تاریخ کا پہیہ - سجاد میر

مرے ذہن میں یہ سوال کھد بد کر رہا ہے کہ یہ جو دھرنا ورنا ہے یہ درست ہے یا غلط۔ سچ پوچھئے تو اب تک کی جو سرگرمی تھی‘ میں نے بھی اس کا خوب مزہ اٹھایا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاسی بے بسی کا نظارہ بھی کیا ہے اور حکمرانوں کو تلملاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ حکومت نے سمجھ لیا تھا کہ طاقت کا استعمال ممکن نہیں‘ کچھ صلح صفائی سے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔ یہ بات حکمرانوں کے موجودہ سالار کے لئے بہت مشکل تھی مگر لگتا ہے ریاست کی مقتدر قوتوں نے انہیں یہی سمجھایا کہ مصلحت کا تقاضا یہی ہے۔

ایک تو پاکستان مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔ دوسرے حکومت بہت کمزور ہے۔ عوام بہت تپے بیٹھے ہیں اور وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور تیسرے یہ کہ اس سے پہلے ایسے کسی احتجاج پر کبھی طاقت استعمال نہیں کی گئی۔ پولیس لیت ولعل کرتی ہے۔ فوج کا تو آنا اور بھی مشکل صورت حال ہے۔ اپنے لوگوں پر گولی چلانا آسان نہیں ہوتا۔ مولانا خادم رضوی کو گھیرنے کی کوشش کی گئی تھی تو گھیرنے والے گھیر لئے گئے تھے۔ اس لئے اگر حکومت نے اپنے دل میں یہ سوچ رکھا ہے کہ ہم مسلح قوت کا استعمال کریں گے تو یہ خاصا مشکل دکھائی دیتا تھا۔ وہ بار بار اعلان تو کرتی تھی کہ فوج اور ہم ایک پیج پر ہیں۔ یہ بات اتنی بار اور اس انداز میں کی گئی کہ لوگ کہنے لگے اس کا کیا یہ مطلب ہے کہ ہر حکومت فوج کے سہارے چل رہی ہے۔ اس وقت تو خیریت گزری۔

یہ مارچ جسے اب دھرنا بھی کہا جا رہا ہے، اس قدر ضرور کامیاب ہونا چاہیے تھا کہ حکومت کو سیاسی حلقوں کی قوت کا اندازہ ہوتا اور وہ آمرانہ روش اختیار کر کے من مانی کرنے کے بارے میں اپنی ہر سوچ کو دبا دیتی۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے۔ تو کیا مولانا نے یہ سب پاپڑ اس لئے بیلے تھے کہ جلسہ کر کے اور حکمرانوں کو آنکھیں دکھا کر پلٹ جائیں۔ پھر وہ کیا چاہتے ہیں؟ وزیر اعظم کا استعفیٰ؟ یہ انہیں بھی معلوم ہے کہ فی الحال اس کا امکان نہیں ہے۔ پھر آخر وہ چاہتے کیا ہیں۔ عمران خاں بار بار کہتے ہیں میں این آر او نہیں دوں گا۔جواب آتا ہے وہ آپ کے بس میں نہیں۔ مرے خیال میں بھی مولانا وزیر اعظم سے کچھ نہیں مانگ رہے۔ وہ جس سے مانگ رہے ہیں ان تک ان کی آواز پہنچ گئی ہے اور ’’آفاق‘‘ سے نالوں کا جواب بھی آ گیا ہے کہ اس کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں ہونا ہے۔ کوئی شکایت ہے تو آ کر بات کرو۔اس بیانیے کی باقی باتیں فروعی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ فوج آئینی اور دستوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہے‘بھی ذیلی اور ضمنی بات ہے کیونکہ یہ تو ہے ہی اور یہ کہنے کی اس وقت اس لئے بھی ضرورت تھی کہ کہیں حکومت بالکل ہی ہاتھ پائوں نہ چھوڑ جائے۔ وگر نہ کوئی نہیں یہ سوچ رہا کہ یہ لوگ آگے بڑھیں گے اور سامنے سے امن و امان قائم کرنے کے لئے تڑ تڑ گولیاں چلنے لگیں گی۔ یہ ان مارچ والوں کو بھی پیام ہے کہ تمھیں ایک حد میں رہنا ہے۔

