ناکام سیاسی نظام اور بدقسمت عوام!محمد اکرم چوہدری

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا دھر لیا گیا ہے اور اپوزیشن کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے جمعیت علمائے اسلام پر واضح کر دیا ہے کہ وہ انتظامی طور پر اس دھرنے سے لاتعلق رہیں گے البتہ سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے۔ اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں کے اس پیغام نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور امید ہے کہ آئندہ چند روز میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو اس سے نجات مل جائے گی۔

فضل الرحمان اپنے دوستوں کے ساتھ واپسی کا سفر کریں گے البتہ وہ ہر جمعہ کو کسی ایک شہر میں حکومت کے خلاف کوئی احتجاج رکھتے ہوئے اپنا جمہوری حق استعمال کریں گے۔ جہاں تک پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کا تعلق ہے انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو واضح الفاظ میں یہ بتا دیا ہے کہ وہ ان کی شدت کی سیاست اور کسی بھی غیر جمہوری عمل یا تبدیلی کے مطالبے کی حمایت نہیں کریں گے۔ البتہ پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی کا آئینی راستہ ضرور اختیار کیا جا سکتا ہے۔ اس آپشن پر اپوزیشن کی جماعتوں سے مل کر جو بھی بہتر راستہ نکل سکتا ہوا اس پر اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان کے لیے اس سے بڑا صدمہ کوئی نہیں ہو گا کہ وہ جن پتوں پر تکیہ کر کے نکلے تھے وہی ہوا دینے لگے ہیں، جن سیاسی دوستوں کی حمایت کا آسرا لے کر وہ اسلام آباد پہنچے تھے وہ خود ایک طرف ہو گئے ہیں۔ مولانا دائیں بائیں، آگے پیچھے دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں کوئی سیاسی دوست نظر نہیں آ رہا وہ جو کہتے تھے کہ قدم بڑھاؤ مولانا ہم تمہارے ساتھ ہیں انہوں نے وہی کیا ہے جو کبھی قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں کے ساتھ ہوا تھا۔ یہی ہماری سیاسی جماعتوں اور اس جمہوری نظام کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں وراثت کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہیں، کسی کا کوئی نظریہ، کوئی اصول اور کوئی قانون نہیں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے بڑے ذاتی فائدے کے لیے لین دین کرتے ہیں، ذاتی مفادات کے لیے ملک و قوم کے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہیں، کسی کی بات نہیں سنتے، کسی کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے، ذاتی فائدے کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں اور زبردستی ان پر عمل کرواتے ہیں۔ ان کے سامنے کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہے۔

آج جو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہوا ہے اس نے ملک کی سیاسی جماعتوں کی اصلیت و حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ وہ جو عوامی لیڈر ہونے کے دعویدار ہیں، وہ کہ جنہیں ملک کے مقبول ترین لیڈر ہونے کا زعم ہے انہوں نے کس طرح اپنے سیاسی ساتھی مولانا فضل الرحمان سے جان چھڑائی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں اپوزیشن یا سیاسی جماعتوں نے کسی بھی تحریک میں سیاسی ساتھیوں کو سفر کے آغاز میں ہی گڈبائے کہہ دیا۔ جب یہ سیاسی رویے ہوں گے تو قوم کی سیاسی تربیت کیسے ہو گی جنہوں نے قوم کی سیاسی تربیت کرنی ہے وہ تو ہر وقت دو جمع دو کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے آزاد کر دیا ہے اب مولانا اپنی بچی کھچی آزادی کو سنبھال کر واپس جائیں اور دین اسلام کی حقیقی خدمت کرتے ہوئے اس کرپٹ نظام کو خیر باد کہہ دیں کیونکہ وہ جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ پورا نہیں ہوا نہ اس کو پذیرائی ملی البتہ اپوزیشن کے غبارے سے ہوا ضرور نکل گئی ہے۔

قوم کی بدقسمتی ہے کہ وہ دہائیوں سے اس نظام اور اس کے چلانے والوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ معصوم اور سادہ لوح عوام کے مستقبل سے کھیلا جاتا رہا ہے، عوام جن کو رہنما سمجھتے رہے وہ کچھ اور ہی نکلے، جن سے توقعات وابستہ کیں، جن پر بھروسہ کیا، جنہیں فیصلوں کا اختیار دیا، جنہیں مسیحا جانا، جنہیں قیادت سونپی انہوں نے جی بھرکر ملکی وسائل کو لوٹنے کی کوشش کی برسوں یہی کچھ کرتے رہے لیکن جی نہیں بھرا۔ آج بھی عوام اپنے ان نام نہاد قائدین کی طرف دیکھتی ہے تو انہیں مولانا فضل الرحمان کی طرح آگے پیچھے، دائیں بائیں کچھ نظر نہیں آتا۔ جیسے مولانا آج اکیلے ہیں اسی طرح عوام بھی اکیلی اور بے آسرا ہے۔ ان سیاست دانوں نے دہائیوں میں عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے اپنے خزانے بھرے ہیں، ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کیا ہے، وسائل پیدا کیے بغیر اخراجات بڑھائے ہیں، مصنوعی ترقی دکھا کر ملک کو ہزاروں ارب ڈالر کا مقروض کر دیا ہے۔ اتنا ظلم کرنے کے باوجود بھی پیٹ نہیں بھرا کاش کہ یہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے، عوام کو حقیقی دنیا میں رکھتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور آج عام آدمی کی زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین جب جب حکومتوں میں رہے ہیں بیٹھ کر حقیقت پسندی کے ساتھ اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں تو انہیں فیصلہ کرنے میں ضرور آسانی ہو گی۔ جنہیں ملک و قوم کا احساس ہو قرضے نہیں بڑھاتے، اخراجات کم کرتے ہیں اور عوام کو امن و امان فراہم کرتے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امن و امان کے حوالے سے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کورکمانڈرز کانفرنس میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل ہونے والے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امن و امان کو قائم رکھنا ریاستی اداروں کا فرض ہے۔ گذشتہ کئی روز سے فوج کے کردار کو نشانہ بنانے والے ان کی خدمات کو کیوں بھول جاتے ہیں اگر آج ہم آزاد فضا میں اور پرامن ماحول میں سانس لے رہے ہیں تو اسکا کریڈٹ افواج پاکستان کو جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ ترک صدر اردگان کی مدد سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کارکاتنازعہ کامیابی سے حل کرلیا ہے اور آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے پاکستان پر عائد کئے گئے 1.2ارب ڈالرز جرمانے کی رقم بچا لی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس طرح کے کچھ اور کیسز میں بھی پاکستان کو ریلیف مل سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید ہو رہی ہے، حکومت کے فیصلوں پر تنقید کا حق سب کو حاصل ہے لیکن کیا ملکی خسارہ سینتیس بلین ڈالر سے کم ہو کر بارہ بلین ڈالر تک آ چکا ہے۔ناقدین اور عوامی رائے عامہ بنانے والے معزز افراد کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ کہیں حکومت نے بہتر کام کیا ہے تو اس پر بھی عوام کو حقیقیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */