روشنی کا سفر - ام محمد عبداللہ ( قسط نمبر 8 )

دانیال کے ساتھ شادی کے بعد مریم اور احمد کی زندگی ایک پرسکون شاہراہ پر گامزن تھی۔ احمد کو باپ کی شفقت میسر آگئی اور مریم بھی اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اپنی خواہش اور دانیال کی اجازت سے بوتیک میں کام جاری رکھے ہوئے تھی۔ مگر وہ کچھ دنوں سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔

بوتیک میں انہیں ایک مشہور و معروف سکول کے یونیفارم کا آڈر ملا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ بڑھتی عمر کی بچیوں کے لیے جس قسم کے یونیفارم کو ڈیزائن اور تیار کرنے کا کہا جا رہا تھا۔ وہ اخلاقاً اور مذہباً قطعاً درست نہیں تھا۔ اسکن ٹائٹ پاجامہ اور شارٹ شرٹ اسکول یونیفارم کے طور پر انہیں ہرگز ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ پرکشش مالیت کا آڈر ہونے کی وجہ سے بوتیک کی مینجنگ ڈائریکٹر (احمد کی تائی امی) اس موقع کو ہرگز گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔ اس وقت بھی مریم اور ان کے درمیان مکالمہ جاری تھا: "ہمیں کسٹمر سے بات کر لینی چاہیے، یہ آڈر نہ صرف مذہبی اور اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتا بلکہ اس طرح کا لباس صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ جلد سے چپکے ہوئے لباس کئی طرح کی جلدی امراض کا باعث بھی بنتے ہیں۔" مریم رسانیت سے ڈائریکٹر صاحبہ کو قائل کرنا چاہ رہی تھی، جن کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات واضح تھے۔ " ام احمد صاحبہ! آپ کو جو کہا گیا ہے وہ کیجیے۔ ہم بھی بااخلاق اور سچے مسلمان ہیں اور کسٹمر بھی بہت عزت دار ہیں۔ آپ مذہب اور اخلاق کی ٹھیکدار نہ بنیں۔ وقت پر پراجیکٹ مکمل کر کے رپورٹ کریں۔"

بداخلاقی سے جواب دیتیں ڈائریکٹر صاحبہ نے گویا بات ختم کر دی تھی۔ صدمے کی سی کیفیت میں چند لمحے کی خاموشی کے بعد مریم نے دھیمے مگر قطعی انداز میں جواب دیا،" میں اس پراجیکٹ پر کام نہیں کروں گی میم۔" اس پر ڈائریکٹر صاحبہ کا غصہ اور بد زبانی، الامان الحفیظ۔۔ جب اللہ تعالی ہی سے حیا نہ رہے تو پھر بندوں سےحیا کیا معنی۔ وہ انہیں بوتیک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بے دخل کرنے کا حکم صادر فرما رہی تھیں۔ یہ بوتیک ام احمد نے احمد کے والد کے ساتھ مل کر بڑے ارمانوں اور خوابوں سے شروع کی تھی۔ ان کی اچانک وفات کے بعد ان کے بڑے بھائی نے شاطرانہ چال چلتے ہوئے بوتیک اپنی بیگم کے قبضے میں دے کر ام احمد کو محض ایک کارکن بنا رکھا تھا۔ اس بوتیک کے ساتھ ام احمد کی یادیں اور محبتیں تھیں، خواب اور امنگیں تھیں۔ ڈائریکٹر صاحبہ کی تیز چلتی زبان،، بوتیک سے دلی اور جذباتی وابستگی،، معاشی سہارا۔۔۔۔۔ ام احمد کا سر چکرا سا گیا۔ "مریم ہمیں تکبیر صرف نماز ہی میں بلند نہیں کرنی بلکہ یہ تو ہماری زندگی کا نصب العین ہے۔ ہم تکبیر ہر اس مقام پر بلند کریں گے جہاں ہم کھڑے ہوں گے۔" دانیال کے ٹھنڈے میٹھے لہجے میں بولے گئے پُرعزم الفاظ مریم کے کانوں میں سرگوشی کرنے لگے۔ وہ معذرت خواہانہ انداز چھوڑ کر استقامت سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

