سانحہ “ تیز گام ایکسپریس”سے “سقوط کشمیر “ نامنظور- حسین اصغر

فجر کی نماز کے بعد صبح صبح دوست کا میسیج ملا کہ پاکستان میں ایک اور حادثہ ہوگیا خبر یہ ہے کہ “رحیم یار خان کے قریب تلواری اسٹیشن پر تیز گام ایکسپریس کی 3 بوگیوں میں آگ لگ گئی، حادثے میں 73 مسافر جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے”میں سوچنے لگا ہر حادثہ تکلیف اور دکھ تو ضرور لاتا ہے ساری تدبیروں کے بعد انسان پھر بھی بے بس ہوتا ہے اور حادثہ اس انسانی بے بسی کی نشانی ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ! لیکن اللہ نے یہ اختیار تو پھر بھی انسانوں کو دے رکھا ہے کہ جس نے بھی اس میں غفلت برتی ہو اسے قانوں الہی کے مطابق پوری پوری سزا دی جائے ۔

ان سب کے بعد بھی دل اور دماغ میں بے چینی ہے سکون جیسے روٹھ گئی ہو آنکھوں سے گرتا آنسو ہے کہ روکتا نہیں اور دل ہے کہ ڈوبا جارہا ہے جسے سوال کر رہا ہو
کیا یہ واقعی محض ایک حادثہ ہے ؟کیا بلدیاٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن واقعہ محض ایک حادثہ تھا؟کیا کراچی میں جو کچھ بارہ مئی کو ہوا وہ محض ایک حادثہ تھا؟کیا آرمی پپلیک اسکول ایک حادثہ تھا ؟پاکستان میں حادثات اتنے calculated کیوں ہوتے ہیں ؟نہیں ہرگز نہیں اور یقیناً نہیں یہ حادثہ نہیں ہے !حادثات تو اس دنیا میں ہوتے ہیں جہاں وہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور فہم کو استعمال کرتے ہوئے ساری احتیاتی تدبیر کرتے ہیں سیفٹی کے نام پر ہر ہر اقدام کرتے ہیں اور اس کے باوجود حادثہ ہوجائے تو وہ کیا وزیر اور کیا مشیر کسی کو نہیں چھوڑتے ہیں
حادثہ نام ہی ناگہانی کے ہونے کا ہے جہاں انسان کی تدبیر کام نہیں آتی “پاکستان میں حادثات نہیں پاکستان میں سانحات ہوتے ہیں “اور ہر سانحہ ترتیب دینے والے ایک ہی تیر سے انسانی لاشوں پر کئی کئی مقاصد حاصل کر لیتے ہیں اور جب انسانی لاشوں کو منوں مٹی تلے دفنا دیا جاتا ہے اور جب آنکھوں سے جاری ہونے والے آنسو کسی دوسرے حادثے کی نظر ہوجاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ حادثہ تو ہوا ہی نہیںُ تھا وہ تو سانحہ تھا سانحہ !

اب کون نہیں جانتا بلدیاٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن حادثہ نہیں سانحہ تھا کون نہیں جانتا بارہ مئی ، آرمی پبلیک اسکول ، باجوڈ اور ساہیوال واقعہ حادثہ نہیں سانحات تھے ۔اس لئے نا اس کی کوئی انکوئیری ہوئی اور نا اس پر کسی کو سزا ہوئی اس لئے آج کہ سانحہ “ تیز گام ایکسپریس” کے بعد بھی وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے ۔حکومتی وزیر نے صدا دی ہے کہ
آرمی چیف صاحب نے مجھے جہاز دے دیا ہے اب میں وہاں جا کر آپ سے تفصیلی بات کروں گا، شیخ رشید کی ریلوے حادثہ پر جیو ٹی وی سے گفتگوریلوے کے مسافروں سے فوری طور پر استعفیٰ لیا جائے۔
شیخ رشیدآگ سلنڈر پھٹنے سے لگی تبلیغی مسافر صبح 5 بجے ؟؟ ناشتہ بنارہے تھے :شیخ رشیدکوئی اس وزیر سے معلوم کرے کہ یہ معلومات تو صرف وہی دے سکتا ہے جو علم غیب رکھتا ہو ورنہ اتنی جلدی اور اتنی پر فیکٹ معلومات معلوم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہمیں معلوم ہے کہ بنی گالا میں پیرنی پیر کا بسیرا ہے مگر اتنی جلدی تو وہ بھی خبر نہیں دے سکتی ۔جس شدد سے آگ لگی ہے یہ سلنڈر کی آگ نہیں اور عنی شاہد بتارہے ہیں کہ آگ AC کمپاٹمنٹ میں لگی ہے اور اگر کوئی ٹرین میں سلنڈر لے بھی جائے تو وہ AC کمپاٹمنٹ میں نہیں لے جاسکتا اور عینی شاہد بتارہے ہیں کہ سارے سلنڈر اسٹیشن پر چیک ہوئے ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سلنڈر پھٹنے سے آٹھ دس بوگیاں کیسے زد میں آگئیں ؟یہ تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی نے کیمیکل مار دیا ہو !

جب عمران نیازی اپوزیشن میں ہوا کرتے تھے تو وہ کہا کرتے تھے کہ “‏ساؤتھ کوریا کا پرائم منسٹر استعفی دیتا ہے کیونکہ کشتی ڈوب جاتی ہے، کشتی وہ تو نہیں چلا رہا ہوتا لیکن وہ کہتا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے کشتی ڈوبی”:عمران خان خیر سے پاکستان میں یہ والی اخلاقیات اپوزیشن تک محدود ہے یاد دیلا کر انہیں اور انکے سپوٹروں کو شرمندہ کرنے سے کیا فائیدہ مگر یہ ایک شعوری قتل عام ہے اس کی سزا وزیر سمیت ہر اس کو ملنی چائیے جو اس میں شامل ہے لیکن خیر سے یہ واقعہ بھی کسی وزارت سے معطلی اور ٹرانسفر اور “لواحقین کیلیے معاوضہ دینے کا اعلان “ جیسے اقدامات کے بیشمار فائیلوں کے نیچے دب کر مر جائے گا لیکن مقاصد حاصل کرنے والوں نے مقاصد حاصل کرلیا

اور کشمیر کا سودا کردیا گیا پہلے عوام کو اقوام متحدہ میں سحرزدہ تقریروں ، جمعہ جمعہ آدھے گھنٹے گھڑے رہنے سے لے کر درخت لگانے اور سیاہ پٹی ہاتھوں میں باندھنے تک مسرور کرنے کے بعد آج خاموشی سے کشمیر کی آزادی کا آخری کانٹا بھی بھارت کے ساتھ مل کر نکال دیا گیا!
اس شورغل میں لوگوں کو معلوم ہوکہ آپکی شہہ رگ کل کاٹ دی گئی ہے اور کل کشمیر کا وجود ایک خودمختار ریاست کے طور ختم کردیا گیا ہے اور آج نئے گورنر تعینات کیے جارہے ہیں اور اب پاکستان میں اس سانحہ سے اٹھنے والی انسانی لاشوں کی چیخ و پکار مہینے تک عوام کو حکومت کی اس غداری سے بے خبر رکھے گی اور جب ہوش آئے گا تو اس وقت تک نیا حادثہ “آزادی مارچ “ کی صورت تیار ہے

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو

ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں

تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا