*روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ - قسط نمبر 9

کالج آڈیٹوریم میں ”سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف ۔۔۔۔ ایک اعلان جنگ“ کے موضوع پر سیمینار جاری تھا۔ ذیشان فاروق اپنا تحقیقی مقالہ پڑھ رہا تھا۔ "۔۔۔۔۔ تجارت، صنعت و حرفت اور زراعت میں انسان محنت، ذہانت اور وقت صرف کر کے اس کا فائدہ لیتا ہے۔ مگر سُودی کاروبار میں وہ محض اپنا ضرورت سے زائد مال دے کر بلا کسی محنت و مشقت کے دُوسروں کی کمائی میں شریکِ غالب بن جاتا ہے۔

اس کی حیثیت اِصطلاحی ” شریک“ کی نہیں ہوتی جو نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوتا ہے، اور نفع میں جس کی شرکت نفع کے تناسب سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایسا شریک ہوتا ہے جو بلا لحاظ نفع و نقصان اور بلا لحاظِ تناسب نفع اپنے طے شدہ منافع کا دعوے دار ہوتا ہے۔" ان وجوہ سے تجارت کی معاشی حیثیت اور سُود کی معاشی حیثیت میں اتنا عظیم الشان فرق ہو جاتا ہے کہ تجارت انسانی تمدّن کی تعمیر کرنے والی قوت بن جاتی ہے اور اس کے برعکس سُود اس کی تخریب کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اخلاقی حیثیت سے یہ سُود کی عین فطرت ہے کہ وہ افراد میں بخل، خود غرضی، شقاوت، بے رحمی اور زر پرستی کی صفات پیدا کرتا ہے اور ہمدردی و امداد باہمی کی رُوح کو فنا کر دیتا ہے۔ اس بنا پر سُود معاشی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے نوع انسانی کے لیے تباہ کن ہے۔ اسی لیے سورہ البقرہ کی آیت 279 میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا۔ اگر تم نے نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے، اور اگر توبہ کرلو تو اصل مال تمھارا تمہارے واسطے ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ قرآنی احکامات کے ساتھ ساتھ سود کی ممانعت پر رسول کریمﷺ کی کئی احادیث بھی موجود ہیں۔

ﺳﻴﺪﻧﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺎﺑﺮ ﺭﺿﻰ ﺍﻟﻠـﮧ ﻋﻨﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﻴﮟ: ﻟﻌﻦ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠـﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠـﻪ ﻋﻠﻴﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﻛﻞ ﺍﻟﺮﺑﻮﺍ ﻭ ﻣﻮﻛﻠﻪ ﻭ ﻛﺎﺗﺒﻪ ﻭ ﺷﺎﻫﺪﻳﻪ ﻭ ﻗﺎﻝ ﻫﻢ ﺳﻮﺍﺀ. (ﺭﻭﺍﻩ ﻣﺴﻠﻢ27/2، ﻣﻈﺎﻫﺮ ﺣﻖ23/3) مﺁﻧﺤﻀﺮﺕ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠـﮧ ﻋﻠﻴﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﺩ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﮐﮭﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﺳﻮﺩﻯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻰ ﮔﻮﺍہی دینے ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﻓﺮﻣﺎﺋﻰ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﻳﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ (ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻴﮟ) ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻴﮟ۔ جہاں حاضرین میں موجود کاروباری برادری کے کچھ لوگوں کے چہروں پر ناگواری کے تاثرات موجود تھے، وہیں پر چند افراد کے دل ان کے گھٹتے بڑھتے ایمان کی لہروں پر ڈول رہے تھے۔ شاہنواز خان بینک میں دو لاکھ ماہانہ آمدنی کے ساتھ ایک اعلی عہدے پر فائز تھے۔ سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالے انہیں اپنے ایک طرف ایک ایسے میدان جنگ کا نقشہ دکھا رہے تھے جس میں وہ اپنی چیونٹی وجود کے ساتھ کوئی خورد بینی تلوار پکڑے اللہ تعالی جیسی اکبر و کبیر ہستی کے ساتھ برسر پیکار ہو کر ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں آگ کے انگاروں کی لپیٹ میں جا رہے تھے اور دوسری جانب سودی ملازمت کے دو لاکھ چھوڑ دینے کی صورت میں گھر بار، آسائشیں سب کچھ ہاتھ سے جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ دو لاکھ کی پرکشش اسٹیٹس والی ملازمت چھوڑ دینے کے بعد کیا وہ آٹھ ہزار کی ریڑھی لگانے پر تیار تھے؟ کیا ایمان کی خاطر قربانی دی جاتی ہے؟

