تنہائی سے لڑتا مغرب اور آزادی نسواں - محمد عاصم حفیظ

اسپین میں گزشتہ دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہر ایک کو ہلا کر رکھ دیا ۔ میڈرڈ کے ایک گھر میں ایک خاتون کی لاش 15 سال تک لاش پڑی رہی ، کسی نے نوٹس ہی نہ لیا۔ خاندان ، دوست احباب ، ہمسائے ، دفتر والے ، کسی کو احساس ہی نہ ہوا کہ ایک جیتی جاگتی خاتون کہاں چلی گئی ۔

بے حسی کی انتہا ۔ نام نہاد آزادی نسواں اور عورت کی آزادی کے کھوکھلے نعرے لگاتے مغرب زدہ طبقات کے لئے ایک عبرت ناک کہانی ۔دردناک حققیت یہی ہے کہ تنہائی بے حس بنا دیتی ہے اور آپ کسی کے لئے اہم نہیں رہتے۔ میڈرڈ کے نواحی علاقہ میں گزشتہ دنوں اسپین کی قومی پولیس نے 78سالہ خاتون کی لاش اسکے اپنے گھر کے غسل خانہ سے برآمد کی جو 2004 کے قریب اپنے گھر کے غسل خانہ میں نہاتے ہوئے پھسل کر فوت ہوئی تھی۔ وہ اپنے ساتھی کیساتھ رہتی تھی لیکن اس کے چھوڑ جانے کے بعد اکیلی تھی۔خاتون گھر میں اکیلے رہائش پذیر تھی ہمسائیوں نے کچھ سال قبل مقامی پولیس کو اس خاتون کی بابت اطلاع دی کہ کافی عرصہ سے نظر نہیں آئی پولیس نے روایتی طور پر گھر جاکر دروازہ کھٹکھٹا کر خانہ پوری کردی ۔اس کے بنک اکاونٹ سے بجلی پانی کے بل ادا ہو رہے تھے اسی لئے کسی کو فکر ہی نہ ہوئی ۔ خاتون کا خاندان بھی تھا لیکن 15 سال تک کسی کو اس سے ملنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی ۔

اب 15 سال بعد خاتون کے کسی جاننے والے نے جب دوبارہ پولیس سے رابطہ کیا تو فائر برگیڈ کی مدد سے اسکی بالکونی کے ذریعے جب اندر داخل ہوا گیا تو خاتون کی لاش غسل خانہ میں دریافت ہوئیکتنا حیران کن ہے کہ ایک اٹھہتر سالہ خاتون اکیلے رہائش پذیر تھی اور اسکی لاش چودہ سال گھر میں پڑی رہی اور خاتون کا کوئی قریبی رشتہ دار کوئی خونی رشتہ دار اس کی خریت دریافت کرنے یا اسکو تلاش کرنے نہ پہنچا اور بلڈنگ کے ہمسائیوں کو بھی اس کی بابت اتنا علم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں غائب ہے ۔
دوسری جانب عالمی میڈیا پر ایک رپورٹ نے بھی سب کو چونکا دیا ہے ۔ مغربی ممالک تنہائی کا شکار افراد کے لئے وزارتیں تک قائم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ ایک حالیہ ریسرچ میں جرمن دارالحکومت برلن کو تنہا لوگوں کا شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ ہر دوسرے گھر میں فرد واحد مقیم ہے۔ اس شہر میں تنہائی ایک وبا کی طرح پھیل چکی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی برلن برانچ نے اپنی لیڈر سے درخواست کی ہے کہ ملکی دارالحکومت میں تنہائی کے روگ کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا منصب تخلیق کیا جائے اور اِسے کمشنر برائے انسدادِ تنہائی کہا جائے۔ اس وقت خاص طور پر بڑی عمر کے افراد زیادہ تنہائی کا شکار ہیں۔ برلن میں کئی ایسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے عمر رسیدہ افراد کی دل بستگی کے لیے ایسی ویب سائٹ بنا رکھی ہیں، جن پر وہ ہلکی پھلکی گپ شپ یا پرلطف پیغام رسانی یا مختلف موضوعات پر خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔
2018 میں برلن کے اخبار ٹاگس اشپیگل میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی اور اُس کے مطابق لاکھوں تنہائی کے شکار لوگوں کے لیے صرف ایک ہزار تین سو رضاکار دستیاب ہیں۔ اسی رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ سن 2018 کے دوران اپنے اپارٹمنٹ یا مکان پر تنہا رہنے والے تین سو انسان اپنی زندگی یاسیت کی فضا میں ہار گئے تھے۔ صرف بزرگ ہی نہیں بلکہ بیس سال سے کم عمر ہر چار میں ایک نوجوان کو بھی تنہا ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تنہائی کو جدید ترقی یافتہ دور میں ایک عالمی وبا قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں گزشتہ سال تنہائی کی وزارت قائم کر دی گئی۔ برطانیہ میں ایک ریسرچ رپورٹ نے واضح کیا کہ وہاں نوے لاکھ افراد کو تنہائی کا سامنا ہے۔ ایک برطانوی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق تنہائی کی وجہ سے نوجوان یا بڑی عمر کے لوگوں میں منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہی تنہائی ڈپرشن کا بھی ایک بڑا سبب خیال کی جاتی ہے۔ ایک امریکی ریسرچ ادارے کے مطابق امریکا میں سن 1990 اور سن 2000 میں پیدا ہونے والی نسل میں تنہائی کا مسئلہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک میں ایک انڈسڑی جنم لے رہی ہے جس میں بعض افراد معاوضہ لیکر دوسروں سے کچھ وقت باتیں کرتے ہیں ۔ تنہائی کا شکار افراد رقم خرچ کرکے ایسے افراد کے ساتھ ملاقات کرتے ہیں اور ان کیساتھ دل کی باتیں کرتے ہیں ۔ امریکہ میں لاکھوں لڑکیاں " شوگر بے بی" بن کر بزرگوں کے ساتھ رہتی ہیں ۔ ان میں سے اکثریت کا مقصد صرف گھر میں ایک فرد کی موجودگی ہوتا ہے ۔ مغربی معاشرے میں انفرادیت پسندی اور شخصی آزادی کی جو فکر پروان چڑھی اس نے خاندانی نظام کی دھجیاں بکھیر دیں ۔اسی فکر کا نتیجہ ہے کہ نوجوان اپنی زندگی اکیلے اپنی مرضی سے جینا چاہتے ہیں دوسرا انفرادیت پسندی اور شخصی آزادی کا تصور اتنا راسخ ہوچکا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ دار یا اپنے ہی ماں باپ کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ ان کی پسند کیخلاف کوئی بات کہہ سکے ۔
یہ نوجوان اپنے کرئیر اور اپنے مستقبل کےلئے اپنے والدین کے بوجھ کو اٹھانا بھی پسند نہیں کرتے اور یوں بوڑھے والدین اپنی زندگیاں اولڈ ہاوس میں گزارتے ہیں یا اکیلے رہ کر ایسے ہی گھر میں اپنی آخری سانسیں لیتے ہیں اور پھر ان کی لاش سالوں بعد دریافت ہوتی ہیں ۔اسلام میں خاندان کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور والدین کے حقوق اور اپنی اقارب اور ہمسائیوں کے متعلق باقاعدہ احکام دئیے ہیں اسلام میں مضبوط خاندان کو معاشرہ کی اکائی قرار دیا گیا ہے مضبوط خاندان کی وجہ سے جہاں بچوں کو سرپرستی میسر رہتی ہے وہیں بڑوں کو بھی اپنےبڑھاپے میں سہارہ میسر رہتا ہے۔