کیا متحدہ اپوزیشن میں اختلافات ہیں؟ مزمل سہروردی

مولانا کا مارچ اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اور جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوںگے اس کے درمیان بھی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ عوام ہی نہیں سیاسی قیادت بھی ابہام کا شکار ہے۔ آگے کیا ہوگا شاید ابھی حکومت کو بھی نہیں معلوم۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شاید ابھی اپوزیشن کو بھی نہیں معلوم کہ آگے کیا ہوگا۔ مولانا نے نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی طاقت اسلام آباد میں جمع کر لی ہے۔ ابھی تک حالات جو رخ اختیار کر رہے ہیں۔ اس میں محاذ آرائی کے امکانا ت زیادہ روشن نظر آرہے ہیں۔

اسلام آباد میں طاقت مولانا کی جمع ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے لوگوں کو لانے کے لیے کوئی حرکت ہی نہیں کی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا کو پہلے دن سے معلوم تھا کہ انھیں دونوں بڑی جماعتوں ن لیگ اور پی پی پی کے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اب جو صورتحال سامنے ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر یہ دونوں جماعتیں بھی اپنے لوگ لاتیں تو اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ تھا۔ آج جہاں یہ بحث ہے کہ دونوں جماعتوں کے لوگ نہیں آئے پھر یہ بحث ہوتی کہ کس کے زیادہ اور کس کے کم ہیں۔ اس لیے میری رائے میں مولانا کے اسکرپٹ میں ن لیگ اور پی پی پی سے افرادی قوت میں مدد مانگنا شامل ہی نہیں تھا۔

آپ مولانا اور عمران خان کی سیاست میں فرق سمجھیں۔ عمران خان ہر معاملے میں سولو فلائٹ کے خواہش مند رہتے ہیں۔ ان کے لیے کسی کے ساتھ چلنا عملاً نا ممکن ہے۔ اسی لیے ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر عمران خان کے پاس مطلوبہ سیاسی طاقت موجود ہوتی تو وہ نواز شریف سے بھی پہلے اسٹیبلشمنٹ سے لڑ پڑتے۔ وہ تو حکومت سیاسی اعتبار سے اتنی کمزور ہے۔ چند ووٹوں پر کھڑی ہے اور عمران خان کو معلوم ہے کہ اگر ایک بھی اتحادی نکل گیا تو اقتدار گیا۔ اس لیے وہ خاموش ہیں۔ تا ہم پھر بھی وزارت عظمی کا ایک سال بتا رہا ہے کہ عمران خان نے اس ایک سال میںاپنی سیاسی تنہائی میں اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے دشمنوں میں اضافہ کیا ہے۔ بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ ان کے اتحادی بھی ان سے نالاں ہیں ۔ اگر آج بھی عمران خان کی حکومت کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ چند دن میں گر جائے گی۔
ادھر آپ مولانا کو دیکھیں تو انھیں جہاں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر بھی وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ مولانا کے مارچ میں کسی بھی جماعت کے کارکن موجود نہیں ہیں لیکن پھر بھی وہ اپوزیشن کی ساری سیاسی قیادت کو کنٹینر پر ساتھ لے کر کھڑے ہیں۔بلاول نے سکھر سے شامل ہونا تھا نہیں ہوئے شہباز شریف لاہور میں شامل نہیں ہوئے۔ لیکن مولانا نے ناراض ہونے کے بجائے انھیں اسلام آباد میں ساتھ کھڑا کر لیا۔

جب سب کو نظر آرہا ہے کہ وہاں پی پی پی کا کوئی کارکن نہیں ہے پھر بھی بلاول کو دو دن بلایا جاتا ہے۔ ن لیگ نہیں ہے پھر بھی شہباز شریف کو ضد کر کے بلایا جاتا ہے۔ اسفند یار کو بلایا گیا ہے۔ اچکزئی ساتھ ہیں۔ انس نوارنی ساتھ ہیں۔مولانا اپنی طاقت کی موجودگی میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک رہبر کمیٹی بنائی ہوئی جہاں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ کسی کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔ مولانا کی کوشش ہے کہ بے شک کسی نے ان کی مدد نہیں کی ہے پھر بھی وہ سب کو ساتھ رکھیں۔ مولانا سیاسی تنہائی سے بچنا چاہتے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں میں کوئی اختلاف ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی کو معلوم ہے کہ مولانا نے ان کی کسی بھی مدد کے بغیر یہ میلہ سجا لیا ہے۔ پھر بھی وہ انھیں یہ میلہ شئیر کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ مولانا اکیلے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ ساتھ مل کر فیصلے کر رہے ہیں۔ اس میں ن لیگ اور پی پی پی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ن لیگ اور پی پی پی پہلے دن سے آخری دن تک اس مارچ اور دھرنے پر تحفظات رکھتے تھے۔ دونوں کو تحفظات تھے کہ اگر ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا۔ لوگ نہ آئے تو کیا ہوگا۔ لیکن مولانا نے اکیلے ہی سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ مولانا نے کمال حوصلہ کا مظاہرہ کیا ہے سیاسی حکمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے سب کو دوبارہ ساتھ جوڑ لیا ہے۔

