دو ٹکے کی عورت ، دیکھنا پڑا - زارا مظہر

دو ٹکے کی عورت ۔۔۔ دیکھنا پڑا ۔۔ اور شدت سے احساس ہوا عورت کہیں کی بھی ہو صرف گھر میں محفوظ ہے ۔ لائم لائیِٹ میں آ ئے اور بد قسمتی سے خوبصورت بھی تو قدم قدم پر دام بچھانے والے ، پلکوں پر بٹھانے والے ملتے ہیں ۔۔۔ ایک کپ ساتھ چائے پینےکی خواہش کرنے والوں سے لے کر شادی کے خوشنما پیغامات دینے تک ۔۔۔ ہاتھ پکڑنے کی خواہش رکھنے سے ڈیٹ پر لیجانے کے اظہار تک ۔۔ لائم لائیٹ میں ہر کسی کا اپنا زون ہے ۔۔۔

الیکٹرونک میڈیا ہو سوشل میڈیا ۔۔ آ فیسرانہ گریڈ ۔۔ فری لانسرز ۔۔۔ جس کا جو بھی زون ہے ۔۔ اسے بہت سے بہکانے والے ملتے ہیں ۔ تعریف یوں کرتے ہیں کہ گویا عورت نہیں اپسرا ہے یا آ سمان سے اتری کوئی پری ۔۔ کنواری ہے شادی شدہ یا بچوں والی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ہر مرد ایسا ہوتا ہے لیکن پانچ میں سے ایک ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔ اور وہ پانچواں مرد فوراً گرفت میں آ تا ہے ۔۔۔ راہ چلتے وقت ۔۔ کام کی جگہ پر ۔۔ آ پکے کولیگز میں ۔۔۔ حتیٰ کہ آ پکی پوسٹ پر کمنٹ کرنے میں ۔۔۔ اسے الگ سے جاکر سمجھانا پڑتا ہے کہ کمنٹ ڈیلیٹ کرو یا خود کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن یہ ایک مضبوط عورت ہوتی ہے ۔۔ جو شاید دو فیصد کا تناسب رکھتی ہیں ۔۔۔ عام عورت اپنے جذبات پر بند باندھنے میں فطرتاً کمزور ہے ۔۔۔ سہہ نہیں پاتی بہہ جاتی ہے ۔جبکہ مرد اپنے ضبط میں کمزور ہے یا بے صبرا ۔۔۔رہ نہیں پاتا ۔۔۔ کہہ ڈالتا ہے ۔ فوراً اظہار کے ساتھ اقرار بھی چاہتا ہے ۔۔ پھر اسے اپنے پیچھے روتی ہوئی ، آ ہیں بھرتی عورت اچھی لگتی ہے ۔۔۔ عورت تعریف کی بھوکی ہے ۔۔۔ اسکے بعد خواہشات کی غلام ۔۔۔۔ یہی دو وصف اسے دو ٹکے کی بناتے ہیں یا انمول ۔۔۔

مہوش کی ادا کاری کمال ہے ۔۔۔ فیس ایکسپریشن کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ ایکسینٹ دینے میں۔۔۔ باڈی لینگویج میں ۔۔۔ بالکل عورت کی فطرت پہ آ کے ادا کاری کر رہی ہے ۔۔۔ اس اسٹیٹس کی عورت کو ایسے بہت سے محاذوں کا سامنا رہتا ہے ۔۔۔ اور اس اسٹیٹس کی عورت با آسانی پگھل بھی جاتی ہے ۔۔۔۔مگر یہ مشرقی عورت کا چہرہ نہیں ہے ۔۔۔ نہ یہ ہماری عورت کا چہرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔ یہ وہ چہرہ ہے جو اندر سے کھوج کر نکالا گیا ہے اور ننگا کر کے باہر پیش کر دیا گیا ہے ۔۔۔ اتنا عرصہ زندگی کو برتا ہے ۔ میل جول والی خواتین سے بہت قریبی تعلق رہا ۔۔ بہت ساری خواتین کے خیالات تک رسائی رہی ۔۔ روپے پیسے یا خواہشات کو لے کر تعلقات میں اتار چڑھاؤ آ تا رہتا ہے ۔۔۔ لیکن آ خر عورت ہار جاتی ہے ۔۔ بغاوت نہیں کرتی اپنے گھر اور بچوں کو دو بوند کی دھڑکن کی شوخی کے لئیے قربان نہیں کرتی ۔۔ اور جس عمر اور جس کلاس میں مہوش دکھائی گئی ہے یعنی تیس بتیس کے آ س پاس ۔۔۔ عورت کے پھسلنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے ۔۔۔ ایک معاشرتی زنجیر کی لڑی میں مالا کے موتی کی طرح پروئی ہوئی عورت اس ڈر سے گندھی رہتی ہے کہ ایک موتی کے نکلنے سے پوری لڑی ٹوٹ جائے گی اور موتی بکھر جائیں گے ۔۔۔

