کیا واقعی خود پسند افراد ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے؟

ڈبلن : شمالی آئرلینڈ کے طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ خود پرست افراد ذہنی طور پر مضبوط ہوتے ہیں جن کے ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔دنیا بھر کے انسانوں کو اپنی ذات و شخصیت سے محبت ہوتی ہے لیکن بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنی شخصیت سے دیوانگی کی حد محبت ہوتی ہے۔ ایسے افراد کو معاشرے میں خود پسند، مغرور، گھمنڈی اور نرگسیت پسند سمیت متعدد القاب سے نوازا جاتا ہے۔

آپ کے اردگرد بھی ایسے افراد موجود ہوں گے جو گفتگو غرض ہر بات میں اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسے افراد میں ڈپریشن کا شکار ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ شمالی آئرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔کوئنز یونیورسٹی کی تحقیق میں 700 افراد کی شخصی عادات پر ہونے والی 3 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیاجس کےنتائج سے معلوم ہوا کہ خود پرستی کی ایک قسم ’گرینڈ ڈی اوس‘ یا اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے والے افراد میں ذہنی مزاحمت بڑھ جاتی ہے جس سے ڈپریشن کی علامات کم سامنے آتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق ایسی شخصیت کے حامل افراد کے اندر اپنی اہمیت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں تناؤ یا ذہنی دباؤ کی شرح بھی دیگر کی نسبت بہت کم ہوتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ خودپرستی کی 2 جہتیں ہوتی ہیں شان و شوکت کا اظہار اور مظلومیت کا احساس۔مظلومیت کا احساس رکھنے والے خودپرست افراد دفاعی انداز رکھتے ہوئے دیگر کے رویوں کو مخالفانہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے افراد میں اپنی اہمیت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اور اپنی حیثیت اور اختیار کا احساس انہیں آسمان پر چڑھا دیتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ خودپرست افراد میں خطرناک رویے ظاہر ہوسکتے ہیں، اپنے بارے میں غیرحقیقی بالادستی کا نظریہ پیدا ہوسکتا ہے اور حد سے زیادہ اعتماد کے ساتھ دیگر کے لیے بہت کم ہمدردی ہوتی ہے جبکہ شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا۔محقیقین نے واضح کیا کہ نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شان و شوکت کے شائق افراد میں ذہنی مضبوطی کے مثبت عناصر جیسے اعتماد اور مقصد کا حصول وغیرہ پائے جاتے ہیں جو انہیں ڈپریشن کی علامات سے تحفظ کے ساتھ تناﺅ سے بچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت سازی زندگی کے آئینے میں - مدیحۃالرحمن

تحقیق کاروں کے مطابق اگر ایک فرد ذہنی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ چیلنجز کو رکاوٹ سمجھنے کی بجائے انہیں قبول کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ خودپرستی کی تمام جہتیں تو اچھی نہیں مگر کچھ پہلو مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