اہل المورد کا المیہ !محمد عرفان ندیم

المورد لاہور ،روایتی فکر کے پرسکون سمندر میںایک طوفان کا استعارہ ہے ،ایسا خطرناک طوفان جس نے رطب و یابس ، جائز و ناجائز اور حلا ل و حرام سب کو باہم خلط ملط کر دیاہے ،اس کی لہریں اس قدر شدید ہیں کہ روایتی فکرکے مضبوط پشتے بھی اس کی شدت کو کم نہیں کر سکے ۔لازم ہے کہ روایتی فکر اور سنجیدہ اہل علم کی طرف سے اس طوفان کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کا جائزہ لیاجائے اور اس کی شدت کو کم کیا جائے ۔

محترم جاوید احمد غامدی جن کا ظہور اکسیویں صدی کے آغاز میں الیکٹرانک میڈیا کے جلو میں ہوا اس ادارے کے صدر نشین ہیں ۔غامدی صاحب نے بیسویں صدی کے ربع آخرمیں علمی دنیا میں قدم رکھا ، مولانا مودودی سے کسب فیض کیا ، یہاں کامل تشفی نہ ہوئی اور مولانا اصلاحی کے حلقے میں آگئے ، یہاںیک گونہ اطمینان قلب ہوا اور مستقل طور پر دبستان فراہی سے وابستگی اختیار کر لی ۔ غامدی صاحب کواپنے ظہور کے وقت سے ہی وہ تمام اسباب میسر ہوئے جو کسی فکر کو عام کرنے میںلازم ہیں، الیکٹرانک میڈیا کاوجود اہل زبان کے دم بدم سے آباد ہے ۔غامدی صاحب اس فن میں طاق ہیں ، تہذیب ، شائستگی اور برجستگی ، کوئی وجہ نہیں تھی کہ انہیں ٹی وی پر جگہ نہ دی جاتی ،اس پر مستزاد ان کی روشن خیال فکر اور اس پر مستزاد حضرت مشرف کا روشن خیال دور ۔

کوئی انسان یکسو ہو کر کسی فکر پر محنت کرے قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح ہے یا غلط، ساری کائنات اسباب مہیا کرنے میں لگ جاتی ہے۔غامدی صاحب جو بیسویں صدی کے ربع آخر سے ، یکسو ہو کر ، دربدر پھرتے ،افراد پر محنت کر رہے تھے آخرمنزل مراد کو پہنچ گئے ۔ میڈیا نے غامدی صاحب کو کیش کیا اور غامدی صاحب نے میڈیا کو ، دونوں اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے ، میڈیا کی رونق آباد رہی او ر غامدی صاحب اپنی فکر کو عام کرنے میں مگن رہے۔اکیسویں صدی کا آغاز ٹی وی چینلز کے جلو میں ہوا تھا ، اکیلے غامدی صاحب کس کس چینل پر قدم رنجہ فرماتے ، اس کشاکش نے عامر لیاقت جیسے ’’مذہبی اسکالرز‘‘ کو جنم دیا جس سے آگے پوری ایک چین وجود میں آئی ، اس کی انتہائی شکل رمضان پروگرام ہیں،گویا ان خرافات کا کریڈٹ کسی نہ کسی طور غامدی صاحب کو بھی جاتا ہے۔

دوسری طرف نوجوانوں کی کثیر تعداد جن کا دین کے بارے میں علمی سطحی تھا غامدی صاحب کے حلقہ دام میں آ گئے ،ہمارے ہاں ایسی کلاس ہمیشہ سے موجود رہی ہے جسے دین کی روشن خیال اور من پسند تشریح بھاتی ہے ، غامدی صاحب اس کلاس کے ممدوح ٹھہرے ۔ اس کے ساتھ کچھ اہل علم جوباقاعدہ دینی مدارس کے سند یافتہ اور بزرگان دین کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر چکے تھے اور بعض ایسے جو نامور علمی ودینی گھرانوں کے چشم و چراغ تھے اس قافلہ غامدی کے ہمرکاب ہوئے ۔ غامدی صاحب کے افکاراور تشریحات سے مذہب کی جومجسم شکل بن کر ظہور میں آتی ہے وہ روایتی فکر سے یکسر مختلف ہے ۔عام فہم الفاظ میں اسے محض تفردات کا مجموعہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہ جاننا اہم ہے کہ تفرد کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے ۔ کیا ہر فرد کے اجتہاد اور فہم کو تفرد کا نام دیا جاسکتا ہے یا اس کی کچھ شرائط اورحدودو قیود ہیں ۔

