"کاروانِ حجاز" : سفیان الحسینی

ماہر القادری اردو دنیا کا ایک عظیم نام ہے،دنیائے ادب و انشا ان کے تبحر علمی، وسعت مطالعہ ، دقت نظر ، سخن فہمی، مثالی حافظے، اور زبان کی نزاکتوں سے واقفیت کی معترف ہے،مگر جس حیثیت سے دنیائے ادب میں انہیں یاد کیا جاتا ہے وہ ان کی بلند پایہ تنقید اور تبصرہ نگاری ہے، زیر تبصرہ کتاب اسی ماہر تنقید و تبصرہ نگار کی ہے۔

یہ سفرنامہ بڑے ہی پاکیزہ سفر کی سرگزشت ہے بیت اللہ کی زیارت سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے، اور سعادت پر سعادت یہ کہ زیارت اور سفر حج بیت اللہ کے لیے ہورہا ہے اور فریضہ کی ادائی کے لیے معبود کے گھر عبد کی حاضری ہے آخر اس سے بڑی خوش بختی اور نصیبہ وری کیا ہوسکتی ہے،مکہ و مدینہ مقامات عشق و ارادت ہیں ان مقامات سے محبت جزو ایمان ہے اور محبوب سے وصل کی چاہت آخر کسے نہیں ہوتی۔ اور جسے بچپن ہی سے ان مقامات کی محبت گھٹی میں پلائی گئی ہو تو ذرا سوچیے اس کے وصال کا کیا عالم ہوگا۔

اس سفر حجاز میں جناب ماہر کو جن کلفتوں اور مشقتوں سے دوچار ہونا پڑا ان پر وہ سکوت کی چادر اوڑھے رہے اور شکوہ سنجی کو آداب بندگی اور عجز و نیاز مندی کے منافی سمجھا یہ حد درجہ انکسار و تذلل بڑوں ہی کے بس کی بات ہے،ایک بات جو اس کتاب میں بڑی اہم ہے وہ ہے اللہ کی وحدانیت کا سبق،اور اس کا دھیان آخر کیوں نہ ہو،رب احد کے دربار میں بھی کوئی شرک کا تصور کرسکتا ہے لیکن اکثر و بیشتر لوگ نبی اکرم کے روضہ مبارک پر کیف و سرور کے عالم میں بد عقیدگی کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثریت کم پڑھے لکھے لوگوں کی ہے اور جو پڑھے لکھے ہیں ان کے بھی پاؤں پھسل ہی جاتے ہیں مگر مولانا ماہر القادری نے نہ صرف یہ کہ توحید کا سبق پڑھایا بل کہ مکمل طور پہ بے جا عقیدت مندی سے احتراز کیا اور بغرض اصلاح لوگوں کو خدائے واحد کا مقام اور رسول عربی کے مقام سے متعارف کرایا۔

اس روداد سفر میں بعض بڑی اہم شخصیات کا تعارف اور ان کی مجلسوں کی رفاقت اور حکمت سے لبریز گفتگو کے تذکرے ہیں خاص طور پر ہمارے ملک ہندوستان کی عظیم شخصیت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری طیب صاحب نور اللہ مرقدہ کا تذکرہ اور ان کے وعظ کی تاثیر،تبحر علمی، جلالت شان،اور مربوط گفتگو کی ستائش،صحابہ کرام سے محبت اور اہل بیت اطہار سے عقیدت مندی جناب ماہر کے پختگی ایمان کی علامت ہے،خاص طور پے کتاب میں حکمت آمیز گفتگو، احساسات و واردات،نبی کی مدحت و منقبت میں ڈھلے اشعار،اور وجد و جذب کی کیفیات،سراپا وجدان کو فرحت و انبساط اور خرد کو عقدہ کشائی کے مواقع فراہم کرتی ہیں جہاں تک تذکرۂ مکہ و مدینہ اور وہاں کے خرد افروز اور روح پرور مناظر کے بیان کی بات ہے تو اس کو جناب ماہر کے قلم نے جس خوبی سے بیان کیا ہے اس کا کوئی جواب نہیں،(مصوری و تمثالچہ گیری کوئی حضرت ماہر سے سیکھےمحسوسات و ادراکات کو جامہ الفاظ پہنانا جنابِ ماہر کا فن ہے
ان کا شمار ان لوگوں میں نہیں جن کے متعلق شاعر گویا ہے۔

"محو تسبیح تو سبھی ہیں مگر ادراک کہاں"یاں تو ادراک بھی ہے عرفان بھی اور اس پر مستزاد جناب ماہر کا خامہ زرنگار جو سوز و گداز،وجد وکیف،جذب دروں اور تب و تاب کے موتی رولتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قارون لغت ہائے حجازی الفاظ و معانی کو ان کا صحیح مقام عطا کر رہا ہو اور فصاحت و بلاغت کی ایک نئی راہ ہموار کر رہا ہو،جناب ماہر کی زبان بڑی ہی لطیف اور ٹکسالی،شستہ و شگفتہ،اور زمزم سے دھلی ہے،الفاظ کا برمحل استعمال اور چناؤ ان کا خاصّہ ہے اور یہ جناب ماہر ہی کا میدان ہے جس میں انہیں مہارت حاصل ہے،مگر ان ساری خوبیوں کے باوجود کچھ خامیاں ہیں جن کا ذکر ناگزیر ہے۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:
مسلمانوں میں ایثار اور ایک دوسرے کی ہمدردی و غمخواری کا مادہ ہوتا تو ان کی پراگندگی اور انتشار کی یہ حالت کیوں ہوتی۔یاد رکھیے "ایثار"مسلمانوں کا ہی خاصہ ہے قرآن مجید میں صحابہ کرام کے عمل کی تحسین کچھ یوں فرمائی گئی_ویوثرون علی انفسھم و لو کان بھم خصاصۃ الایۃ۔۔مصنف کو براہ راست مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے تھا بلکہ عبارت کو یوں تبدیل کر کے آج کے بگڑے ہوئے مسلمانوں کو آئینہ دکھانا چاہیے تھا گوکہ مصنف کی منشا یہی تھی مگر پھر بھی یوں لکھا جانا چاہیے:"اگر آج" مسلمانوں میں ایثار اور ایک دوسرے کی ہمدردی و غمخواری کا مادہ ہوتا تو ان کی پراگندگی اور انتشار کی یہ حالت کیوں ہوتی۔

ایسا محسوس ہوا کہ جیسے دل کے ٹکڑے "اُڑے" جارہے ہیں، دل کے ٹکڑے "ہوئے" جارہے ہیں برمحل ہے"دھوپ کافی تیز ہے" ازروئے قواعد"کافی"کا جگہ جگہ استعمال نا درست ہے،اس دو روزہ زندگی اور اس کے طمطراق پر گھمنڈ کم ظرفی کی دلیل ہے یہ "اوچھے"اور "کمینے" لوگ ہیں جو ذرا سی بات پر اترایا کرتے ہیں،الفاظ کی شدت و خفت یا ان کے ٹمپریچر کا خیال بہت ضروری ہے، دنیاوی زندگی میں بد مست ہوجانا کمینے پن کی علامت نہیں بلکہ اسے غفلت سے تعبیر کیا جاتا ہےاس لیے مصنف کو "اوچھے" اور "کمینے" کی جگہ کم نظر اور بے خبر یا اس کے ہم معنی الفاظ استعمال کرنے چاہیے تھے،