تقسیم کشمیر کے آخری مراحل ! علی حسنین نقوی

5 اگست 2019 کو بھارت نے بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کی شناخت کو مٹانے کے لیے جو جارحانہ قدم اٹھایا تھا اسے 31 اکتوبر 2019 کو عملی جامہ پہنا دیا گیا، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو لخت کردیا گیا۔

جموں وکشمیر کو لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو کے کنٹرول میں دے دیا گیا جبکہ لداخ میں آر کے مارتھر بطور لیفٹیننٹ گورنر حلف لے چکے ہیں۔اس طرح ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والی ریاست جموں و کشمیر عملی طور تقسیم ہوکر بھارت میں ضم ہوگئی ہے، آئین ہند جموں و کشمیر اور لداخ میں نافذ ہوگیا ہے،ریاست کی سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں پر ہندوستانی پرچم لہرا دیا گیا، ریڈیو اسٹیشن سرینگر اور جموں کے نام بدل کر آل انڈیا ریڈیو رکھ دیے گئے، مختصر یہ کہ ہر وہ چیز، ہت وہ نام جو ریاست سے منسلک،ریاست کی پہچان تھا اسے مٹا دیا گیا یا اسے مٹانے کی تیاری آخری مراحل میں ہے،جموں و کشمیر اور لداخ کے شہری اب الگ شناخت کے حامل نہیں رہے بلکہ وہ صرف ہندوستانی شہری تصور کیے جاتے ہیں۔

5 اگست سے لیکر 31 اکتوبر تک 87 دن لگے ہندوستان کو اپنے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے لیکن اس سارے عمل کو سرانجام دیتے ہوئے ہندوستان کو کوئی خاص پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی فوج کی اضافی نفری تعینات کرکے، لاک ڈاؤن کرکے تقریباً سب کچھ کنٹرول میں رکھا، اور دوسری جانب رہ گیا تھا آزادی کا بیس کیمپ(آزاد کشمیر) اور کشمیریوں کا وکیل پاکستان تو بیس کیمپ کے کردار پر تو گزشتہ کالم میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں رہی بات پاکستان کی تو مملکت خداداد کشمیریوں کے وکیل نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی، سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کی، ولولہ انگیز تقریریں، بھاری بھرکم بیانات، لمبے چوڑے خطابات، یوم یکجہتی، یوم سیاہ، فریڈم ٹری، جمعہ ٹو جمعہ آدھ گھنٹہ کی زبان بندی، غرضیکہ وہ سب کچھ کیا گیا جو 72 سالوں سے ہوا کرتا تھا۔لیکن اتنی بھرپور کاوش کی بھی ہندوستان کی سفاک حکومت نے پرواہ نہیں کی ریاست کو عملی طور پر ضم کردیا،31 اکتوبر ریاست ختم ہوئی اور 1 نومبر کو وزیراعظم پاکستان عمران خان گلگت بلتستان میں یوم آزادی منا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

5 اگست سے جو جو بے یقینی اور ہیجان آزاد کشمیر کی عوام میں پایا جارہا تھا اور جو امیدیں مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کو تھی انکا بھی خاتمہ 31 اکتوبر کو ہو گیا، اُدھر تم اور اِدھر ہم والی چہ میگوئیاں بھی حقیقت کا لباس پہننے لگی کہ آخر ریاست ٹوٹ گئی لیکن بیس کیمپ اور ہمارا وکیل روایتی پالیسی اپنائے کشمیریوں کی بربادی کیوں دیکھتا رہا؟ بین الاقوامی تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کو انٹرنیشنل لاء، اقوام متحدہ، قردادوں ،معاہدوں کی دھجیاں بکھیر ہندوستان نے آسانی سے خود میں ضم کر لیا اور ہم کچھ نہ کرسکے کیوں؟ اس طرح کے بے شمار سوالات یہ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا یہ اچانک نہیں ہوا یہ تقسیم کشمیر کے منصوبے کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا، ورنہ ایک طرف نیلم ویلی میں ہماری لاشوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کرتارپور راہدری پر جوشیلے بیانات کیسے دے رہے ہیں؟ اتنی بے حسی کیسے؟

اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر گزشتہ دنوں تقسیم کشمیر کے ایک نئے فارمولے کا انکشاف بھی ہوا ہے،زرائع کے مطابق اس فارمولے کا نام ''اندور پلان'' ہے اس پلان کے مطابق لداخ اور مقبوضہ جموں کا ہندو اکثریتی علاقہ بھارت کے پاس رہے گا جبکہ چین کے زیر قبضہ ریاست کا علاقہ چین کے پاس ہی رہے گا اور دوسری جانب گلگت بلتستان پاکستان کے پاس رہے گا جبکہ آزادکشمیر، مقبوضہ جموں اور وادی کے مسلم اکثریتی علاقوں کو متنازعہ علاقہ مان کر ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان چھوڑا جائے گا اور پھر ممکنہ طور حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ان مذکورہ علاقوں میں رائے شماری کی تجویز یا نیم خودمختاری دی جائے گی۔

اس سب سے یہ بات تو واضح ہوچکی ہے کہ کشمیریوں کو یا تو اپنی جنگ خود لڑنی ہے اور آخری حد تک جاکر لڑنی ہے اور یا تقسیم کشمیر پر آمین کہہ کر روزانہ ذلت سے مرنا ہے۔یہ فیصلہ اب کشمیریوں کا ہے۔