بھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں... محمد بلال غوری

مولانا کے آزادی مارچ میں شریک ایک شخص کے پیروں میں ٹوٹی ہوئی جوتی دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ بہت اچنبھے کی بات ہے۔

چونکہ میڈیا کو اہم نوعیت کے سیاسی معاملات سے فرصت نہیں ملتی اور ناظرین بھی سیاست کی چٹخارے دار خبروں سے جی بہلانے کے عادی ہو چلے ہیں اس لئے کسی کو غربت کی سفاکیت کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں آج بھی لوگ جوتا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

اندرون سندھ اب بھی پینے کا پانی بھرنے کے لئے خواتین کو کئی میل دور پیدل چل کر جانا پڑتا ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں نہیں لاکھوں میں ہے جنہیں سال میں ایک بار قربانی کے موقع پر گوشت کھانا نصیب ہوتا ہے۔ یوں تو ہر آزادی مارچ میں انقلاب کے خواب لے کر آنے والے دیوانوں کے پاس کھونے کو ایک بےکیف زندگی کے سوا کچھ نہیں ہوتا مگر حالیہ اجتماع کچھ زیادہ ہی منفرد ہے۔

اس مارچ میں شریک بیشمار لوگوں نے زندگی میں پہلی بار اسلام آباد دیکھا ہے اور وفاقی دارالحکومت کی رونقوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کا اور اسلام آباد، راولپنڈی والوں کا پاکستان ایک کیسے ہو سکتا ہے؟

قلعہ سیف اللہ سے آئے ایک شخص نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندگی میں پہلی بار اسلام آباد آیا ہے، اس کے باپ کو بھی کبھی اس شہر میں آنا نصیب نہیں ہوا مگر اسے خوشی ہے کہ وہ بادشاہ کو تاج و تخت سے اتارنے آیا ہے۔ اس شخص نے اپنی گفتگو میں ایک بار بھی وزیراعظم کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس مارچ کے شرکا کی اکثریت کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ اصل بادشاہ کون ہے اور اس کا کیا نام ہے؟

یہ احساس اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد آزادی مجھے یا آپ کو نہیں ملی، آزادی ان کو ملی جو بادشاہ ہیں یا پھر بادشاہ گر۔ لیکن المیہ تو یہ بھی ہے کہ عوام اور رعایا کو آزادی دلانے کے لئے جب بھی کوئی جدوجہد ہوئی تو اس کے لئے قربانیاں تو ٹوٹی چپل والے عام افراد نے دیں مگر اس کے ثمرات سیاستدانوں نے سمیٹے۔

جنہیں ہم رہبر سمجھتے ہیں، وہ رہزن نکلتے ہیں اور دبائو بڑھا کر ڈیل کر لیتے ہیں، اس لئے ہر آزادی مارچ کے بعد ’’وہ‘‘ آزاد ہو جاتے ہیں مگر ہمارے خواب سراب بلکہ زندگی بھر کے لئے عذاب بن جاتے ہیں۔

ازل سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو اقتدار پکے ہوئے پھل کی مانند جنرل یحییٰ خان کی جھولی میں آگرا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف پاکستان عوامی اتحاد کی تحریک کے ثمرات جنرل ضیاء الحق نے سمیٹے۔ ایم آرڈی کی تحریک اور پھر ضیاء الحق کی موت کے بعد جمہوریت بحال ہوئی مگر حبیب جالب یہ کہنے پر مجبور ہوگیا:

وہی حالات ہیں فقیروں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

مولانا کے آزادی مارچ سے بھی سیاسی گِدھ اپنا حصہ نوچنے میں مصروف ہیں جبکہ آزادی کے خواب دیکھنے والے بارش میں کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ بلاشبہ نواز شریف اپنے بیانئے پر قائم ہیں، مریم نواز ان کے نقش قدم پر چل رہی ہیں مگر ان کی پارٹی؟ ان کے بھائی نئی تنخواہ پر کام کرنے کے لئے اپنا سی وی ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں اور باآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ مجھے اسلام آباد کا عمران خان لگا دو، شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔

چند رہنما جو قید ہیں، ان کے سوا مسلم لیگ(ن) میں کون ہے جو ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالادستی کی جدوجہد کے لئے میدانِ عمل میں ہو؟ چند دیوانے ہیں بھی تو ان کے پیروں میں پارٹی ڈسپلن کی زنجیریں ڈال دی گئی ہیں۔

اچکزئی نے مولانا کے کنٹینر پر ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگواتے ہوئے کہہ دیا کہ مریم نواز رہا ہوتے ہی یہاں آئیں گی اور آپ کو سیلوٹ کریں گی مگر اب تک مسلم لیگ(ن) کے کئی رہنما وضاحتیں پیش کر چکے ہیں کہ ایسا کوئی پروگرام نہیں۔

یہی حال پیپلزپارٹی کا ہے جو تاحال گومگو کی کیفیت میں ہے۔ کبھی مذہب کارڈ کا عذر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دھرنا دینا اور اس طرح کے احتجاج کے ذریعے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔

دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیںاس میں غیر جمہوری کیا ہے؟ اصولی طور پر یہ غلط ہے تو کیا اب تک جو ہوا وہ کسی اصول، ضابطے یا قانون کے تحت ہوا؟ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ اصولی سیاست کی آڑ میں وصولی سیاست کی جا رہی ہے۔

دونوں جماعتیں اپنے معاملات درست کرنے کی کوشش میں ہیں اور ممکن ہے ان کی موقع پرستی دیکھتے ہوئے مولانا جو اب تک ڈٹے ہوئے ہیں، وہ بھی چند کلیوں پر قناعت کرنے کو تیار ہو جائیں۔

یہاں کس کو آزادی ہے اور آزادی پانے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے، یہ جاننا ہے تو حفیظ جالندھری کے ان اشعار پر غور کیجئے:

شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں

جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں پئیں آنند رہیں

شاہیں کو آزادی ہے آزادی سے پرواز کرے

ننھی منی چڑیوں پر جب چاہے مشق ناز کرے

پانی میں آزادی ہے گھڑیالوں اور نہنگوں کو

جیسے چاہیں پالیں پوسیں اپنی تند امنگوں کو

انسان نے بھی شوخی سیکھی وحشت کے ان رنگوں سے

شیروں، سانپوں، شاہینوں، گھڑیالوں اور نہنگوں سے

انسان بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہے

بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے

شیر کے آگے بھیڑیں کیا، اک من بھاتا کھاجا ہے

باقی ساری دنیا پرجا، شیر اکیلا راجا ہے

بھیڑیں لاتعداد ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیں

ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں

ماس بھی کھائیں کھال بھی نوچیں ہر دم لا گو جانوں کے

بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے

بھیڑیوں سے گویا قائم امن ہے اس آبادی کا

بھیڑیں جب تک شیر نہ بن لیں نام نہ لیں آزادی کا