رکھا تھا اور ریستوران والے کو لذت کام و دہن کا بندوبست کرنے کے عوض ادائیگی بھی کر رکھی تھی۔ موصوف ادب کی کئی اصناف پر ہاتھ صاف کرتے تھے‘ لہٰذا مختلف صاحبان کو اپنے بارے میں مختلف اصناف کے حوالے سے اظہارِ خیال کے لیے مختص کر رکھا تھا۔ تقریب کا آغاز نہایت ہی عمدہ طریقے سے ہوا اور ہر آنے والے نے اپنی گفتگو کرتے ہوئے ان صاحب کے بارے میں نہایت ہی اعلیٰ قسم کی گفتگو کی‘ جس کا بیشتر حصہ حسب ِمعمول دروغ گوئی اور بے جا تعریف و توصیف پر مشتمل تھا ‘تاہم تقریب خوب چلتی رہی اور آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی طرف گامزن تھی اور پھر وہ ہو گیا‘ جس کی کسی کو بھی‘ بشمول منتظمین اور صاحب ِتقریب قطعاً کوئی توقع نہ تھی۔

کئی مقررین کے خطاب کے بعد زاہد فخری کی باری آ گئی۔ زاہد فخری نے مائیک سنبھالا اور ابتدائی جملے ادا کرنے کے بعد صاحب ِتقریب کی شان میں گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ''فلاں صاحب‘‘ اپنی مقررانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری‘ افسانہ نگاری‘ کالم نویسی‘ انشائیہ نگاری اور تنقید کے حوالے سے اتنی کم عمری میں اپنی لگن اور مستقل مزاجی کے باعث جتنے مختصر عرصے میں فیصل آباد کے ادبی حلقوں میں اور شہر کے ادبی منظر نامے پر... (یہ کہہ کر زاہد فخری نے اپنی گفتگو میں ایک دو لمحات کا وقفہ لیا اور پھر دوبارہ گویا ہوئے) جس تیزی سے ذلیل و رسوا ہوئے ہیں‘ اس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی‘‘۔ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کے بعد تقریب کا کیا حال ہوا ہوگا۔ وہاں ایک عدد فساد برپا ہو گیا۔ تقریب نہایت غیر متوقع انجام سے دو چار ہوتے ہوئے بدمزگی پر اختتام پذیر ہو گئی‘ لیکن فی الوقت یہ واقعہ بلا وجہ ہی یاد نہیں آیا۔ یہ پرانا واقعہ مجھے موجودہ حکومت کی صورتحال کے باعث یاد آیا۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں‘ سمجھ تو گئے ہوں گے!۔