اہل علم کے نزدیک ایسا عالم جو دینی علوم و فنون پر کامل دسترس رکھتا ہو ، اس کا تقویٰ اور دینداری ضرب المثل ہو ، علم اور خلوص نیت مسلم ہو ، اصول و فروع میں روایت کا تابع اور جمہور امت سے متفق ہو ، وہ اگر کسی خاص مسئلے پر، اپنی علمی استعداد اور فہم کی بنیاد پر کوئی الگ رائے اختیار کرے تو اسے تفرد کہا جاتا ہے ۔تفرد کی اگر مثالیں دیکھنی ہوں تو روایت میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ، مثلا بعض کبار صحابہ بھی اہل تفرد میں شمار ہوتے تھے ، تابعین او ر تبع تابعین میں بھی ایسی مثالیں مل جاتی ہیں ، ان کے بعد کی علمی روایت میں بھی اہل تفر د موجود رہے، ابن تیمیہ کے تفردات تو زبان زد عام ہیں ، ماضی قریب میں شاہ ولی اللہ اور مولانا انور شاہ کشمیری اسی صنف میں آتے ہیں ۔

تفرد کا حکم یہ ہے کہ یہ قابل عمل نہیں بلکہ قابل رد ہوتا ہے ، یہ ایک طرح کی غلطی ہوتی ہے جسے صاحب علم کی شخصی وجاہت ، علمی مرتبے اور مسلمہ صلاحیت و دیانت کی بدولت نظرانداز کر دیا جاتا ہے، اسے لگ رائے اور فہم کو اپنانے کی رعایت دی جاتی ہے۔ جو شخصیت جمہور اور روایت کے نزدیک پہلے ہی متنازع اور مشکوک ہو اس کے نتائج فکر کو تفرد کا نام نہیں دیا جا سکتا ، تفرد کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ اس کا مدعی اکثر مسائل میں اجماع کا قائل اور امت کو اجماع کی طرف بلاتا ہو، سوائے ان دو چار مسائل کے جن میں اس کا فہم اسے کسی دوسری جگہ لے گیا ہو ۔ میں مثالیں پہلے دے چکا، غامدی صاحب کا معاملہ البتہ اس سے قطعی مختلف ہے ۔

اہل علم کے اس مقدمے کی روشنی میں غامدی صاحب کو تشریح دین کے منصب کا اہل نہیںسمجھا جا سکتا ۔اس منصب کے اہل ہونے کی سب سے بنیادی شرط عالم کی ہے اور جمہور امت اور روایت کے نزدیک وہ عالم کہلانے کے مستحق نہیں۔میرا حسن ظن ہے کہ خود غامدی صاحب بھی خود کو عالم کہلانے پر مصر نہیں ہوں گے۔ دوسرے نمبر پر اجتہاد وتفرد کے لیے دینی علوم ووفنون پر جس درجہ کی مہارت درکار ہے غامدی صاحب کو اس کی بے مائیگی کا بھی اعتراف ہے جس کاا ظہاروہ متعدد مواقع پر کر چکے ہیں ۔غامدی صاحب جمہور امت اور روایت کے تابع بھی نہیں کہ انہوں نے ہر جگہ روایت سے انحراف کیا ہے ۔ البتہ ان کے تقویٰ اور خلوص نیت پرکلام نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ان کا اور اللہ کا ذاتی معاملہ ہے ۔اپنی حد تک وہ دین کے ایک طالب علم کے طور پر، ہر صاحب علم کی طرح دین کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔البتہ ان کے نتائج فکر کو بحیثیت مجموعی سماج کے لیے قابل عمل یا حجت قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

وہ مذہب کی جو تصویر پیش کرتے ہیں اس میں فقہ و اجتہاد کا سرے سے کوئی وجود نہیں ، انہوں نے ماضی کے اہل علم کے پیش کردہ تفردات کو جمع کرکے ایک فقہ ترتیب دی جسے اپنی فکر اور مزاج کے رنگ میں رنگ دیا ۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا جعفر پھلواری، عمر عثمانی، اسلم جیراج پوری، غلام احمد پرویز ، مولانا وحید الدین خان اور تمنا عنادی کی فکر سے استفادہ کر کے ، ان سب افکار کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کیا ہے اور یہی ان کا کمال ہے۔

غامدی صاحب کی فکر نے دین کے مسلمات کو کس قدر نقصان پہنچایا اہل روایت کو اس کا احساس ہونا چاہئے اور سنجیدہ اہل علم کو اس پر گرفت کرنی چاہئے۔ کتنے ہی نفوس ایسے ہیں جنہوںنے غامدی صاحب کی فکر سے متاثر ہو کر دین کے مسلمات کا انکار اور فرائض و واجبات کو ترک کیا ، کیا قیامت کے دن ان کا بار غامدی صاحب کی گردن پر نہیں ہو گا، میرا خیال ہے غامدی صاحب کواس پہلو پر بھی غور کر لینا چاہئے ۔