سوال یہاں یہ ہے کہ مولانا کا مطالبہ ہے کیا؟ ایک تو سیدھا اور صاف ہے کہ میںنے ہمیشہ ملک کی مقتدر قوتوں کا ساتھ دیا ہے ایسے ایسے کام کئے کہ انہوں نے بھی شکایت کی۔ ایم ایم اے تڑوا لی۔اپنے حلیفوں میں بدنامی مول لی۔ ہمیشہ ٹکڑائو کی پالیسی سے گریز کیا۔ تاہم اس وقت انہیں بعض سنگین اور سنجیدہ قسم کی شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔ سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ انہیں اسمبلی سے باہر رکھا گیا۔ گویا ایک طرح سے دودھ سے مکھی کی طرح نکالا گیا۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ انہوں نے مقتدرہ کی بعض پالیسیوں کو پسندنہیں کیا۔ ان میں سب سے اہم قبائلی علاقوں کا پاکستان میں ادغام‘انضمام کہہ لیجیے یا انہیں صوبہ سرحد کا حصہ بنانا تھا۔ پھر اس بات کی بھی کوشش کی گئی کہ ان علاقوں میں ان کا اثرورسوخ کم کیا جائے بلکہ بالکل ناپید کر دیا جائے۔

یہ بہت اہم بات ہے۔ اتنی اہم کہ مقتدرہ اس بات پر اپنے پرانے ساتھی کو نظرانداز کرنے پر تیار ہو جاتی ہے اور ان کا یہ حلیف مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے ہمارا تزوینی مسئلہ ہے۔ افغانستان سے جڑا ہوا معاملہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مارچ میں حصہ لینے کے لئے وہ لوگ بھی آئے جو قومی سیاست میں مولانا کے مخالف ہیں مگر افغان مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ محمود خاں اچکزئی کی آمد ایسے ہی ممکن نہیں ہوئی۔

ایک بات اور بھی کہتا چلوں۔ اس طرح یہ معاملہ بھارت کے تزوینی مفادات سے بھی ٹکڑا جاتا ہے۔ اہل پاکستان وہ سیاست بھول چکے ہیں جو تقسیم کے وقت ابھری تھی۔ 71ء کے بعد سرحدی گاندھی کی اولاد بھی ملک اور جمہوریت بچانے میں سرگرم تھی اور بلوچی گاندھی کا بھی طعنہ نہیں دیا جاتا تھا۔ سندھ کے قوم پرست ہوں یا پنجاب کے انگریز کے کاسہ لیس‘ قومی سیاست میں سب کو شامل سمجھا گیا تھا ۔مولانا جس وراثت کے امین ہیں‘ اس پر اب تازہ اعتراضات بھی تو اٹھ رہے ہیں۔ بھارت میں ان کے ’’اکابرین‘‘ کے ایسے بیانات کشمیر سمیت بہت سے معاملات پر ایسے ہیںجنہیں ہم ان کے بھارت کا شہری ہونے کی مجبوری سمجھتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگرچہ ان کی ذہانت اورفطانت نے کشمیر اور قبائلی علاقوں کا جو تقابل کیا ہے وہ ان کے ڈانڈے نہ صرف ایک دوسرے سے ملاتے ہیں بلکہ تکلیف دہ بھی ہیں۔ اس وقت ان پر تفصیل سے بات کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ مولانا کے جو اعتراضات ہیں وہ مقتدرہ نے شاید بے وجہ نہیں کئے۔ انہیں کچھ شکوک و شبہات تھے جو ہم جیسوں تک بھی پہنچائے جاتے رہے۔ اس سب کے باوجود میں یہ کہنے سے باز نہیں رہوں گا کہ قوم کے اجتماعی شعور نے ان چیلنجوں کو جس طرح برداشت کیا ہے اور آہستہ آہستہ ملک کو ایک جمہوری راہ پر چلانے کی کوشش کی ہے‘ وہی درست راستہ ہے جبر کا کوئی راستہ ملک میں جمہوریت نہیں لا سکتا۔ آپ ڈنڈے کے زور پر جمہوریت نافذ کر نہیں سکتے اور اگر جمہوریت آپ کا مطمح نظر نہیں ہے تو پھر کہنے دیجیے اس ملک کی بقا صرف اس بات میں ہے کہ جمہوری راستہ اختیار کیا جائے۔ قوم کا اجتماعی ضمیر اور اجتماعی شعور یہی کہتا ہے۔

