راستے ناہموارعوام پریشان -لطیف النساء

کراچی اتنا بڑا شہر روشنیوں کا شہر لاکھ شکایتوں کے باوجوداپنی مثال آپ ہے مگر نہ جانے کیوں اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔ حکومتی اداروں کی لاپرواہی اور عوام کی بھی ہر مرحلے پر کوتا ہی اس کی بنیادی وجوہات ہیں ۔ میگا پرا جیکٹ گرین لائن ، انڈر پاس، اوور ہیڈ بریجز اور سڑکوں کی تعمیر کے مراحل اتنے اچھے احساس ہیں مگر تعمیراتی کام کی سست رفتاری، تعمیراتی مواد بمع کچرا کونڈی ہیوی ٹریفک اور عوام کا رش سب ملکر پورے ماحول کو تباہ کر رہے ہیں ۔

تعمیراتی کام منظم طریقے سے ہونا چاہئے بہترین منصوبہ بندی اور منظم اور متبادل انتظامات کے ساتھ تکلیف دہ نہیں ہوتا مگر یہ کیا ؟M.A جناح روڈ پورے ناظم آباد سے ٹاور، لسبیلہ سے گرومندر سے ہوتے ہوئے ٹاور تک جاتی ہے ۔ یہ راستہ پورا کا پورا کھود ڈالا ہے ۔ کسی کو گارڈن جانا ہے تو دوسری طرف طارق روڈ ۔ گارڈن بورہ پیر کھارادر کی سیدھی سڑک کو بند کرکے مختلف پیچیدہ راستے۔ لمبے اور مشکل تھکا دینے والے راستے کیونکہ جگہ جگہ تو کھدائی ہوئی ہے ۔ کچرا کونڈی کھڈے پھڈے ، ابلتے گٹر ، گندہ کھڑا پانی اوپر سے اردگرد چھائونیاں ، کون لوگ ان میں ہیں اور کیوں ؟اسی طرح جھوگیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ سارا راستہ دھواں دھار منٹوں کا سفر گھنٹوں میں اور بھی دھکوں کے ساتھ مشکل سے گزرتا ہے ۔ اسی طرح ناظم آباد سے حیدری والی سڑک فا ئیو اسٹار کا علاقہ ارد گرد تعمیراتی کاموں ، نالوں اور باڑوں کی وجہ سے تنگ سے تنگ ہوتا جا رہا ہے یہ پورا راستہ کھودا ہوا ہے ۔

سڑک کے کے دونوں طرف کچرا کونڈی، سریے پیدل چلنے کی تو جگہ ہی نہیں پھر مزید خراب گا ڑیاں ، موٹر سا ئیکلیں ، چنچیاں ہیوی وہیکل ٹرکیں اور بوسیدہ ٹو ٹی ہوئی بسیں جن میں پھنسی عوام اور بسوں کی چھتوں پر بیٹھی سوا ریاں ، دوہایاں ہی دوہایاں ہیں ۔ جو مین چوڑی روڈ اس کو گرومندر سے لے کر سٹی کورٹ تک ٹرین چلانے کے لئے بند کر دیا گیا ہے ۔ تو اردگرد کی چھوٹی سڑکوں کو تو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اجڑی غیر ہموار پتھریلی سڑکیں اور کئی گنا زیادہ ٹریفک کچرا دھواں رش کنارے کنارے کیلے والوں کی سوزوکیاں اور کرپٹ عجیب ہی نظارہ پیش کر رہے ہیں ۔ نئی سڑکیں تو کیا بنیں گی پرانی کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اس کو تو فوری مرمت کرکے ہموار مستقبل بنیادوں پر کرتے رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹریفک رواں رہے اور گاڑیاں خراب ہونے سے بچے رہیں ، لوگ محفوظ رہیں ۔ اتنی اجڑی ہو ئی سڑکوں پر بھی ڈرا ئیو ر حضرات جلدی سے اور ٹریفک سے بچنے کے لئے من مانی کرتے ہیں ، روٹ بدل کر لوگوں کا پارا چڑھا دیتے ہیں ۔ اس طرح لوگ کتنے پریشان ہوتے ہیں نہ کراسنگ ملتی ہے اور نہ متبادل راستہ سوائے پریشانی اور کوفت کے خواری ہی خواری ہے ۔ یوں لڑائیاں ہوتی ہیں ۔ غصے میں ہی اکثر حا دثات رونما ہوجاتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کے حالات - روبینہ اعجاز

