استاد محترم! عطا ء الحق قاسمی

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے مجھے ’’استادِ محترم‘‘ کہنے کی بدعت کا آغاز مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ نے کیا تھا، بٹ صاحب کے بعد ایک اور مزاح نگار گل نوخیز اختر نے بھی مجھے’’استادِ محترم‘‘ کہنا اور لکھنا شروع کردیا اور اب تو پولیس افسری کے علاوہ مزاح لکھنے والے ناصر ملک اور پھر ابرار ندیم بھی مجھے’’استاد محترم‘‘ ہی کہتے ہیں۔ چلیں یہ تو قسمت میں جو لکھا تھا ہوگیا، مسئلہ یہ ہے کہ اب مجھ سے محبت کرنے والے سبھی شاعروں، ادیبوں نے مجھے استادِ محترم کہنا شروع کردیا ہے۔ میں گزشتہ روز ایک ریڑھی سے سیب خریدنے گیا اور دکاندار سے ریٹ پوچھا تو وہ بولا ’’استادِ محترم! آپ سے پیسے لیتا میں اچھا لگتا ہوں؟ سر میں کالج میں آپ کا شاگرد رہا ہوں اور آپ کی دعائوں ہی سے اس مقام تک پہنچا ہوں‘‘۔ میرے خیال میں اس سے بہتر کسی کی ہجوممکن نہیں، سو میں نے اپنے اس ہونہار شاگرد کے سر پر دستِ شفقت پھیرا اور اس کو دو کلو سیبوں کے منہ مانگے دام جو مارکیٹ سے دوگنا زیادہ تھے ،ادا کئے، حالانکہ وہ نہ نہ کرتا رہا اور رقم کی وصولی کے لئے اپنا ہاتھ بھی میری طرف پھیلائے رکھا، اس کی یہ ادائے دلبری بھی غالباً میری دعائوں کے زیرِ اثر تھی۔

آپ یقین کریں اس’’سانحہ‘‘ کے بعد مجھے اپنے وہ سارے ’’شاگرد‘‘ مشکوک لگنے لگے ہیں جنہیں میں جانتا تک نہیں مگر ملنے پر وہ مجھے استادِ محترم کہتے ہیں۔ مجھے تو اب یوں لگنے لگا ہے کہ استادِ محترم میری ’’چھیڑ‘‘ ہے اور مجھے چڑانے کے لئے یہ لفظ ایجاد کیا گیا ہے۔ امیرِ شریعت میر عطاء اللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ اگر آپ سمجھیں کہ کسی چیز کو آپ کی چھیڑ بنا دیا گیا ہے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ چڑنے کے بجائے اسے انجوائے کریں۔ اس کے بعد یہ چھیڑ، چھیڑ نہیں رہے گی۔ ایک بار شاہ صاحب اپنے رفقاء مولانا احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر اور دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ حکومتِ وقت کی نافرمانی کے نتیجے میں جیل میں تھے۔ ان دوستوں نے یہ سازش تیار کی کہ شاہ صاحب کی چھیڑ والی بات غلط ثابت کرنے کے لئے ان کی کوئی چھیڑ بناتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں، وہ کیا کرتے ہیں، چنانچہ سب سے پہلے مولانا احسان احمد شجاع آبادی، شاہ صاحب کے پاس گئے اور کہا ’’شاہ صاحب آپ کے پاس سوئی ہوگی؟‘‘ شاہ صاحب نے جواب دیا ’’نہیں بھائی میرے پاس سوئی کہاں سے آئی‘‘ مولانا شجاع آبادی کے تھوڑی دیر بعد مولانا لال حسین اختر نے شاہ صاحب کے پاس جاکر سوئی کی فرمائش کی۔ شاہ صاحب اگرچہ اس بےمعنی فرمائش پر سخت جھنجلاہٹ کا شکار تھے مگر انہوں نے اشتعال میں آئے بغیر کہا ’’بھائی میں نے اپنے پاس سوئی کیوں رکھنی ہے‘‘۔ اس طرح تین چار دوسرے دوستوں کے بعد جانبازمرزا کی باری آئی اور اس نے بہت احترام سے کہا ’’شاہ صاحب سوئی چاہئے تھی‘‘ اس پر شاہ صاحب بھڑک اٹھے ’’کیا کرنی ہے سوئی، ماں کا غرارہ (انہوں نے کوئی اور لفظ بولا تھا) سینا ہے، تم نے کہیں ٹانکے لگانے ہیں، دفع ہو جائو یہاں سے دور آئندہ خبردار اگر کسی نے میرے سامنے سوئی کا نام لیا!‘‘ اس پر شاہ صاحب کے سب رفقاء ہنستے ہوئے ان کے پاس آئے اور کہا ’’شاہ جی! چھیڑ اس طرح بنتی ہے‘‘۔

اس تمہید کا سبب یہ تھا کہ مجھے شاہد ظہیر سید کا فون آیا اور انہوں نے کہا ’’استادِ محترم میری ایک کتاب آئی ہے، اس حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں اور واضح رہے بہت شرمندگی سے جب یہ بات کہہ رہا ہوں کہ میں ان سے واقف نہیں تھا، چنانچہ ان سے ’’استادِ محترم‘‘ کی وجہ اس لئے نہ پوچھ سکا کہ ایک تو وہ صاحبِ کتاب ہیں اور دوسرے یہ کہ میں اندر سے خوش ہوتا ہوں جب مجھے کوئی استادِ محترم کہتا ہے، سوائے اپنے اس ریڑھی والے سچ مچ کے شاگرد سے جس نے مجھ سے پیسوں کے دو گنے دام وصول کئے کہ استاد محترم نے کون سا مجھ سے بھائو تائو کرنا ہے، بہرحال ایک دن شاہد صاحب نے اپنی کتاب (حدِ ادب) مجھے پہنچا دی اور یہ طنز و مزاح پر مشتمل تھی، میں یہ کتاب پڑھے بغیر ہی خوش ہو گیا کہ چلو اچھا ہوا کوئی ایک اور مزاح نگار اردو ادب کو میسر تو ہوا لیکن جب میں نے کتاب پڑھنا شروع کی تو اس کے پہلے مضمون کا عنوان پڑھتے ہی میری ہنسی چھوٹ گئی، اس کا عنوان تھا ’’استادِ گرامی‘‘ یعنی استادِ محترم سے بھی ایک ہاتھ آگے، مجھے اپنے محبوب مزاح نگار ابن انشاء کا مضمون یاد آگیا جس کا عنوان وہی تھا جس پر میں نے اپنے ابتدائی کلمات ضائع کئے ہیں یعنی ’’استادِ محترم‘‘ میں نے سوچا شاہد ظہیر سیّد کو اس ’’زمین‘‘ میں ’’غزل‘‘ نہیں کہنا چاہئے تھی جس میں استاد غزل کہہ چکا ہو، مگر جب مضمون پڑھا تو دل سے بےاختیار ’’واہ‘‘ کی آواز آئی۔ (جاری ہے)