تبدیلی کو چھان پھٹک لیجئیے- رمانہ عمر ریاض

پچھلے بیس برس سے سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں رہائش کی وجہ سے کچھ ایسی عادتیں مزاج کا حصہ بن گئ ہیں اور ایسی آسانیاں میسر ہیں جن کا تصور یہاں سے باہر نکل کے کر ہی نہیں سکتے ۔ ان ہی میں سے ایک پانچ وقت کا نظام صلات ہے ۔

کسی میکانکی عمل کی طرح مقرہ وقت سے دس منٹ قبل اعلان ہوتا ہے اور وسیع وعریض شاپنگ مال سے لے کے گلی محلے کے بقالے تک کھٹاکھٹ بند ۔ اب اس بیس سے تیس منٹ کے دوران کوئی مسجد جائے یا دکان کے باہر بیٹھا وقت بتائے ، بہرحال کسی قسم کی سرگرمی ناممکن ہوتی ہے ۔ اس نظام کی برکت سے آج تک ایک بار بھی پانی کی تلاش ، غسل خانہ کی فراہمی ، مصلی کی موجودگی مسئلہ نہیں بنی ۔ ہم جہاں کہیں موجود ہوتے فیملی سمیت نماز ادا کر لیتے تھے ۔
ویژن ۲۰۳۰ ۔۔۔ تبدیلی کا وہ عنوان ہے جس سے سعودی عرب میں بہت سی امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں ۔ تبدیلی کی ان جہتوں میں سے ایک یہ ہے کہ عوام کو مخلوط تفریح مہیا کی جائے جسے فیملی کے طور پہ سب انجوائے کر سکیں ۔ ماضی میں کچھ تفریحی مقامات پہ خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ دن منتخب ہوتے تھے ۔ رواں ماہ میں “موسم ریاض " riyadh season " کے نام سے تفریحی مواقع کا سلسلہ منعقد کیا جا رہا ہے ۔یہ ایک فیسٹیول ہے جو شہر کے چیدہ مقامات پہ لگایا گیا ہے ۔ ہم ایک روز فیملی کو لئیے اس کے دیدار کو چلے اور جب تک وہاں پہنچے تو مغرب کی اذان ہو چکی تھی ۔

عادت کے مطابق آس پاس مصلی نساء تلاش کیا اور مایوس ہوکر سیکیورٹی اہلکار سے دریافت کیا ۔ پتہ چلا کہ دور دور تک مسجد نہیں کیونکہ یہ عارضی انتظام ہے جو کھلے میدان میں لگایا گیا ہے ۔ ہم سے کہا گیا کہ اندر جانے کے بعد مصلی مل جائے گا ۔ اب جو ہم ٹکٹ کی لائن میں لگے تو محسوس ہوا کہ وہ چیونٹی کی رفتار سے سرک رہی ہے ۔ آسمان پہ سرخی غائب ہوتی جارہی تھی اور دل میں بے چینی بڑھ رہی تھی سو قطار سے نکل آئے ۔ وہیں کونے میں پاکٹ جائے نماز بچھائی اور فرض ادا کئیے ۔ بیٹی کو بوتل میں میسر پانی سے وضو کروایا اور دل میں ایسی ہوک اٹھی کہ میں وہاں موجود منتظمین سے اس کی شکایت کرنے چلی گئ ۔ اپنی واجبی سی عربی میں مدعا بیان کر چکی تو اس نے بے بسی سے کہا میں کیا کرسکتا ہوں میری تو اپنی مغرب قضا ہو گئ ہے ۔ ڈیوٹی پہ ہوں اور وقفہ نہیں دیا گیا ۔ میں اپنی آنکھوں سے دیکھتی رہی کہ شفق پہ لالی ختم ہوئی اور لوگوں کا جم غفیر لمبی لائنوں میں کھڑا رہا ۔ شائد یہ بیرونی دنیا میں ایک عام منظر ہو لیکن جسے یہاں وقت گزارنے کا موقع ملا ہو وہ جان سکتا ہے کہ یہاں پبلک مقامات پہ اذان کے بعد صف نہ بننا ایک انہونی بات ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

چار چار پانچ پانچ مرد شامل ہوتے جاتے ہیں اور جماعت ہوتی رہتی ہے ۔ خواتین کی مسجدیں بھی بھر جاتی ہیں ۔ بیس برس میں پہلی بار یہ ادراک ہوا کہ انفرادی نماز پڑھنے اور نظام صلات کا حصہ ہونے میں کتنا نمایاں فرق ہے ۔ تبدیلی بذات خود اچھی ہوتی ہے نہ بری ۔ لیکن اگر سمت متعین اور درست نہ ہو تو تبدیلی الٹی سمت بھی لے جا سکتی ہے ۔جسے inverse progression کہتے ہیں ۔ میری دعا ہے کہ حرمین کی یہ پاک سرزمین پرانے نظام سے نئے نظام کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے اپنے قیمتی اثاثے اپنے ساتھ ساتھ لے کے چلے ۔ آمین