ریل کا ٹکٹ یا موت کا پروانہ - انجینیئر راحیل میمن

دنیا بھر میں ھوائی سفر زیادہ مہنگا ہونے اور بائی روڈ سفر لمبا اور غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ریلوے کے سفر کو اھمیت دیتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ریل کا سفر طویل انتظار ، پریشانی اور خوف کا سبب بنتا جا رہا ہے اب تو ریل کا ٹکٹ لینا ایسا ہی ہے جیسے موت کا پروانا 31 اکتوبر2019 جمعرات ، ایک اور جمعرات ریل گاڑی کے مسافرون پر بھاری گذری جب چھنی گوٹھ رحیم یار خان کے مقام پر لگنے والی آگ نے 74 مسافروں کی جان لے لی کئی لوگ جھلس کر اور کئی چلتی ٹرین سے کود کر اپاہج اور شدید زخمی ہوئے ابھی پوری طرح آگ بجھ ہی نہ پائی تھی کے حادثے کی ذمہداری مسافروں پر ڈال دی گئی .

اس سے پہلے جمعرات 11 جولائی 2019 صادق آباد مین ہونے والے واقعے مین 24 افراد جانبحق اور 100 سے زیادہ زخمی اور قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑگیا ، جب پشاور سے کوئٹہ جانے والی اکبربگٹی ایکسپریس ولہاراسٹیشن پر لوپ لائین یعنی مین لائین سے ہٹ کر الگ راستے پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی
بطاہر تو یہ کانٹے والے کی غلطی بتائی جارہی تھی لیکن غلطی کے پیچھے کئی عوامل کارفاما ہوسکتے ہین جیسا کے عملے کی غفلت، ٹیکنیکل ، آپریشنل غلطی یا کمیونیکیشن نظام کا فیلیوئر جس کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکے بار بار ہونے والے حادثات سے بچا جاسکے نہ کے اپنی جان چھڑانے کے لئے حادثے کی ذمہداری ڈرائیور اور کانٹے والے پر ڈال کر خود کو بری ذما قرار دیا نہ جاسکے . 19 جون کو حیدرآباد مین جناح ایکسپریس اور مال گاڑی کے اسی نوعیت کے حادثے میں 3 افراد جانبحق ہوئے گزشتا 12ماہہ مین ریلوے کے چھوٹے بڑے 79 حادثات ہوئے ہین ٹرینون کے پٹڑی سے اترنے کے 67 اور آگ لگنے کے 10 واقعے ہوئے پچھلے 12 ماہ میں
پے در پے ہونے والے حادثات کی وجہ ریلوے حکام بوسیدہ ٹریک بغیر پلاننگ اور عجلت میں مسافر اور مال گاڑیوں کا اجراء بتاتے ہیں .

ریلوے حکام نے قومی اسیمبلی کی قائمہ کمیٹی مین آگاہ کیا ہے کے مسافر ریل گاڑیون کی تعداد 136 اور مال بردار گاڑیون کی تعداد 55 ہے خسارے میں چلنے والی ٹرینین بند کر دی جائینگی ۔ تیل اور ڈالر کے کرایون مین ایک سال مین 18 فیصد اضافا کر دیا گیا ہے . درسری جانب وزیر ریلوے نے حادثات سے بچنے کے لئے ڈرائیوروں کا 39 ٪ کوٹا اٹائرڈ ڈرائیورون کے لئے مختص کر دیا ہے اب تو ہر واقعے کے بعد وزیر ریلوے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے وہی لائینے دہراتے ہوئے نظر آتے ہین کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے ذمہ دارون کے خلاف کاروائی ہوگی ٹریک بوسیدہ ہین ۔ML 1 ہی اس کا حل ہے , ML.1) چین سے معاہدے کے مطابق کراچی سے پشاور تک 148 اسٹیشنون کے درمیان 4 رویہ ریلوے ٹریک 6 سال کی مدت مین تعمیر ہونا ہے ( صادق آباد حادثے کے بعد بھی ٹی وی پروگرام میں وزیر ریلوے فرما رہے تھے کے ضمیر پر بوجھ محسوس ہوا تو استعفئ دے دونگا .اور آج پھر ایک اور حادثا ہوگیا ، ریلوے کے تمام تر قاعدے قانون اور SOPs ہونے کے باوجود ان پر عمل نہیں ہوگا تو نتیجا ایسا ہی ہوگا اس طرح کی صورت حال میں بار بار ہونے والے حادثات ،انسانی جانون کے ضیاع اور قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کا اضالا کبھی بھی نہ ہوپائےگا اور لوگ یونہی مرتے رہیں گے .

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com