اس عورت کے بکھرنے کی ایک بڑی وجہ اس کے ارد گرد قریبی رشتوں کا نہ ہونا بھی ہے ۔۔ رشتوں کی زنجیر عورت کو یا مرد کو کم ہی بکھرنے دیتی ہے یہاں بھی اکیلی عورت شوہر کی محبت کو پسِ پشت ڈال کر من مرضی کے ریگزاروں پر قدم دھرنے کو تیار ہے ۔۔۔۔عورت کو دوٹکے کی ثابت کرنے کے لئیے مصنف نے ہر حربہ ہی آ زمایا ۔۔۔۔ ایک آ دمی جس کی پچاس ہزار تنخواہ ہو فلیٹ کا کرایہ کم سے کم بھی بیس ہزار ہو باقی پانچ ہزار بلز کی مد میں جاتے ہوں پانچ ہزار کا پیٹرول لگتا ہو ۔۔۔ باقی بیس ہزار میں اس حلیے میں نہیں رہ سکتی نہ اس میں اتنی خوبصورتی اور نزاکت بچتی ہے کہ دوسروں کو لبھا سکے ۔ دانستہ عام سی عورت کا کردار گرا ہوا دکھایا ہے ۔۔۔ اس کا معاشرت پر بہت برا اثر پڑے گا ۔۔ کتنی ساری مہوشیں راستہ کھوٹا کر جائیں گی ۔۔۔ دوسری طرف اس کا خریدار جس اسٹیٹس کا دکھایا گیا ہے ۔ شراب و شباب اسکے لائف اسٹائل کا لازمی جزء ہیں وہ ایک کچلی کچلائی عورت پر کیسے پھسل سکتا ہے ۔۔۔ کیسے چونک سکتا ہے ۔ وہ نہ صرف چونکا بلکہ لٹو ہی ہو گیا ۔۔ جبکہ اس کی رسائی میں بہت ساری خواتین ہیں ۔۔ انوشے ہی کو دیکھ لیجئے لوٹم لوٹ ہوئی جا رہی ہے ۔۔۔

پھر شہوار صاحب کی پی اے ہے وہ بھی کم طرح دار نہیں لیکن ان سب کو چھوڑ کر ایک گھریلو عورت کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایسے ڈرامے دکھائے جاتے رہے جس میں شادی شدہ افراد (خواتین وحضرات ) کے معاشقے دکھائے جاتے رہے ۔۔ لیکن یہاں کہانی دو قدم اور آ گے پہنچا دی گئی ہے ۔ بھلے آ خر میں مہوش کا انجام برا دکھایا جائے ۔۔۔ مگر وہ ایک مرد کی خواہشات کی تکمیل کے لئیے ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہو چکی ہے ۔ عورت سوچتی ہے ابھی تو دل کی مرضی پر چلوں ۔۔۔ میرے والا ایسا نہیں ہے یا ایسا نہیں کرے گا ۔۔۔ لیکن نادان نہیں جانتی کہ وہ ایسا نہیں تو ویسا کرے گا ۔۔۔ مگر یہ بھی ایک ارتقائی عمل ہے ۔۔۔ انسانیت کا آ غاز کہاں سے ہوا تھا ۔۔۔ پھر پیغمبروں کی بیویاں ۔۔ پھرقرونِ اولیٰ کی خواتین ۔۔ ڈرامے میں ایک عورت ایسی بھی ہے جسے ہم بھول رہے ہیں ۔ جو شہوار سمیت پورے کاروبار کی مالک ہے یہ وہ پتہ ہے جسے رائیٹر نے ابھی شو نہیں کیا ۔۔۔ مجھے لگتا ہے اپنی گھرستی بچانے کے وہ اپنے مرد کے پاس لوٹ آ ئے گی یا اسے لات مار کر پھوکٹ کر کے نکال دے گی ۔۔۔ ہر دو صورتوں میں شہوار کی محبت کا جنازہ نکل جائے گا ۔۔۔ مہوش سے جان چھڑا لے گا تب اسے پچھلے دروازے بھی بند ملیں گے کیوں کہ دانش اسے دوٹکے کی عورت کہہ چکا ہے ۔۔

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.