مولانا نے اہم موقع کیسے ضائع کر دیا - اوریا مقبول جان

یہ کالم یا تحریر لکھتے وقت میں نے اپنے آپ کو ایک کالم نگار یا مصنف کی حیثیت سے بالکل الگ کر لیا ہے۔ میں نے خود کو ان تمام جذبات، خیالات و نظریات اور تعصبات سے بھی دور کر دیا ہے جو کسی سے محبت یا نفرت کا باعث بنتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں ایک انتظامی افسر خصوصا ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوچتا ہے۔ اگر اس کے سامنے ایک صورتحال آ جائے جس میں امن عامہ کا قیام، لوگوں کی جان ومال کا تحفظ اور ایک غیر قانونی قرار دیے گئے ہجوم کو منتشر کرنا مقصود ہو، اور اسے ایسا کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے، یا پھر وہ اپنا تمام اختیار استعمال کرے جو اسے قانون کے مطابق حاصل ہے تو پھر وہ ایسے ہی سوچتا ہے۔ ایسی کیفیات سے میں بارہا گزرا ہوں۔ میری زندگی کے چھ سال ڈپٹی کمشنری اور تین سال اسسٹنٹ کمشنری میں گزرے ہیں اور بارہا ایسے مواقع آئے کہ ایک بہت بڑے ہجوم اور غصے میں بپھرے ہوئے جلوس کو ایسے منتشر کرنا پڑا کہ عام شہریوں کا امن و امان بحال ہوجائے۔ کوئٹہ، پشین اور چمن میں تو یہ خدشات حقیقت بھی تھے کہ ہجوم میں بے شمار ایسے ہوں گے جو اپنی چادروں اور ملبوسات میں اسلحہ چھپائے ہوں گے۔ اس کے علاوہ میرے علم میں ہزاروں واقعات بھی ہیں جہاں دیگر انتظامی افسران نے اپنی بھرپور صلاحیتوں سے بڑے سے بڑے خوفناک تصادم سے لوگوں کو بچا لیا۔ سول سروسز اکیڈمی کی ٹریننگ سے لے کر سٹاف کالج یا سکول آف پبلک پالیسی کی آخری ٹریننگ تک کئی سو ایسے واقعات مثال کے طور پر پڑھائے جاتے ہیں جہاں ایک انتظامی آفیسر کیسے اور کس طرح ایک ہجوم کو کنٹرول کرتا، منتشر کرتا اور امن وامان قائم کرتا ہے۔ اس لیے آج میں یہ کالم صرف اور صرف اسی تجربہ اور تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کی ممکنہ صورتحال اور نتائج کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔

مولانا فضل الرحمن کا ایک کامیاب دھرنا اس وقت اسلام آباد کے ریڈ زون سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کھلے میدان میں موجود ہے، جس کے دونوں اطراف بڑی بڑی سرکاری اور نیم سرکاری عمارتیں ہیں اور عام گھریلو آبادی کافی فاصلے پرہے۔ تقریبا ًایک درجن کے قریب راستے ہیں جو اس دھرنے کے افراد کو کسی بھی سمت نکل کر کسی عمارت یا تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے لئے ہدف فراہم کرسکتے ہیں۔ دھرنے کے افراد میں سو فیصد نہ بھی ہوں تو ننانوے اعشاریہ نو فیصد افراد، مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے مذہبی رہنماؤں ساجد میر اور انس نورانی کے مذہبی عقیدت مندوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مولانا کے ساتھ آنے والوں میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افراد کی اکثریت ہے۔ کچھ قافلے سندھ سے بھی ہیں جبکہ پنجاب سے شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ مولانا کے قافلے کی عوامی پذیرائی کی راستہ بھر کوئی مثال نہیں ملتی۔ صرف چند جگہوں پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنان نے استقبال کیا ورنہ عوامی پذیرائی کا نظارہ گزشتہ چند برسوں میں صرف افتخار محمد چوہدری کی عدلیہ بحالی تحریک میں نظر آیا تھا، ویسا کوئی منظر اس جلوس کے دوران نظر نہیں آیا۔ مولانا کے ساتھ صرف دیوبندی مسلک کے ایک گروپ کے لوگ شامل ہیں جبکہ اہلحدیث، بریلوی اور شیعہ مسلک ان کی اس سیاسی مہم جوئی سے کافی دور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے کسی کو نہیں چھوڑنا؟آصف محمود