کیا صحابہ اکرام ؓ نے دین کی خاطر اپنے کاروبار، وطن گھر بار کی قربانیاں دی تھیں؟ کیا ان قربانیوں کے بدلے انہیں زندگیوں اور رزق میں برکتیں عطا ہوئیں؟ کیا انہیں ان قربانیوں کے بدلے کوئی کامیابی ملی؟ کامیابی کیا معاشی استحکام کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ ہاں! انہیں دنیا و مافیہا کی سب سے بڑی کامیابی نصیب ہوئی کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ احمد اپنے رب کی بے پایاں عنایات میں سکھ و سکون کے دن جی رہا تھا۔ ماضی کی تلخیاں معدوم ہوتی جا رہی تھیں مگر اس کا اور اس کی کتاب *پیغمبرِ انقلابﷺ* کا ساتھ ویسا ہی برقرار تھا۔ وہ کل جس کامیابی کی تڑپ اپنے دل میں محسوس کرتا تھا اس کامیابی کا مفہوم اب اس کے لیے بدلتا جا رہا تھا۔ رات کے اس پہر وہ سن سات آٹھ اور نو نبویؐ میں پیش آنے والے شدت مصائب کو گویا اپنے روح و دل پر محسوس کر رہا تھا۔ شعب ابی طالب،،، فاقوں بھوک اور قید کی صعوبتوں میں مقید رسول اللہﷺ اور خاندان رسولﷺ، غلے اور سامان خوردونوش کی بندش، بھوک سے بلکتے بچے، آنسو میں بھیگی عورتوں کی آوازیں اور کلمہ لا الہ الا اللہ کی دعوت پر استقامت سے کھڑے پیغمبرِ انقلاب، رسول خدا نبیِ برحق حضرت محمدﷺ۔ اس نے کتاب بند کر دی۔ لمحہ بھر کو آنکھیں موند لیں۔

*ختمِ نبوت تو ہو چکا مگر کار نبوت ابھی باقی ہے۔* کیا داعیان دین اپنے اعزا و اقارب کے ساتھ دینِ حق کے لیے اپنے فرائض تندھی سے سر انجام دینے کے لیے تیار ہیں؟ اس نے جیسے خود سے سوال کیا اور پھر خود ہی جواب دینے لگا۔ اگر ہاں تو واقعتاً کوئی بھی معاشرہ مکمل طور پر بے حس اور ظالم نہیں ہوتا اور اللہ تعالی لوگوں کے دلوں میں نرمی ڈال دینے پر بھی یقینا قادر ہیں۔ وہ سوچ رہا تھا!!!! ہشام بن عمرو، زہیر، مطعم بن عدی اور ابو الجنتری بھی تو آخر کار مشرکین کی طرف سے رسول اللہ ﷺ ، بنی ہاشم اور بنی مطلب کے معاشرتی بائیکاٹ کے ظالمانہ معاہدے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اشرف صاحب جس طرح اپنے طلباء کی سود کے خلاف اور اسلامی معیشت کے حق میں ذہن و کردار سازی کر رہے تھے، بہت سے لوگوں پر یہ امر بہت گراں گزر رہا تھا۔ ایسے ہی لوگوں کی محنتوں کا ثمر تھا کہ،،،، اشرف صاحب کے ہاتھ میں ان کا ٹرانسفر لیٹر تھا، جس کی بنیاد پر انہیں آنے والے چند روز میں دور افتادہ علاقے میں حکومت کی جانب سے کسی نئے قائم کردہ تعلیمی ادارے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی رپورٹ کرنی تھی۔

اس علاقے میں گیس اور بجلی کی سہولت نہیں ہے۔ مجھے رہنے کے لیے جو جگہ دی جائے گی وہاں آپ لوگوں کا ساتھ رہنا بھی خاصا دشوار گزار ہوگا۔ مگر مجھے آپ لوگوں کو یہاں تنہا چھوڑنے کی بھی سمجھ نہیں آرہی۔ وہ خاصے فکر مند تھے۔ ارے نہیں قدرتی اور فطری زندگی کے قریب ہونا تو یقیناً بہت دلچسب ہو گا اور اگر کچھ مشکلات بھی آئیں تو ہم مل کر ان کا مقابلہ کریں گے۔ زینب اور ان کی امی نے اپنا متفقہ فیصلہ سنایا۔ ” آزمائش جتنی عظیم ہو گی، بدلہ بھی اسی قدر عظیم ہو گا اور اللہ تعالی جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار فرما دیتا ہے پس جو اس سے راضی ہوتا ہے اس کے لیے اللہ کی رضا ہے اور جو اس کی وجہ سے اللہ سے ناراض ہوتا ہے اس کے لیے اللہ کی ناراضی ہے۔" ( ترمذی )
===================