کیسا ڈھونڈا - افسانہ مہر

ڈھونڈ لیا ۔۔۔۔۔۔ ڈھونڈ لیا ۔۔۔۔عمیر لہک لہک کر گنُگنا رہا تھا تھا اور اپنی دھن میں سیڑھیاں اُترتا ہوا نیچے ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
صبا جو ٹی وی دیکھ رہی تھی اب ٹی وی سےتوجہ ہٹا کر بیٹے کو اشتیاق سے دیکھنے لگی پھر مسکرا کر پوچھا ۔۔۔۔۔ کس کو ڈھونڈ لیا۔۔۔۔۔۔؟ مجھے بھی بتا دو ؟

عمیر نے صبا کی بات سن کر زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔۔۔اور پھر اُسی انداز میں بولا .." جب چاند چڑھے گا تو سب ہی دیکھ لیں گے " .." بھائی سب سے پہلے میں دیکھوں گی آخر میں آپ کی اکلوتی سگی بہن ہوں" مونا ایک دم عمیر کے برابر میں آکر بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔بلکل.... میری پیاری اس کام میں سب سے زیادہ تمہاری ہی مدد کی ضرورت ہے...." کروگی نہ مدد." عمیر نے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر ساتھ ہی سوال بھی کر ڈالا۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ بتائیں کیا کرنا ہے مجھے؟ مونا اشتیاق سے پوچھا ۔۔۔۔ اچھا میرے ساتھ کچن میں چلو۔ عمیر مونا کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوتے ہوئے بولا ..."یہیں بتا دو میں بھی تمہارے کام میں مدد ہی کروں گی صبا نے دونوں بچوں کی باتیں سُن کر بیچ میں لقمہ دیا ..جی۔۔ امی جان ! مجھے پورا یقین ہے کہ آپ بھی میرا بھرپور ساتھ دیں گی لیکن ابھی مونا کی مدد کافی ہے ... عمیرنے جاتے ہوئے جواب دیا ..یہ کچرے والی باسکِٹ کہاں ہے ؟عمیر نے کچن میں آتے ہی سوال کیا .. کچرےوالی باسکِٹ؟... کیوں....؟مونا نے حیرت سے پوچھا ...بتاو تو سہی۔۔۔عمیر نے کہا ... وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔واش بیسن کے نیچے۔۔۔۔ مونا نے اشارہ کیا .. عمیر نے جھٹ باسکِٹ آگے سرکائ ۔۔۔۔ اور اس میں موجود کچرے کو الگ الگ شوپروں میں ڈالنے لگا کاغذ الگ ، شاپر الگ، اور سبزی اور پھل کا کچرا الگ کیا ..کیا گند مچا رہے ہیں بھائی۔۔۔۔ مونا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے بیزاری سے پوچھا ..

ارے میں گند مچا نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔ گند بچا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟مونا کے منہ سے نکلا ؟ میں اپنے گھر کے کچرے سے گھر کے پودوں کے لیے گھریلو کھاد بناؤں گا.. تاکہ ہمارے پودوں کو۔۔۔۔خالص کھاد مل سکے ۔۔۔۔اس طرح ہمارے پودوں کو معیاری کھاد میسر آجائے گی .. اور ہمارے گھر کا کچرا بھی باہر کسی روڈ اور گلیوں میں جمع ہونے سے بچ جائے گا ۔۔۔۔ گھریلو کھاد!! گھر کے کچرے سے؟ ۔۔ وہ کیسے؟؟؟؟؟ مونانے پھر سوال کر دیا
بہت آسان طریقہ ہے دیکھو ! گھر کے استعمال کے بعد بچے ہوئے سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے ،انڈوں کے خول ، چائے کی استعمال شدہ پتی، بچےہوئے کھانے، درختوں کے پتے اور گوبر سب اگر ان کو ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اس میں ڈال دیا جائے اور اوپر 6انچ کے برابر مٹی ڈال کر گڑھا بند کر دیا جائے پھر ہلکا سا پانی ۔۔اس گڑھے پر چھڑک دیا جائے۔۔۔ تو دو سے تین تین ماہ میں کھاد بن جاتی ہے .. یہ کھاد گھریلو پودوں اور پھولوں کے لئے لیے بہترین ہوتی ہے
ہمارے شہر میں جابجا کتنا کچرا پھیلا ہے؟.. یہ ہمارے ہی گھروں سے نکلا ہے اگر ہم سب اپنے اپنے گھروں کا کچرا الگ الگ جمع کرلیں ۔۔ اور پھر کھاد بنانے میں استعمال کرلیں۔۔۔۔ تو ہمارا ہی نہیں اس شہر کا بھی بہت بھلا ہو ۔ لیکن شاپرز کا کیا ہوگا بھائی۔۔۔۔۔۔مونا نے اعتراض اُٹھایا
۔ ہاں۔۔۔ اس کا بھی حل سوچ لیا میں نے عمیر بولا ... تمام فالتو شوپرز اور پلاسٹک ریپرز ایک بڑے شاپر یا ڈبے میں جمع کریں گے اور
ری سائیکلنگ فیکٹریوں میں پہنچا دینگے ۔۔۔۔۔خس کم جہاں پاک .... اب بتاؤ ۔۔۔۔۔؟ کیسا ڈھونڈا...