وسیع القلب ہمسائےہمارے - مریم حسن

ہمارے ہمسائے خاصے وسیع القلب لوگ ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ جو چیز انہیں پسند ہو اس سے سارے محلے کو مستفید کریں۔ کوئی بھی موقع ہو وہ اسے اکیلے نہیں گزارتے، ہر ایک کو اپنے ساتھ شریک کرتے ہیں۔ ہمارے لیے تفریح طبع کا بھرپور اہتمام ہوتا ہے۔ محرّم میں نوحے اور مرثّیے، موقع کی مناسبت سے منقبت، ربیع الاوّل میں نعتیں، ہر نیا آنے والا گانا، شادیوں کے سیزن میں بھی اُن کے گھر سے بلند ہوتی آوازیں ماحول بنائے رکھتی ہیں۔

ربیع الاوّل کا مہینہ شروع ہوتے ہی باآواز بلند ڈیک پر نعتیں بجنا شروع ہو جاتی ہیں (جس قدر موسیقی اور دھمک کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں اس کے لیے بجنے کا لفظ ہی مناسب ہے) جنہیں چاہتے ہوئے یا ناچاہتے ہوئے بھی سُننا پڑھتا ہے، کبھی اگر ان نعتوں کے Lyrics پہ غور کروں تو مجھے سوچنا پڑھتا ہے کہ یہ واقعی نعتیں ہیں؟
سکول میں پڑھی گئی نعت کی تعریف کے مطابق نعت ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں نبی کریمؐ کی تعریف بیان کی جائے، جب کہ آج کل کی بیشتر نعتیں اس معیّار پر پوری نہیں اترتیں۔ نعت تحریر کرنے والے اس شرط کو بُھلا کر لکھ دیتے ہیں جسے ہمیں نعت ہی سمجھ کہ سننا ہوتا ہے، کہیں حُبِ نبوّی کے جذبے سے لکھی نعت میں محبت اور شرک کے درمیان کوئی حدبندی ہی نظر نہیں آتی۔ مزید یہ کہ موسیقی کا تڑکا لگا کر عشقِ نبوّیؐ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ وہ نبیؐ جنہوں نے موسیقی کو حرام قرار دیا تھا، ان کی تعریف کے لیے ان کی نعت موسیقی کے ساتھ ترتیب دینا مناسب عمل تو نہیں ہے۔ بات یہاں پر بھی نہیں رکتی بلکہ اب ایک نیا ٹرینڈ شروع کیا دیا گیا ہے۔ مشہور گانوں کی طرز پر نعتیں ترتیب دی جاتی ہیں، انہیں سن کر انسان نبی کریمؐ سے محبت تو کیا محسوس کرے ذہن میں وہی گانا گونج رہا ہوتا ہے جس کی دھن پر نعت بنائی گئ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت ایک دن کی :حافظ امیرحمزہ سانگلوی

کیا یہ نبی اکرمؐ کی اُن کی ذات کی بے ادبی نہیں ہے؟ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے غلط ہی نہیں سمجھا جاتا, اگر جو کچھ کہا جائے تو اسے نبیؐ کی نعت کے خلاف بات کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اگر روکیں تو کسے روکیں اپنی بات کہیں تو کیسے؟ کوئی سننے کو راضی ہی نہیں ہوتا. ہمارے نبیؐ جنہوں نے فرمایا تھا کہ "میں آلاتِ موسیقی توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہوں" (مفہوم) اور جو موسیقی کی آواز سن کہ راستہ بدل لیا کرتے تھے اُن کی تعریف اور اُن سے محبت کے اظہار کے لیے اُنہی کی حرام کردہ چیز؟ چہ معنی دارد؟ ہمارے ہاں کسی اہم عہدے پر موجود شخصیت کے لیے چیک اینڈ بیلنس سسٹم موجود ہے، کسی اہم شخص کے خلاف آپ بات نہیں کر سکتے جو توہین کے زمرے میں آتی ہو، سوشل میڈیا پر بھی نظر ہوتی ہے، نامناسب اپروچ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کا بھی امکان ہوتا ہے۔پھر ہمارے لیے محترم ترین ہستی کے تعریف اور ان کے خلاف کی جانی والی باتوں پر کوئی نظر کیوں نہیں ہے؟ ایک سینسر بورڈ ایسا بھی ہونا چائیے جو ان نعتوں پر نظر رکھ سکے۔ ایک ضابطہ ہونا چائیے جس کے تحت ایک خاص معیار ہر اترنے والی نعتوں کو ہی چلانے کی اجازت دی جائے۔

ISPR کا ادارہ جو ہر قومی دن پر ملک کے بہترین لوگوں کو لے کر نغمے تخلیق کرتا ہے، وہ اس موقع پر اچھے شعراء سے نعت تحریر کروا کر ایسی نعت فراہم کرے جیسی نبیؐ کی نعت ہونی چائیے۔ اس مسئلے کا نوٹس لیا جانا چاہیے کیونکہ نادانستگی میں بہت سے لوگ اس توہین کے مرتکب ہورہے ہیں، ایک سوموٹو اس کا بھی ہونا چاہیے کیونکہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے متعلق مسئلہ چھوٹا مسئلہ نہیں ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بجا فرمایا۔ہم سے زیادہ تو غیر مسلم کو پتا ہے کہ کس طرح کے الفاظ بطور تعریف استعمال کیے جاتے ہیں ایسی ہستیوں کے لیے۔ہمارے علاقے کے سکھ حضرات بھی اگر کبھی نعت پڑھیں تو یقین مانیں ان کے اشعار میں ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ اعتراض کیا جائے البتہ آپ اس کو اصل تعریف کے معنوں میں ہی لیتے ہیں۔اللہ ہم مسلمانوں کو بھی صحیح معنوں میں ان کی شان کے مطابق اپنے قلم کو استعمال کرنے والا بنائے۔آمین