بس ایک خبر ہوتی ہے بریکنگ نیوز کے طور پر تکرار کے ساتھ پھر لوگ بھگتنے والے بھگتتے رہیں کسی کو کوئی پروا نہیں ہوتی ، وجہ وہی کے ڈرائیور حضرات راستہ چھوٹا کرنے اور جلدی پہنچنے کے چکر میں گھما گھما کر نہ صرف لوگوں کو خوار کرتے ہیں بلکہ خود بھی بلڈ پریشر کا شکار ہو کر حادثات کو جنم دیتے ہیں ۔ کیونکہ وقت کسی کے پاس نہیں وقت ضائع ہو تا دیکھ کر جیسے جیسے بے چینی بڑھتی ہے ۔ سفر مشکل سے مشکل ترین ہو جاتا ہے ۔ آفس مکان ، دکان پر جب تاخیرسے بندے پہنچتے ہیں تو وہ ایک الگ کہانی اور المیے سے کم بات نہیں ہوتی ۔ اکثر مقامات پر تو سڑکوں کے ساتھ ساتھ کھڈوں کے سامنے ہی کچرے کے نیلے ڈبے علامتی طور پر رکھ دیئے جا تے ہیں کہ جی بڑا گڑھا گویا خطرہ ہے تو یوں کچرے کے ڈبوں کا بے تکا استعمال آگ لگا دیتا ہے کیونکہ بسااوقات اس کے ارد گرد اور اندر کوئی ٹرک یا جادوئی گاڑی کچرا بھر کر چلی جاتی ہے اور یوں سڑکوں کے بیچوں بیچ کچرے کا چوراہا سا بن جاتا ہے۔ اس طرح ٹریفک کی روانی مسلسل متاثر ہوتی ہے ۔

کہاں کہاں سے بچیں اوپر سے بائیک والے کسی قانون کے پابند نہیں جہاں سے بھی جگہ ملے چلے جا تے ہیں جو مزید دم نکالنے کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔ اس طرح بہت سے لوگ مخالف سمت میں آکر پوری ٹریفک کو بلاک کر دیتے ہیں ۔ احساس ہی نہیں کرتے کہ پیچھے گاڑیوں میں بچے ہیں اسکول کی وینیں ہیں ، ایمبولینس ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں مجھے کسی نے بتا یا کہ وہ عورت تکلیف سے الٹیاں کرتی ہوئی نکلی مگر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ٹریفک میں پھنس کر مرگئی تاخیر اتنی ہوئی کے نومولود بھی مرگیا ۔ بتائیں ساس اور بھائی کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان کا زیاں کس کے سر جائے گا ؟ ٹریفک کا سفر ہی آخری سفر بن گیا ۔ اس ہولناک صورت حال کو تو جلد از جلد سدھارنے کی ضرورت ہے ۔ بہترین اور مئوثر قانون سازی ثانوی ہے ۔ پہلے سڑکوں اور راستوں کو ہموار کیا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں:   ناکام سیاسی نظام اور بدقسمت عوام!محمد اکرم چوہدری

وہ بھی مستقل بنیادوں پر کہ کبھی کوئی بگاڑ نہ ہو جگہ جگہ غیر متوقع بگاڑ کھردری زمین، مٹی کے پتھر گڑھے نہ مائل ہوں اور گاڑیاں بھی تواتر سے چلیں راستوں کا حق ادا کریں تا کہ قیمتی جانوں اور قیمتی وقت کو ضا ئع ہونے سے بچایا جائے اس کام میں حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں راستوں کے حقوق کا پورا علم ہونا چاہئے ہمدردی اور غیریت ہونا چاہئے انسانیت ہونا چاہئے کہ کسی کا نقصان نہ ہو خود بھی وقتاً فوقتاً مرمت کا کام کار خیر سمجھ کرلینا چاہئے ۔ رکاوٹوں کو ہٹا نا چاہئے تا کہ خود بیوقوفیوں کی وجہ سے رکاوٹ بن جائیں اپنی گاڑیوں کو صحیح حالت میں رکھنا چاہئے تا کہ دھواں چھوڑ کر دوسروں کو اذیت نہ دیں ۔ ظاہر ہے جو کرو گے ویسا ہی صلہ پائو گے ۔ نیت صاف تو منزل آسان یہ کوئی مشکل تو نہیں ، کام کی سستی اور لا پر واہی سے بچیں ۔ اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال کریں ، خود غرض نہ بنیں تو ہماری راہیں تو کیا زندگی ہموار ہو جائے گی۔