اسلام آباد پہنچ کر آزادی مارچ اب دھرنے میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس دھرنے کے شرکاء کی تعداد دیکھ کر جہاں خود مولانا فضل الرحمن ضرورت سے زیادہ پھیل رہے ہیں‘ وہیں اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) والے نہ چاہتے ہوئے بھی مولانا فضل الرحمن کی ''بی ٹیم‘‘ بننے پر با دل نخواستہ راضی ہو رہے ہیں۔ پہلے بلاول ‘رحیم یار خان کے جلسے کے بہانے جان چھڑوانا چاہتے تھے‘ اب اسلام آباد کے مجمعے کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر مولانا کی ''بینڈویگن‘‘ میں سوار ہو چکے ہیں۔ لاہور میں مولانا کے آزادی مارچ کو ہری جھنڈی دکھانے والی مسلم لیگ (ن) بھی اب اسلام آباد میں اپنی انگلی کٹوا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس سارے قضیے میں فی الحال کس کو فائدہ ہو رہا ہے؟ اس کا جواب جس سے بھی پوچھیں یہی کہے گا کہ اس سارے شو کا فائدہ صرف اور صرف مولانا فضل الرحمن کو ہو رہا ہے اور باقی ساری پارٹیاں محض طفیلی کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس فلم کے ہیرو مولانا فضل الرحمن ہیں اور باقی سب بھرتی کی کاسٹ ہے‘ لیکن ایک فریق ایسا بھی ہے ‘جو اس آزادی مارچ میں اپنا منافع لے کر فارغ ہو چکا ہے اور وہ بلوچستان کے گاڑیوں کے سمگلر حضرات تھے ‘جو اس آزادی مارچ کے ساتھ اپنی سمگل شدہ بغیر کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی والی گاڑیاں لے کر بڑے مزے سے پنجاب میں داخل ہوئے اور پھر ملتان تک پہنچتے پہنچتے یہ گاڑیاں آہستہ آہستہ دائیں بائیں ہو گئیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق‘ وہ بڑی بڑی لگژری گاڑیاں جو سخی سرور اور فورٹ منرو میں قافلے کے ساتھ نظر آئی تھیں‘ ڈیرہ غازیخان سے ملتان تک آتے آتے ان کی تعداد آدھی رہ گئی تھی۔ یہ والی گاڑیاں واپس بلوچستان بھی نہیں گئیں تو پھر کہاں چلی گئیں؟بلوچستان سے سمگل شدہ گاڑیاں پنجاب میں آتی رہتی ہیں‘ لیکن اس کے لیے جوکھم کرنا پڑتا ہے۔ جعلی نمبر پلیٹ لگائی جاتی ہے۔ کسی اور گاڑی کے کاغذات استعمال کئے جاتے ہیں۔ چیسز نمبر اور انجن نمبر کی ٹیمپرنگ کی جاتی ہے۔ محکمہ کسٹمز اور بارڈر ملٹری پولیس کو ''گریس‘‘ لگائی جاتی ہے ‘تب جا کر کہیں کوئی گاڑی ادھر آتی ہے‘ لیکن اس بار اس آزادی مارچ کے طفیل گاڑیوں کے سمگلروں کا جو موج میلہ لگا ہے‘ اسے آپ سمگلروں کا ''جیک پاٹ‘‘ لگتا کہہ سکتے ہیں۔
عمران خان کے ساتھ جو ہو رہا ہے‘ اسے آپ مکافات ِعمل کہہ لیں یا گنبد کی آواز سے تشبیہ دے لیں‘ ایک ہی بات ہے۔ جس طرح عمران خان 2014ء میں نواز شریف سے استعفیٰ مانگ رہے تھے ‘ عین اسی طرح مولانا فضل الرحمن اب عمران خان سے استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔ تب عمران خان یوٹیلیٹی بل جلا کر حکومت کو بل ادا نہ کرنے کیلئے جس طرح مجمعے کو اکسا کر سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے‘ مولانا فضل الرحمن اسی طرح وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا اعلان کر کے انارکی کو دعوت دے رہے ہیں۔

جیسے تب اسلام آباد کنٹینروں سے آباد تھا‘ آج بھی اسلام آباد اسی طرح کنٹینروں سے بھراپڑا ہے‘ لیکن یہ معاملہ اب کہاں جا کر رکے گا؟ کسی کو یقین سے کچھ پتا نہیں۔
عمران خان صاحب کے دھرنے اور منتخب وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے پر تب بھی اس عاجز کا یہ مؤقف تھا کہ ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ سے زائد ووٹ لینے والی مسلم لیگ (ن )کے وزیراعظم میاں نواز شریف سے محض بیس پچیس ہزار لوگوں کے مجمعے کی بنیاد پر استعفیٰ لینے کی رسم اگر شروع ہو گئی تو آئندہ کبھی بھی کوئی جمہوری حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر سکے گی اور مختلف سیاسی پارٹیوں سے جڑے ہوئے ''ڈائی ہارڈ‘‘ ورکروں کی بنیاد پر‘ اور خصوصاً مذہبی جماعتوں کے برین واشنگ شدہ چالیس پچاس ہزار لوگ اسلام آباد میں لا کر استعمال کیا کریں گے اور حکومتوں کے مستقبل کا فیصلہ بیلٹ بکس نہیں ‘بلکہ دھرنے کیا کریں گے۔
دھرنوں کا جن بوتل سے نکالنا بہت آسان ہے‘ لیکن اسے بوتل میں بند کرنا انتہائی مشکل ہے۔ 2014ء کے دھرنے کی حماقت اپنی جگہ‘لیکن اب ساری سیاسی پارٹیوں کو بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کا جمہوری مستقبل پولنگ سٹیشنوں پر طے ہو گا یا ڈی گرائونڈ اور ریڈ زون میں جمع ہونے والے چند ہزار لوگ اس کا فیصلہ کریں گے؟