اے بسا آرزو کہ خاک شد - عبدالحق صدیقی

اگر یہ مبالغہ آرائی نہ ھو کہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا مھذب سیاسی ملک گیر احتحاجی مظاہرہ تھا جس کا آغاز بھی منظم اور امید ھے اسی نظم و ضبط کے ساتھ اختتام پزیر ھو گا ۔۔جلسے میں استعمال کی گئی زبان اتنی نپی تلی دھلی تھی کہ مخالفین کو وہ الفاظ ڈھونڈنا مشکل ھو گئے جنھیں پکڑ کر جھولا جھول سکیں ۔۔

مولانا کی گفتگو کی احتیاط کا صرف اک بات سے اندازہ لگائیں صرف اک جملہ وزیراعظم کو جیل میں ڈالیں گے۔اتنا بڑا جرم بن گیا کہ اس اک جملہ سے غداری کی بو آئی اب ان پر مقدمہ قائم کیا جائیگا ۔۔ ماضی قریب کے دھرنوں کے برخلاف نہ عوام کو حکومت کے خلاف اکسایا گیا ۔۔نہ یہ کہا ٹیکس نہ دیں دھاندلی کی اس حکومت کو بل ادا نہ کریں نہ سرکاری اداروں پر حملہ ھوا نہ کوئی عوامی اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ ۔۔ھماری ملک کے سرکار اور سرکاری اداروں سوچ غیر انسانی غیر جمھوری غیر تعلیمی ھے ،،۔تمام جمھوری ، ترقی اور تعلیم یافتہ ممالک میں چند یا چند سو لوگ پلے کارڈ اٹھاکر ،چند نعرے اور تقریر کرکے اپنا احتحاج ریکارڈ کرا کر رخصت ھو جاتے ھیں اس یقین کیساتھ انکی بات سنی جائیگی ایوانوں میں زیر بحث لائی جائیگی اور مطالبات کے سلسلے میں فیصلہ کرنے یا جو فیصلہ ھوچکاھے ان پر انکی رائے کو سنا اور مدنظر رکھا جائیگا اکثر ھوتا بھی ایسا ھی ھے ۔۔پہلے تو مولانا نے یہ وضاحت کی ھم کسی بد نظمی گھیراو جلاؤ، تشدد اور سرکاری اداروں سے ٹکراؤ کی طرف نہیں جائینگےکیا کہتے ھیں مولانا ان و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے“۔۔۔

آزادی مارچ کے قائد کے مطابق امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسی یہ تھی کہ انہیں اشتعال دلا کر ریاست کے خلاف کھڑا کیا جائے،جو حالات ایران، افغانستان، شام، یمن میں پیدا ہوئے اور سعودی عرب میں پیدا کیے جارہے ہیں ایسا کرنے کی پاکستان میں کوشش کی گئی لیکن یہاں ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا” دوسری طرف مولانا کے جو مطالبات ھیں کوئی غیر دستور ی غیر جمھوری نہیں ھوسکتا ھے مولانا نے ان مطالبات کو ایشو اس لئے بنایا وہ انکی پارٹی گزشتہ الیکشن میں اس کا شکار ھوئی ۔۔عمران خان کے سر پر اس الیکشن میں ھما بیٹھی ھے وگرنہ وہ بھی تواتر سے چار سال اسی دھاندلی کا رونا پیٹے رھے ۔۔ اک نظر مولانا کے مطالبات دیکھیں اور سوچیں ان میں سے کونسا مطالبہ عوام اور نظام کی ضرورت نہیں ۔۔۔
1) جسٹس نے کہا تھا کہ از سر نو ایک عمرانی معاہدہ ہونا چاہیے، ہم آئین سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ چیف جسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ مداخلت کررہا ہے، عوام مطمئن نہیں ہیں کہ پاکستان میں آئین کی حیثیت کیا ہے لہٰذا تمام اداروں کو بیٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آئین محترم اور سپریم ہے اس کی بنیاد پر اس ملک کا نظام چلے گا اور یہ عہد و پیمان کرنا پڑے گا تاکہ پاکستان کی عملداری اور اس کے تحت ہم اپنے وطن عزیز کے نظام کو چلا سکیں .

