معجزات ِ انبیا ؑ ! حافظ محمد ادریس

یہ کائنات گونا گوں آیات سے مالا مال ہے۔ خالقِ حقیقی نے ہر چیز کو کامل حکمت اور بے مثال دانائی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس وسیع وعریض کون ومکاں کی کوئی چیز فضول ہے‘ نہ بے مقصد۔ انسان کی اپنی کم فہمی اور کوتاہ بینی ہے کہ یہ ٹھوکریں کھاتا ہے‘ نہ کائنات کو ٹھیک طرح سمجھتا ہے اور نہ اس کے عظیم خالق تک ہی اس کی رسائی ہوتی ہے۔ یوں وہ خود اپنے آپ سے بےخبر رہتا ہے۔ جانوروں کی طرح کھاتا پیتا ہے اور ان سب سے زیادہ جاہل اور گمراہ بن جاتا ہے۔

انسان کو گمراہی سے نکالنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا علیہم السلام بھیجے۔ انبیاؑ ہر دور اور قوم میں مبعوث ہوتے رہے۔ وہ انسانوں کے درمیان ممتاز اور منفرد مقام رکھتے تھے۔ انسان ہونے کے باوجود عام انسانوں کے برعکس معصوم تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کے نمایندے اور نقیب تھے۔اللہ سے ان کا تعلق وحی کے ذریعے قائم رہتا تھا اور اللہ تعالیٰ ان تک وحی کے ذریعے اپنی ہدایات اور اپنی مرضی کے پیغام مسلسل پہنچاتا رہتا تھا۔ انبیاکا یہ زریں سلسلہ سید الانام‘خیرالخلائق‘ سرور دوعالم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ پر مکمل ہوگیا۔ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔

آپ کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے ‘تو وہ کافر ہے اور اسے جو بھی نبی مانے وہ بھی کافر ہے۔ اس پر امت کا اجماع ہے اور قرآن وسنت اس پر شاہد ہیں۔اللہ تعالیٰ جہاں اپنے نبیوں کو وحی وعصمت سے نوازتا ہے‘ وہاں وہ انہیں معجزات بھی عطا کرتا ہے۔ معجزات کو آیات وبراہین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ معجزات کا مطالبہ کرنے والے معجزات کو دیکھنے کے باوجود ایمان سے محروم اور گمراہی میں مبتلا رہے۔ جنہیں ایمان لانا تھا‘ انہوں نے نہ آیات ومعجزات کا مطالبہ کیا‘ نہ ہی معجزات دیکھ کر کسی شک وتذبذب میں پڑے۔ وہ انبیا پر ان کی صداقت اور ان کے پیغام کی حقانیت کی بدولت ایمان لائے اور جب معجزات رونما ہوئے تو ان کے ایمان ویقین میں اضافہ ہوا۔ منکرینِ حق معجزات دیکھ کر اپنی ہٹ دھرمی اور ضد میں اور پختہ ہوتے چلے گئے اور کبھی شاذونادر ہی ان معجزات کو دیکھ کر کوئی خوش قسمت انسان دولتِ ایمان سے بہرہ ور ہوا۔معجزات کیا ہیں؟ معجزے کا مادہ عجز ہے۔ معجزہ ایسے عظیم الشان واقعہ یا خرقِ عادت کو کہتے ہیں‘ جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔

