سردیاں اور فلو - بشری نواز

سردیاں آتے ہی ہم انسانوں خاص طور پر بچوں اور بوڑھوں کی بڑی تعداد فلو میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ یہ موسم سرما کا خاص مرض ہے۔ فلو کا دوسرا نام”انفلوئیزا” ہے، مختلف وائرس اسے جنم دیتے ہیں۔ فلو میں مبتلا مریض کھانسی ‘نزلہ’بخار سردرد اور تھکن کا نشانہ بن جاتا ہے۔

جب فلو کا مریض کھانستا ہے تو ہوا میں موجود جراثیم دوسرے شخص کے پھیپھڑوں میں داخل ہوجاتے ہیں اور صحت مند بھی فلو کا شکار ہوجاتا ہے۔ فلو کے اثرات دو ہفتوں تک برقرار رہتے ہیں۔ فلو سے محفوظ رہنے کے لئے مندرجہ ذیل تدابیر مفید ثابت ہوں گی:
نیند پوری لیجیے : سردیوں میں کم از کم سات گھنٹے ضرور نیند لیا کریں۔ قہوے کا استعمال : سردیوں میں پودینے اور سبز چائےکے گرم قہوے کا استعمال ہفتے میں تین بار ضرور کریں۔ ناک صاف رکھیں : موسم سرما میں نیم گرم پانی میں نمک ملا کر رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھ کر اس محلول محلول سے ناک صاف کریں۔ مصالے سے مدد لیجیے : ہری مرچ اور دیگر تیز مصالوں کا استعمال کریں کیونکہ تیز مصالحہ جات بند ناک اور جکڑا سینہ کھول دیتے ہیں۔ شہد کا استعمال کریں : شہد قدرت کا بیش قیمت تحفہ ہے۔ انسان اس کے بہت سے فائدے حاصل کرسکتا ہے۔ایک چائے کا چمچ شہد نیم گرم پانی میں ڈال کر پی لیں۔ مرغی کی یخنی نوش کیجیے : دیسی مرغی کی یخنی پینے سے بھی آرام آجاتا ہے۔

فلو کے مریض کو بھی چاہے کے وہ کھانستے وقت منہ پے روما ل رکھیں۔ فلو میں مریض بہت سی دوائیں کھاتا ہے لیکن جدید تحقیق سے علم ہوا ہے کہ مریض بیمار ہونے کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر Tamiflu نامی دوا کھا لے تو بہت جلدی بہتری آجاتی ہے اور بیماری کے وائرس کو بڑھنے نہیں دیتی۔ یہ دوا آسانی سے دستیاب ہے۔