آپ دیکھیں آج میاں نواز شریف سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں،ضمانت ہو گئی ہے۔ لیکن اس کا کریڈٹ عمران خان یا حکومت کو نہیں بلکہ مولانا کو دیا جا رہا ہے ۔ آج مریم نواز والد کے ساتھ اسپتال میں کئی دن سے موجود ہیں۔ یہ بھی ایک بڑی سہولت ہے۔ لیکن حکومت اس کا کریڈٹ بھی نہیں لے سکتی بلکہ یہ بھی مولانا کا ہی کریڈٹ ہے۔آصف زرداری جیل سے اسپتال منتقل ہو ئے ہیں یہ بھی حکومت کا نہیں مولانا کا کریڈٹ ہے۔ ورنہ یہی حکومت پہلے انھیں اسپتال منتقل کرنے سے انکاری تھی۔ شاہد خاقان جیل سے اسپتال آئے ہیں۔

ایک رائے ہے کہ مولانا کے مارچ نے حکومت کو ان دونوں جماعتوں کی قیادت کے سامنے سرنگوں کر دیا ہے۔ جس کے لیے ان جماعتوں کی قیادت کہیں نہ کہیں مولانا کی شکر گزار ہے۔آگے بھی جو ملنا ہے مولانا کی وجہ سے ملنا ہے۔ اب بھی مولانا کی دونوں بڑی جماعتوں سے بس اتنی خواہش ہے کہ وہ ساتھ کھڑی رہیں۔ لڑائی مولانا نے لڑنی ہے انھوں نے بس تماشہ دیکھنا ہے۔ اگر نقصان ہوا تو مولانا کا ہوگا لیکن اگر فائدہ ہوا تو سب کو ہوگا۔ سب کو اندازہ ہے کہ یہاں سے اگر مولانا کو پسپائی ہوئی تو یہ ان کے لیے ایک سیاسی موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے مولانا کے لیے یہاں سے خالی ہاتھ جانا ممکن نہیں۔

اس لیے حکومت جو یہ بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ دھرنے کے معاملے پر اپوزیشن میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ ن لیگ اور پی پی پی دھرنے سے دور ہو گئی ہیں۔ اس کا حکومت کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہونے لگا۔ اس کا اپوزیشن کو کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔ حکومت کی یہ ساری کاوش ایک گناہ بے لذت سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آپ جتنا مرضی شور مچا لیں کہ وہاں مذہبی کارڈ استعمال ہو رہا ہے اس لیے پی پی پی کو ساتھ نہیں کھڑا ہونا چاہیے۔ ن لیگ ساتھ نہیں ہے۔ دونوں جماعتوں نے مولانا کو ایسی کوئی طاقت نہیں دی ہوئی جو وہ واپس لے سکیں۔ ایک اخلاقی حمایت ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

حکومت گالیاں دیکر تو ان دونوں جماعتوں کو اخلاقی حمایت واپس لینے پر قائل نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے حکومت کو دونوں میں سے ایک جماعت کے ساتھ ایک بڑی سیاسی ڈیل کرنا ہوگا۔ حکومت کو ایک نیا یو ٹرن لینا ہو گا۔ لیکن اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔کیونکہ مولانا جس طاقت کے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔ا س میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اس لیے دونوں سیاسی جماعتیں اپنی اخلاقی اور سیاسی حمایت مولانا کے ساتھ رکھیں گی۔ اس کا انھیں فائدہ ہے۔ جو لڑائی وہ نہیں لڑ سکتیں وہ مولانا لڑ رہے ہیں۔ اس لیے اس لڑائی کوناکام کرنے میں انھیں کوئی فائدہ نہیں۔ فائدہ عمران خان کے کمز ور ہونے میں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت نے ایسی کوئی سیاسی حکمت عملی کا مظاہر نہیں کیا ہے جس سے دونوں بڑی جماعتوں کو مولانا سے دور کیا جا سکے۔ صرف بیانات اور خواہش سے یہ ممکن نہیں ہے۔