مہنگائی اور غریب کا حال - سعدیہ طاہر

آج پھر ماش کی دال۔۔۔ازکی نے منہ بنایا ازکی کی بات سن کر میں کن اکھیوں سے صغری ماسی کو دیکھ رہی تھی جو آلو گوبھی رغبت سے کھا رہی تھی اور تھوڑا سا کھانے کے بعد باقی پلیٹ صاف کرکے احتیاط سے ایک تھیلی میں خالی کرکے رکھ رہی تھی۔۔ یقینا یہ بچوں کے لئے رکھا تھا۔۔۔

گاوں سے واپسی کے بعد صغریٰ میں یہ بڑی تبدیلی نظر آرہی تھی پہلے تو پلیٹ میں دیکھتی اگر پسند کا سالن ہوتا (گوشت یا مرغی) تو خوشی خوشی لے جاتی ورنہ خاموشی سے چھوڑ کے چلی جاتی۔ ویسے آلو گو بھی بھی کونسا سستا آئٹم ہے ۔۔میں نے سر جھٹکا گوبھی ڈیڑھ سو روپے کلو تو آلو پچاس اور پھر ٹماٹر !! ٹماٹر کو تو آگ لگی ہوئی ہے جیسے۔۔ پیاز سو روپے پورا حساب لگاو تو 4 سو روپے کہیں نہیں گئے ۔۔سبزی والے سے بولو تو وہ رو رہا ہوتا ہے "بھئ میں کیا کروں منڈی والے نواب بنے ہوئے ہیں مہنگی کردی ہر چیز ۔۔پھر گاڑی والے نے(جو سبزی لے کر آتا ہے) کرایہ بڑھا دیا کہ پیٹرول مہنگا ہوگیا ہے" باجی مجھے تو ابھی بھی اتنا ہی ملتا ہے جتنا پہلے ملتا تھا۔۔بات تو اس کی بھی صحیح ہے۔۔اور یہ 10 سے 15 ہزار کمانے والی ماسی اپنے بچوں کا علاج کریں( اس کے دو بچے ڈینگی کے بخار میں مبتلا ہیں جس کے ایک دن ہی 500 خرچ ہوجاتے ہیں) یا اچھا کھانا کھلائیں ۔۔کل ایک کھاتے پیتے محب حکومت صاحب کے منہ سے یہ اعتراف سنا تھا۔کہ باقی سب ٹھیک ہے بس افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ غریب کے منہ سے نوالہ چھن گیا ہے ۔ وہ کیا جانیں کہ دو تین دن کی بھوک یا تو آدمی کو فقیر بنا دیتا ہے یا چور اچکا ۔۔۔ایک تنخواہ دار ملازم نہیں بتا سکتا کہ مہینے کے آخر میں اس کا بجٹ برقرار رہ سکتا ہے یا نہیں۔۔

یہ بھی پڑھیں:   مظلوم عوام - صائمہ عبدالواحد

مقامی مارکیٹس میں عام صارف کے لئےگزشتہ ایک سال کے دوران اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے توپاکستاں کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق 2017 میں 4.6 اور 2018 میں مہنگائی کی شرح 6.2 اور2019 میں7.64 رہی اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ مصالحہ جات میں ہوا جو ایک برس پہلے کے مقابلے میں 15 فیصد مہنگے فروخت کئے جارہے ہیں۔گوشت 13 فیصد چائے 11 فیصد پھل 10 فیصد جبکہ چاول مرغی کی قیمت میں نو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ان حالات میں عام آدمی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔۔ملک میں فیکٹریاں بند ہورہی ہیں۔کاروبار ٹھپ ہورہے ہیں۔روز گار کے نئے مواقع جن کی توقع لئے عوام پر امید نظروں سے اپنے لیڈروں کو دیکھ رہی تھی اس کی امید بھی ختم کروادی۔۔اور پھر لنگر خانوں کا رواج ڈال کر رہی سہی عزت نفس بھی داو پہ لگائی جارہی ہے۔ لیکن مایوسی بھی کفر ہے ان شاءاللہ جب اللہ کا بتایا ہوا نظام آئے گا تو یقینا" خوشحالی بھی ہمارے ملک پہ دستک دے گی ۔غریب غریب تر اور امیر ، امیر تر نہیں ہوگا۔۔ "باجی میں نے کپڑے سوکھنے ڈالدئے" صغری کی آواز نے خیالوں کا سلسلہ توڑ دیا۔لیکن امید کا سلسلہ بھی قائم ہے۔