تقاضہ عشق نبی ﷺ - ماریہ فاروق

جدید تراش خراش کے لباس میں ٫آستینوں سے بے نیاز ایک نو عمر بچی ریمپ پر چل رہی تھی ۔ایک ہاتھ میں مائیک تھاما ہوا تھا۔میں اس کے انداز پر حیران تھی جو تمام سامعین کو اپنی جانب بھرپور متوجہ کیے ہوئے تھی۔زرا غور سے الفاظ سنے ,وہ ایک معروف حمد پڑھ رہی تھی۔

بیچ میں آ کر کسی ماہر گلوکار کی مانند 1,2,3 کہ کر حاضرین کو اپنے ساتھ شامل کر کے سماں باندھ لیا ۔اطراف میں بیٹھے شرکاء تالیاں بجا کر داد پیش کر رہے تھے۔
یہ سارا تماشہ میں اپنے ہاتھ میں تھامے سیل فون کی اسکرین پر دیکھ رہی تھی۔وڈیو دیکھتے ہوئے کئی سوچیں زہن میں ابھرنے لگیں۔ماہ ربیع الاول شروع ہو چکا ہے۔ اکثر تعلیمی اداروں اور مساجد سے لاؤڈ اسپیکر سےنعتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ہر گلی میں ایک یا دو گھروں پر لازمی چراغاں نظر آتا ہے۔چینلز دینی ہو چکے ہیں ۔صبح شام نعتیں نشر کی جا رہی ہیں۔ زرا غور کریں تو بہت سی نعتیں شرکیہ الفاظ پر مشتمل ہیں۔اس پر سے مستضاد آلات موسیقی کے باعث توہین کے زمرے میں آتی ہیں۔ میک اپ سے سجی خواتین , روشنیوں کی چکا چوند میں, کیمرہ مین کے سامنے اپنی سریلی آوازوں میں نعتیں پیش کرتی ہیں جو کہ بذات خود اللہ کے رسول کو ناراض کرنے والا عمل ہے۔اس وقت سوشل میڈیا پر شرکیہ نعتیں اتنی تیزی سے گردش کر رہی ہیں مثلاً تاجدارِ حرم اسکا ایک مصرعہ کچھ یوں ہے۔
"آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر۔۔ ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے۔۔" اس کے علاوہ ایک نعت "در نبی پر پڑا رہوں گا ۔۔۔۔۔" بھی تعلیماتِ نبوی سے ٹکراتی ہے۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو زندگی کے ہر گوشے پر اللہ کی تعلیمات نافذ کرنے کے لیئے مبعوث کیے گئے تھے لیکن اب کچھ لوگوں نے اس کو عقیدت میں ڈوب کر نعتیں پڑھ لینے تک محدود کر دیا ہے . مجھے یاد ہے میرے اسکول میں جب کبھی اسمبلی میں نعت پیش کی گئی تو ہماری اساتذہ کرام نے نعتوں کے انتخاب میں بے حد احتیاط سے کام لیا۔ ایسی نعتیں جن میں 'یا رسول اللہ' کا لفظ ہوتا یا نبی کے درجے کو نعوذباللہ خدا کے برابر کر دیا جائے ,انہیں مسترد کر دیا جاتا۔اس لیے میں اس معاملے میں بے حد حساس ہوں۔ تواتر سے شیئر ہونے والی نعتوں میں ان باتوں کا خیال نہیں کیا جاتا ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیغام کو جہاں تک ممکن ہو سکے عام کیا جائے۔نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت کا تو یہ تقاضہ ہے کہ کسی ایک سنت پر عمل کرکے اس پر آگے بھی کاربند رہنے کی کوشش کی جائے۔صرف چند دنوں کے لئے اپنے اندر کے مسلمان کو مت جگائے بلکہ اپنے جزبات کو نمو دیجئے ۔ یہ ہے وہ سیرت کا پیغام جو ان نمائشی مظاہروں میں دھندلا گیا ہے ۔ آئیے حقیقی معنوں میں سنتوں کو زندہ کرتے ہیں اور عاشقان نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا نام درج کراتے ہیں۔