اس پس منظر میں پاکستان کی بڑی قومی جماعتوں کا بھی یہ رویہ رہا۔ پیپلز پارٹی تو اپنے مزاج میں لبرل اپروچ رکھتی ہے۔ وہ ہر طرح کے باغیانہ خیالات رکھنے والوں کو بھی اپنے ساتھ ملا سکتی ہے مگر مسلم لیگ ن نے بھی نواز شریف کی قیادت میں سندھ‘ بلوچستان کے قوم پرستوں سے قریبی رابطے رکھے۔ خیبر پختونخواہ میں بھی ترقی پسند قوتوں سے تعاون کیا اور اس کے لئے اپنے روایتی قدیمی ووٹ بنک کی حمایت کو بھی خطرے میں ڈالا۔ ملک میں اس حوالے سے ہر قسم کی سوچ پائی جاتی تھی۔ ایک زمانے میں مثال کے طور پر نوائے وقت ولی خاں کا نام سننے کا روادار نہ تھا۔ ملک ایک دوسرا دبستان صحافت جو کہ دائیں بازوکا شمار ہوتا تھا اور جس سے ان دنوں مرا تعلق بھی تھا‘ اس گروپ کو جمہوریت کی خاطر سینے سے لگاتا تھا۔اس وقت بھی اکثر پارٹیوں کے دلوں میں ایسی ہی کشمکش ہے۔ بعض پارٹیاں مولانا کے ساتھ اتنا آگے جانے کو تیار نہیں ہیں۔ اس پر الزامات کی بوچھاڑ بھی ہوتی ہے‘ مگر اسے اس زاویے سے بھی دیکھا جائے۔ وہ جمہوریت کی خاطر اس جدوجہد کی کامیابی ہی چاہتے ہیں۔ مگر قومی سلامتی کے تقاضوں کی خاطر محتاط بھی ہیں۔ ویسے زیادہ احتیاط کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

مولانا کا ریکارڈ تو یہی بتاتا ہے کہ مولانا ایک حد سے آگے نہیں جاتے۔ اگر انہیں اس کے لئے مجبور کیا گیا تو یہ ملک کی کوئی خدمت نہ ہو گی۔ امتحان مولانا کا بھی ہے‘ ان کے حلیفوں کا بھی اور ان کے مخالفوں کا بھی اور ان کا بھی جن سے مولانا بات کرنا چاہتے ہیں اور جن کے ہاتھ میں اس ملک کی تقدیر ہے اور ہماری بھی جو مزے مزے میں یہاں تک آ پہنچے ہیں اور اب دعا کر رہے ہیں کہ جو کچھ ہو وہ صرف مزے مزے میں نہ ہو بلکہ ملک کی بہتری کے لئے ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حکومت کے عام آدمی کو بہت تنگ کر رکھا ہے اس لئے جو بھی اس کے خلاف میدان سجاتا ہے وہ بہت سوں کو بہت اچھا لگتا ہے۔ اب کچھ کر لینا چاہیے اس پوری جنگ کو آسان نہیں لینا چاہیے۔ تاریخ کا پہیہ دوسری سمت بھی گھوم سکتا ہے اور ایسا ہونے میں کوئی وقت نہیں لگتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com