مولانا نے اپنی تحریک میں سیاسی پارٹیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ لوگ صرف تقریروں کی حد تک لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہوئے اور اب اس وقت دھرنے کی گراؤنڈ میں صرف اور صرف مولانا کے ساتھ کراچی سے چل کر آنے والے اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ ایک بے لاگ اور غیر جانبدارانہ انتظامیہ رپورٹ تھی جو اس وقت کسی بھی انتظامی آفیسر کے سامنے موجود ہوگی جب مولانا 31 اکتوبر کو قافلہ لے کر وہاں پہنچے تھے۔ 31 اکتوبر 2019 ء کی شام تک تمام انتظامیہ گومگو کی کیفیت میں ہوگی کہ مولانا آئندہ کیا کرنے والے ہیں۔ انتظامیہ لاہور میں نواز شریف اور نون لیگ کی سرد مہری کا اندازہ بھی لگا چکی ہوگی۔ وہ اسفندیارولی اور بلاول بھٹو کی اچانک جلسہ گاہ آمد پر حیران بھی ہوگئے ہوں گے اور تقریروں کے اختتام تک یقینا ان کے دلوں میں ایک خوف موجود ہوگا کہ اگر مولانا نے آگے بڑھنے کا اعلان کر دیا تو یہ ایک ایسا فوری اقدام ہوگا جسے اچانک روکنا انتظامیہ کے لیے بہت مشکل تھا۔ لیکن انتظامیہ کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا نے دو دن کی مہلت دے کر انہیں حیران ہونے کا موقع کھو دیا۔ اگر مولانا نے تصادم کی طرف جانا ہوتا، کوئی ہارڈ لائن لینا ہوتی تو 31 اکتوبر بہترین وقت تھا۔ مولانا کے ووٹروں نے تو آگے بڑھنا ہی تھا، لیکن ان کے اعلان کے ساتھ ہی بلاول بھٹو، شہبازشریف، اسفند یار ولی اور اس سیکولر لبرل طبقے کی منافقت بھی کھل کر سامنے آجاتی جو مولانا کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتے ہیں۔ صرف مولانا کا ڈی چوک کی جانب بڑھنے کا اعلان ان کی اصلیت کھول دیتا۔ ان کے پاس دو راستے تھے، یا تو وہ مجبور ہوکر ساتھ چل پڑتے یا پھر واپسی کا سفر اختیار کر لیتے۔ لیکن مولانا نے وہ سنہری موقع کھو دیا اور یقینا ان کی دو دن کی مہلت نے انتظامیہ کو سب سے بڑا ریلیف دیا ہے۔

یہ دو دن کسی بھی طرح حکمت عملی بنانے اور کسی بھی قسم کے ایکشن کی تیاری، پیش بندی اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کا بندوبست کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مولانا کے دھرنے میں موجود ایک ایک شخص کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھا کی جاسکتی ہیں۔ تعداد کا اندازہ، اسلحہ اور دیگر خطرناک ہتھیاروں کے بارے میں معلومات، یہاں تک کہ ان کے جوش وجذبہ اور یہاں رکنے اور واپس لوٹنے کی خواہشات تک پتہ کی جاسکتی ہیں۔ ان لوگوں کی دو دنوں میں فون کالوں کے ذریعے ہمدردوں کا جائزہ اور رشتہ داروں کی پریشانیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسا کام اس بڑے ہجوم میں صرف دو درجن ہمدرد نما افراد بھیج کر کیا جاسکتا ہے۔ اس ساری تصویر کے آنے کے بعد ایکشن کی منصوبہ بندی انتہائی آسان ہوجاتی ہے۔ دھرنا اس وقت جس جگہ پر ہے وہ کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے انتہائی موزوں ہے اور یہاں کم سے کم طاقت استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ دھرنے سے باہر نکلنے کے ایک درجن راستوں کا کنٹرول اور اردگرد تمام سرکاری عمارتوں پر نفری کی تعیناتی آپ کے سامنے ہجوم کو براہ راست ٹارگٹ میں لا سکتی ہے اور صرف مسلسل آنسو گیس وہ نتائج برآمد کر سکتی ہے جو اس وقت مولانا اگر ڈی چوک پر نکل پڑے تو لاٹھی اور گولی بھی حاصل نہیں کرسکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   دھرنے کے مقاصد کیا ہیں - مسزجمشیدخاکوانی

ایکشن کے بعد کے عوامی ردعمل کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اگر عوام اس مارچ کے راستے میں نچھاور ہوتے، گھنٹوں انتظار کرتے، پھول پتیاں پھینکتے، تمام سیاسی پارٹیاں جوش و جذبے سے شریک ہوتیں تو شاید کوئی اس خوف سے یہ ایکشن نہ لیتا۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ مولانا کو ان تمام سیکولر، لبرل نما جمہوری پارٹیوں نے جال میں پھنسا دیا ہے۔ اگر آج مولانا پر یہ حقیقت واضح ہوگئی تو وہ بہت آسانی سے اس جال سے نکل سکتے ہیں۔ لیکن اگر انہوں نے اپنے ان دھرنے والوں کی قوت کا غلط اندازہ لگایا تو ایسا کرنا ویسی ہی خودکشی ہوگی جیسی مولانا عبدالرشید غازی نے کی تھی۔ 1953 میں جب جنرل اعظم نے لاہور میں مارشل لاء لگایا تو روز رپورٹ بھیجتا کہ آج میں نے اتنے مولوی مار دیے۔ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کو بلایا اور کہا یہ دیکھو اتنے عالم دین مارے جا رہے ہیں، میری تو راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔ سکندر مرزا نے جنرل اعظم سے فون پر رابطہ کیا اور کہا تم فوجیوں کو کب عقل آئے گی۔ مولوی کیوں لکھتے ہو، لکھو اتنے شرپسند مار دیے۔ اس کے بعد وزیراعظم پرسکون ہو گئے۔ اب تو اس منافقت کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ اب تو دنیا کو بتایا جائے گا کہ ہم نے اتنے اسلامی دہشت گرد مار دیے۔

آج کے بعد کے دن بہت اہم ہیں، مولانا کے لیے بھی اور انتظامیہ کے لیے بھی۔ جامعہ حفصہ کے بعد پورے ملک میں خودکش بمباری شروع ہو گئی تھی اور آج تک مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔ لیکن جامعہ حفصہ والوں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا تھا۔ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی ہے۔ اللہ عقل و ہوش عطا فرمائے۔