انسانی قوت اس کے صدور میں عاجز وبے بس اور انسانی عقل عام قوانین ونوامیس کے تحت اس کی توجیہہ کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ معجزہ انسان کی محدود قوتوں سے ماورا ایک مافوق الفطرت وقوعہ ہوتا ہے اور انسان کو مکمل طور پر عاجز کردیتا ہے۔معجزہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہوتا ہے۔ نبی یا رسول کبھی معجزے کو اپنی قوت وصلاحیت کا نتیجہ قرار نہیں دیاکرتے۔ اللہ تعالیٰ نبیوں کے ہاتھوں معجزات رونما کراتا ہے۔ جو لوگ معجزات کا انکار کردیتے ہیں‘ ان بدنصیبوں پر ترس آتا ہے کہ وہ کتنے کم عقل وکم سواد ہیں اور جو لوگ معجزات کو مانتے ہیں‘ مگر منکرین کی تسلی کرانے اور ان کے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے معجزات کی سائنسی اور عقلی توجیہات پیش کرنے لگتے ہیں‘ ان پر افسوس ہوتا ہے کہ کتنے سادہ لوح ہیں۔ معجزے کی اگر آپ توجیہات پیش کرسکیں تو عام رونما ہونے والے واقعات کی طرح وہ بھی محض ایک عجیب وغریب قسم کا واقعہ ہی ہوتو پھر وہ معجزہ کاہے کو ہے۔ معجزات کے منکرین کی بے عقلی تو اسی سے واضح ہے کہ جب وہ اپنی محدود عقل سے ماورا کسی چیز کے بارے میں سنتے ہیں تو اپنی حدود پہچاننے کی بجائے وہ اس چیز ہی کا انکار کردیتے ہیں۔

ذرا غور کیجیے کہ ایک چھوٹے سے بیج سے کونپل کا پھوٹنا اور تناور درخت بن جانا‘ چونکہ روزمرہ کی بات ہے‘ اس لیے اس پر کسی کو تعجب ہوتا ہے‘ نہ اعتراض‘ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اپنی جگہ حیران کن بات نہیں؟یقینا یہ بڑی عظیم بات ہے‘ مگر ہر روز ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہوتی رہتی ہے‘ اس لیے ہم اس کے عادی ہوچکے ہیں۔ نہ تعجب کرتے ہیں‘ نہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حقیر سے بیج کو ایک عظیم الشان تناور درخت میں کون تبدیل کرتا ہے؟ جو خالق ومالک یہ کام کرتا ہے وہی اپنی قدرت کاملہ سے اپنے انبیاکو معجزات عطا کرتا ہے۔ ہم ان کی ماہیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں‘ مگر ہماری سمجھ کا محدود اور ہمارے اِدراک کا ناقص ہونا اس بات کے لیے ہر گز کوئی دلیل نہیں کہ معجزات وآیات کا انکار کردیا جائے۔
حضور ختمی مرتبتؐ سے آپ کے دشمنوں نے بارہا معجزات کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطالبات کا قرآن مجید میں تفصیل سے ذکر ہے۔ ان مطالبات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ معجزات دکھانے پر قادر ہے‘ مگر منکرین کی ہٹ دھرمی معجزات کے باوجود قائم رہے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو سب سے بڑا معجزہ قرار دیا ہے‘ جو تاقیامت لوگوں کے سامنے موجود رہے گا۔ اس عظیم الشان کلام ربانی کی معجز بیانی کا مقابلہ جن وانس مل کرنہیں کرسکتے۔

اس جیسی ایک سورت‘ بلکہ ایک آیت بھی پیش کرنے سے ساری دنیا قاصر ہے۔ قرآن نے منکرین کو جگہ جگہ چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اس کے کلامِ ربانی ہونے کے بارے میں شک وشبہ رکھتے ہیں تو پھر اس کا مقابلہ کرلیں‘ لیکن وہ اس چیلنج کے جواب میں بالکل عاجز ہیں۔ ''اور اگر تمہیں اس بارے میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے‘ یہ ہماری ہے یا نہیں‘ تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ‘ اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لاؤ اور اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو...‘‘ (البقرۃ۲:۳۸)۔ یہی مضمون سورۂ ہود آیت ۱۳ اور سورۂ یونس آیت ۳۸میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

