کارکے تنازع: صدر ایردوان کی مدد سے پاکستان نے 1.2 ارب ڈالر بچا لیے - عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی مدد سے حکومت نے پاور پلانٹ کمپنی ’کارکے‘ کا تنازع کامیابی سے حل کرلیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ترکی کی کمپنی 'کارکے' کا تنازع حل کرکے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے 1.2ارب ڈالرز جرمانے کی رقم بچا لی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس کامیابی پر حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو بھی دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں ترکی کی حکومت کے ساتھ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے وزارت پانی وبجلی کے ذیلی ادارے، پاکستان الیکٹرک کمپنی (پیپکو) اور ترک کمپنی 'کارکے' کے درمیان ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔

معاہدے کی مالیت 56 کروڑ 46 لاکھ ڈالرز تھی،معاہدے کے تحت کراچی میں کرائے کا بجلی گھر لگایا گیا تھا اور اس سے 2009 سے پیپکو کو 231 میگا واٹ بجلی فراہم ہونا تھی لیکن کارکے طے شدہ بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی جبکہ یہ بجلی پاکستان کو مہنگی بھی پڑ رہی تھی۔ حکومت پاکستان اس معاہدے کی رو سے ترکش کمپنی کو ماہانہ کرائے کی مد میں 94 لاکھ ڈالر ادا بھی کرتی تھی۔

اُس وقت مسلم لیگ ق کے رہنما فیصل صالح حیات اور مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے اس معاہدے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ترک کمپنی کے ساتھ رینٹل پاور پراجیکٹ میں شفافیت برقرار نہیں رکھی گئی، اس لیے معاہدے کو منسوخ کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر لہو میں نہا رہا ہے اور کرتارپور پھولوں سے سج رہا ہے - حسین اصغر

اس معاہدے میں حکومت پاکستان کی جانب سے گارنٹی دی گئی تھی جس کے باعث ترک کمپنی نے معاہدہ منسوخ ہونے پر عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا اور پاکستان پر 2 ارب 10 کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا۔

پاکستان نے ثالثی عدالت میں یہ مقدمہ لڑا، تاہم ستمبر 2017 میں فیصلہ اس کے خلاف آیا، جس میں ورلڈ بینک کے ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے پاکستان پر بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔ یہ جرمانہ اب صدر ایردوان کی مدد سے معاف ہو گیا ہے۔