اللہ اکبر!! جو لباس میرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے اس پر کام کر کے میں معتوب نہ ہونا چاہوں گی۔ میں اللہ کے خوف سے اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کے لیے یہ بوتیک چھوڑتی ہوں۔ ” اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو، میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو۔ ہر متنفس موت کا ذائقہ چھکنے والا ہے۔ پھر تم میری ہی طرف لوٹائے جاٶ گے۔“ سورہ العنکبوت آیت 56.. 57
سکول میں میٹرک کی طالبات کی الوادعی تقریب کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ بریک کے اوقات میں سکول آڈیٹوریم میں تیز میوزک پر ڈانس کی پریکٹس اور اوچھا ہنسی مذاق کچھ قابل گرفت نہیں تھا۔ آخر سارا سال سخت پڑھائی کے بعد تھوڑا ہلا گلا بھی تو طالبات کا حق تھا۔ "ملانی زینب تو شام میں ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں فرمائیں گی۔ وہ تو آنسو بہاتی اپنے غبارے نما عبایا میں جلد ہی رخصت ہو جائے گی۔ بیچاری زینب زندگی اور خوشیوں سے کٹی ہوئی۔" ماہم نے سرد آہ بھری اور اس کی گروپ فیلوز نے ایک بےہنگم سا قہقہ لگایا۔ تراشیدہ بالوں اور نوک دار بھنوؤں والی قریب بیٹھی نائلہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بھی نہ آئی تھی۔

اس کا ذہن زندگی اور خوشیوں کا مفہوم کھوجنے لگا تھا۔ تیز میوزک، فیشن زدہ لباس، ہائی فائی کھانے ہلڑ بازی اسے یہ سب اپنے گھر کے ماحول میں بھی حاصل تھا۔ سکول میں بھی وہ اسی ہائی کلاس گروپ کا حصہ تھی۔ اس پر اپنی بہترین تعلیمی کارکردگی او A+ گریڈز کے باوجود اسے اپنے خالی پن کا احساس رہتا تھا۔ زینب کا متانت بھرا پرسکون چہرہ، دھیمی مسکراہٹ اور اپنے قول و فعل پر بھرپور اعتماد اور استقامت اسے ہمیشہ اندر سے ڈگمگا دیتی تھی۔ ایسا اعتماد اسے تو اپنی طرز زندگی پر نہیں تھا۔ سکول پرنسپل کی میز پر زینب کی جانب سے دی گئی ایک درخواست کے ساتھ ایک تحقیق منسلک کی گئی تھی جس میں لکھا تھا۔
”اسرائیل کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین نفسیات نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موسیقی پر تشدد اور منفی جذبات کر پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین نے 150طلبہ کو موسیقی کی مختلف اقسام سنا کر ان کی طبع اور حرکات و سکنات پر خاص ریسرچ کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ریپ اور میٹل جو کہ تیز موسیقی کی دو اقسام ہیں کے سننے والے لوگ متشدد رویہ جلدی اپنا لیتے ہیں اور کسی کے اکسانے پر تشدد اور جارحیت کو بہت جلد اثر لیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تیز موسیقی سننے والے لوگوں کو سیاستدان اور شدت پسند گروہ بڑی آسانی سے اپنے مذموم مقاصد کےلئے استعمال کر سکتے ہیں۔اس لئے موسیقی کو امن کی آواز یا روح کی غذا سمجھنا خود کو اندھیرے میں رکھنے اور دھوکا دینے کے مترادف ہی ہوگا۔“ساتھ ہی موسیقی کے یاداشت اور سماعت پر مضر اثرات کی بھی فہرست تھی۔ میڈم میرے لیے تو موسیقی نہ سننے کے لیے یہ ہی وجہ کافی ہے کہ مجھے میرے آقا رسول خداﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ لیکن یہ تحقیقات میں اپنی ان ساتھیوں کے لیے لائی ہوں جو سائنس اور اہل مغرب سے اس درجہ مرعوب ہیں کہ ایک بیچ کی مخلوق بن کر رہ گئی ہیں۔ یہ نہ اپنی مسلم شناخت پر مطمئن ہیں اور نہ سر توڑ کوششوں کے باوجود مغربی شناخت اپنا سکتی ہیں۔ پرنسپل نے کچھ سوچتے ہوئے الواداعی تقریب میں میوزک اور ڈانس پارٹی پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ماہم اور اس کی ساتھی بہت سیخ پا تھیں مگر نائلہ میوزک سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے کا پختہ عزم کر چکی تھی۔ ”ہجرت سابقہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔“ ”افضل ہجرت یہ ہے کہ تم سابقہ گناہوں کو چھوڑ دو۔“ صحیح مسلم