کافروں کے معجزات کے مطالبے عجیب وغریب ہوتے تھے۔ سورۃ الانعام آیت۳۷ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبوں کا ذکر کرکے فرمایا: ''کہو ‘اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں‘‘۔ سورۃ العنکبوت میں ان کے جواب میں فرمایا: ''کہو‘ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں تو نذیر ومبین (بناکر بھیجا گیا) ہوں اور کیا ان لوگوں کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی‘ جو انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟ درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ہیں‘‘۔
ایمان نہ لانے والوں کو نہ کوئی آیت نظر آتی ہے ‘نہ معجزات سے ان کے اعتراضات ختم ہوسکتے ہیں۔ معجزہ شق القمر کے بارے میں ارشاد ہے: ''قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا‘ مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں‘ منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے‘‘۔ (القمر۵۴:۱-۲)

انسان کا حال بھی عجیب ہے‘ جن بتوں کی وہ پوجا پاٹ کرتا ہے اور جن جھوٹے خداؤں کے سامنے وہ سرجھکاتا ہے ‘کیا ان سے کوئی معجزہ صادر ہوتا ہے؟ کیا ان کے اندر کوئی قدرت وصلاحیت پائی جاتی ہے؟ ان بے بس اور بے اختیار‘ بلکہ بے جان وبے شعور بتوں کی بندگی اختیار کرنے کے لیے تو نہ کسی نشانی کی ضرورت محسوس کرتا ہے‘ نہ کسی دلیل کا محتاج ہوتا ہے‘ مگر سچے خدا اور خالقِ حقیقی کے وجود کو ماننے کے لیے معجزات کا مطالبہ کرتاہے‘ پھر جب اللہ کے محبوب بندے‘ انبیا ورسل اس کی قدرت سے کوئی معجزہ دکھادیتے ہیں‘ تو اسے ماننے کی بجائے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا کیا۔ ان معجزات کا صدور اللہ کی قدرت سے ہوتا ہے‘ وہی منبعِ قوت اور قادر مطلق ہے۔ انبیا اس وقت تک کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘جب تک اللہ نہ چاہے۔ ناقۂ صالح بھی معجزہ تھا اور عصائے موسیٰ بھی معجزہ۔ حضرت عیسیٰؑ کا دستِ شفا بھی آیتِ ربانی تھا اور حضرت ابراہیمؑ کا آگ سے زندہ نکل آنا ‘بھی خدا کی نشانی تھی۔ حضور اکرمﷺ کو اس نوعیت کے اتنے معجزات عطا ہوئے تھے کہ ان کا احاطہ مشکل ہے۔ ان سب معجزات میں قرآن مجید کا سب سے نمایاں مقام ہے۔

قرآن عظیم تو ایک زندہ معجزہ ہے ہی ‘مگر جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے تھے۔ ان معجزات کو دیکھ کر اہلِ ایمان کے ایمان وایقان میں اس دور میں بھی اضافہ ہوا تھا اور آج بھی ان کا تذکرہ قلب وروح کی بالیدگی اور یقین کی محکمی کا باعث بنتا ہے۔ معجزات پر قدیم وجدید سبھی مصنفین نے بڑی تحقیق کی ہے اور بے پایاں محبت وعقیدت کے ساتھ ان روح پرور واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ ہمارے دور کے عظیم محقق ومصنف‘ شاعر وادیب اور مجاہد ومبلغ جناب ولید الاعظمی (عراقی) نے ''المعجزات المحمدیہؐ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی تھی‘ جس کا ''معجزات سرور عالمؐ‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کرنے کی اللہ نے اس فقیر کو توفیق بخشی۔ فاضل مولف کی اس کتاب کے ایک ایک لفظ سے عقیدت ومحبت کی خوشبو آتی ہے۔ سیرت نبویؐ پر قلم اٹھانے یا زبان کھولنے کے لیے اولین شرط ہی عقیدت ومحبت اور ادب واحترام ہے۔ باخدا دیوانگی بھی چل سکتی ہے مگر بامحمد ہوشیار ومحتاط رہنا پڑتا ہے۔