2) جمہوری ادارے بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں، جمہوریت نام کی چیز رہ گئی ہے، ہر شخص الیکشن میں عوام کی طرف دیکھنے کے بجائے کسی اور طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عوام جو فیصلہ کرے جس کے بارے میں کریں ہمیں عوام کے فیصلے پر اعتراض نہیں ہوگا
3)جے یوآئی سربراہ کے بقول ہرالیکشن میں مداخلت کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں، الیکشن کمیشن بے بس نہ ہوتا تو آج یہاں اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع نہیں ہوتے، جمہوری ادارے بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں، اداروں کو طے کرنا ہوگا کہ آئین کی بالادستی اور اس کی عمل داری قائم رہے، اب فیصلے عوام اور ان کا ووٹ کرے گا، عوام کے ووٹ کو عزت دینی ہوگی عوام جو فیصلہ کریں گے ہمیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
ملکی کی نظریاتی اور دفاعی سرحدوں کے حوالے سے مولانا نے کہا
4) انہوں نے کہا کہ اس اجتماع سے اسرائیل اور قادیانی لابی کو پریشانی ہے، موجودہ حکومت کی وجہ سے اس خطے میں اسرائیل کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا کیوں کہ اسرائیل کی سرمایہ کاری پر اس اجتماع نے پانی پھیر دیا ہے، یہاں کے حکمراں بیرونی دباؤ پر آئین پاکستان کی اسلامی دفعات میں تحریف پر آمادہ ہوجاتے ہیں لیکن اب اس اجتماع کے بعد آئندہ کسی کی جرآت نہیں ہوگی کہ اسلامی دفعات میں ردوبدل کی کوشش کرے۔

5) اداروں کی کارکردگی اور ان پر اعتماد کے حوالے سے مولانا نے کیا : انہوں نے کہا کہ مسئلہ ایک شخص کے استعفے کا نہیں ، عوام کے ووٹ کی امانت کا ہے اور عوام یہاں آکر اپنی امانت واپس حاصل کرنے کی جنگ لڑرہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ آپ الیکشن کمیشن میں جائیں اور وہاں اپنی شکایت درج کریں، الیکشن کمیشن بے چارہ ہم سے بھی بے بس ہے ،تحریک انصاف کا غیر ملکی فنڈنگ کیس اسی الیکشن کمیشن میں زیرسماعت ہے، 5سال ہوگئے وہ ناجائز حکمران پارٹی کا فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ نہیں کرسکتا تو وہ دھاندلی کا فیصلہ کیسے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال میں دھاندلی تحقیقات کمیٹی کی کوئی میٹنگ ہوئی اور نہ ہی اس کے کوئی قواعد و ضوابط طے ہوسکے،حکومتی بینچوں میں بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اتنی بری دھاندلی ہوئی ہے کہ کسی ادارے کے سامنے شکایات پیش کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے،تم لوگوں سے حساب مانگتے ہو اور خود اپنے حساب کے حوالے سے کسی ادارے کے سامنے پیش ہونے کو تیار نہیں،

یہ وہ شکایات ھیں جو تما اپوزیشن جماعتوں کو ھوتیں ھیں لیکن جب حکومت میں ھوتے ھیں تو آنکھیں بھی بند رکھتے اور کان بھی اور زبانوں پر بھی یہ صداھوتی ھے ،،دھیرے دھیرے بول کوئی سن نہ لے . اب وقت ھے مولانا کی اخلاقی اور تہزیبی برتری کو سراپا جائے انکے مطالبات پر گفتگو کی جائے عمران خان اس دھاندلی جسکا 13 میں خود شکار تھے اور آج اپوزیشن کے بھی یہ ھی شکوے ھیں ۔انکے پاس وقت ھے اپوزیشن اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر اک کمیٹی تشکیل دیں جو انتخابی عمل کو شفاف اور بلا مداخلت آدانہ بنانے کی تدابیر دیں ان تجاویز کو اصلاحات میں تبدیل کریں اک کمیٹی پوروپ اور امریکہ کے انتخابی عمل کا بھی جائزہ لے۔ کس طرح انتخابات پیسے ،اداروں کے اثرات سے پاک مار دھاڑ سے دور پرامن فضا میں اور بار بار ھوتے ھیں . موجودہ حکومت اپنی انتخابی شفافیت کو یقینی بنانے اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ان اصلاحات کے بعد اک مڈ ٹرم الیکشن نئی انتخابی اصلاحات کیساتھ اپنی ھی نگرانی میں کر وا سکتی ھے ۔۔حکومت کی کامیابی کی صورت مخالفوں کے نہ صرف منھ بند ھو جائینگے بلکہ حکومت کو اک طویل عرصہ ملک کی خدمت کا مل سکتا ھے ۔۔ مگر آخری بات ۔۔اے بسا آرزو کہ خاک شد

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com