کالج کے پرنسپل آفس میں بزنس ایڈمنسٹریشن کے طالب علم ذیشان فاروقی کے والد نہایت غم و غصے کی کیفیت میں شکایات کا ایک انبار لیے بیٹھے تھے۔
" آپ کے کالج میں ہمارے بچوں کی کس قسم کی برین واشنگ کی جا رہی ہے۔ یہاں ہم انہیں اس لیے بھیج رہے ہیں کہ وہ جدید بزنس مہارتوں سے لیس ہو کر ہمارے کاروبار کو بڑھاوا دیں اور آپ ناجانے انہیں کیا پڑھا رہے ہیں؟ کل ذیشان نے ایک بزنس میٹنگ میں شریک ہونے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ اس میں کچھ انٹرسٹ ریٹس(سود) زیربحث تھے۔ دیکھیے پرنسپل صاحب! اگر آپ کے لیکچرر ترقی چاہتے ہیں، تنخواہ میں اضافہ چاہتے ہیں یا ایسے ہی کسی اور مفاد کے لیے یہ راستہ اپنا رہے ہیں تو انہیں بتائیے، ان چیزوں کے حصول کے لیے یہ محفوظ راستہ نہیں ہے۔ میرا اپنا بہت اثر و رسوخ ہے کہ میں ان کی ترقی اور تنخواہ میں اضافے کے لیے بہت کچھ کر سکتا ہوں۔"اشرف صاحب کے لیے بغض و عناد لیے وہ غم و غصے میں مسلسل بولے جا رہے تھے۔ ذیشان فاروقی نے جب سے اسلامی نظام معیشت پر تحقیق کی، سود کے لین دین کے نقصانات پر چھان بین کی تھی، اس نے اپنے باپ کے سودی کاروبار کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

اسی رنج اور صدمے میں ذیشان فاروقی کے والد کالج پرنسپل کو ڈرانے دھمکانے میں مصروف تھے۔ پرنسپل نے اشرف صاحب کو طلب کر کے وضاحت چاہی تو انہوں نے دو ٹوک جواب دیا۔"سر گھر، والدین، ادارے میڈیا غرض کہیں سے بھی نوجوان نسل کو راہ نمائی نہیں مل رہی کہ وہ کس عظیم الشان نظام کے وارث ہیں۔ اسلام عبادات ہی کا نہیں معاملات کا بھی دین ہے۔ میں لالچ یا دباؤ کے زیر اثر اس حق کو جو میرے علم میں ہے، اپنے طلباء کو منتقل کرنے سے نہیں رک سکتا۔ میں اگر انہیں دنیا میں رائج دیگر باطل معاشی نظام پڑھاؤں گا تو ساتھ ہی مبنی برحق اسلامی معاشی نظام بھی ضرور متعارف کرواؤں گا۔ سود اللہ اور اس ک رسولﷺ سے جنگ ہے۔ میں اپنی آخری سانس تک اپنی نئی نسل کو اس جنگ میں جھونکے جانے سے بچانے کی بھرپور کوشش کرتا رہوں گا۔ ان شاءاللہ۔"
ذیشان فاروقی کے والد کا رعونت بھرا انداز، پرنسپل صاحب کی، غیرت و حمیت کو مسلسل چیلنج کر رہا تھا۔اس پر اشرف صاحب کی دو ٹوک استقامت نے انہیں بھی ایک نئے عزم سے روشناس کرا دیا تھا۔ " اشرف صاحب آپ اسلامی نظام معیشت کے عملی نکات اور سود کی تباہ کاریوں پر سیمینار منعقد کرنے کی تیاری کیجیے۔"
پرنسپل پرعزم لہجے میں اشرف صاحب کو کہنے کے بعد ذیشان فاروقی کے والد سے گویا ہوئے۔ "میں آپ کو آپ کی تمام بزنس کمیونٹی کے ساتھ اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔"

جاری ہے،،،،
==============