بےتکلف گفتگو ضروری ہوتی ہے۔-میاں جمشید

چینی زبان میں ’’گفتگوئے شبانہ‘‘ ایک ایسی ترکیب ہے، جس کا مطلب کسی دوست سے رات بھر دل کی باتیں کہنا سننا ہے۔ چاہے یہ باتیں ہوچکی ہوں یا ہونے والی ہوں۔ مگر دوست سے رات بھر عمدہ باتیں کرنے کی اعلیٰ ترین مسرت بڑی نایاب چیز ہے۔ شاید تبھی اپنے ایک دوست سے جی بھر کر باتیں کرلینے کے بعد چینی عالَم کے منہ سے یہ زبردست قول ادا ہوا تھا کہ ’’تمہارے ساتھ پوری رات باتیں کرنا پورے دس برس کے مطالعے سے بہتر ہے‘‘۔

بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کل کی افراتفری اور نفسانفسی کے عالم میں ہم اپنے دوستوں کی بہترین بیٹھک سے دور ہوچکے ہیں۔ اور اگر کبھی ایسی محفل میسر بھی ہو تو گھوم پھر کر بات روزمرہ کے مسائل پر آ ٹکتی ہے، تبھی محفل کا سارا لطف جاتا رہتا ہے۔ گفتگو تو ایک بےتکلفانہ چیز ہے۔ اس کے موضوعات کاروباری نہیں بلکہ زندگی کی عام چیزیں اور باتیں ہوا کرتے ہیں۔ لیکن مسائل سے بھرپور زندگی نے تو اب عمدہ و بے تکلف گفتگو کرنے کا سلیقہ ہی چھین لیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی بہت تیز رفتار ہوگئی ہے، کیونکہ اچھی گفتگو تو تبھی ہوپاتی ہے جب زندگی میں فراغت اور ایک ٹھہراؤ ہو۔

اب تو بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو خوش گفتار ہوں۔ جن کی نہ صرف آواز کے اتار چڑھاؤ سے ہم لطف اٹھاتے ہوں بلکہ باتوں کے دوران ان کے چہرے اور بازو کی حرکات و سکنات بھی مزہ دیتی ہوں۔ تب ایسے لوگوں کی محفل میں پرانے واقعات دہرانے، دوستوں کی باتیں، شرارتیں یاد کرنے اور کھلکھلا کر ہنسنے کا اپنا ہی سواد ہوتا ہے۔ مگر اب کہاں سے لائیں ایسے دوست؟ اب یہ بھی نہیں کہ وہ کھو چکے ہیں۔ ہیں تو سہی، مگر غمِ زندگانی کی وجہ سے ان میں گفتگو اور مسکراہٹ کا فن کہیں لاپتہ ہوچکا ہے۔

بات یہ ہے کہ فنِ گفتار اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ذرا فارغ البالی نصیب ہو اور وقت کی فراوانی ہو۔ کمرے کا ماحول پرسکون ہو۔ بندہ بے تکلف اور آزاد ہو۔ من پسند یاروں کی بیٹھک ہو، جس میں گفتگو کرنے والے سب اپنے آپ میں کھو چکے ہوں۔ سب باتیں دل کی گہرائیوں سے نکلتی محسوس ہوں۔ ایک دوست ٹیبل کے ساتھ جڑ کر بیٹھا ہو، کوئی صوفے پر لیٹا ہو، کوئی فرش پر ہی بے تکلفی کے ساتھ بیٹھا ہو یا کسی نے پورے بیڈ پر قبضہ کیا ہوا ہو۔ سب کیا کھا پی رہے ہیں، ٹھنڈا ہے گرم ہے کوئی پروا نہ ہو۔ بس ڈھیر ساری باتیں ہوں۔ کوئی موبائل، لیپ ٹاپ درمیان میں نہ ہو۔

ویسے بھی اچھی گفتگو کرنے کےلیے عمدہ کتب و رسائل پڑھنے کا باقاعدہ شوق رکھنا پڑتا ہے۔ اچھی فلم و موسیقی سے وابستگی رکھنی پڑتی ہے۔ لیکن اب کہاں ہوتا یہ سب۔ ہماری بےہنگم و بے ترتیب زندگی میں ان سب کےلیے کوئی مستقل جگہ ہی نہیں رہی۔ لے دے کر سوشل میڈیا ہی رہ گیا ہے، جہاں پر زبان و بیان کا کوئی معیار ہی نہیں۔ سچی اور جھوٹی بات کی کوئی پہچان ہی نہیں رہی۔ سلیقہ مند اور شائستہ گفتگو کرنے والے چیدہ چیدہ ہی ملتے ہیں۔ آوارہ اور بازاری باتوں کی بھرمار ہے۔ اور یہی سب اب ہماری ملنے ملانے میں شامل ہوتا جارہا ہے۔

تو جناب! حرفِ آخر یہ کہ ایک اچھے معاشرے کی بہتری کےلیے ہمیں عمدہ، بے تکلف گفتگو اور اچھی بیٹھکوں کو برقرار رکھنا ہوگا۔ جس میں موضوع کا کوئی خاص تعین نہیں ہوتا۔ اس ماحول میں سنجیدگی، زندہ دلی اور حسنِ مذاق سب شامل ہوتا ہے، باتیں چل نکلتی ہیں تو قہقہوں کی آشنائی میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہیں۔ ان میں کوئی سلسلہ یا ربط نہیں ہوا کرتا۔ اس لیے جب محفل برخاست ہوتی ہے تو ہر شخص خوش و بے فکری سے اپنے گھر کو لوٹتا ہے۔

Comments

میاں جمشید

میاں جمشید

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.