محمود خان اچکزئی کس بات کا احتجاج کر رہے ہیں؟ آصف محمود

عمران خان حکومت سے مایوسی اور بے زاری اپنی جگہ لیکن یہ کیسے مان لیا جائے کہ بزرگانِ سیاست جو آزادی مارچ لے کر اسلام آباد میں پڑائو ڈالے ہیں، یہ اب ہمارے مسیحا بن گئے ہیں ؟

غلطی ہائے مضامیں کی تصویر بنے ان بزرگان کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ مولانا صاحب کے دائیں جانب محترم محمود خان اچکزئی کھڑے ہیں ۔ یہ بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف مولانا کے ساتھ ہیں ۔ یہ منظر دیکھا تو مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے:


بدھو میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں

گو مشت، خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں


سالار ِ جمہوریت محمود خان اچکزئی کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پہلی دفعہ تب تشریف لا سکے جن مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا ۔ اس کے بعد یہ 1997 میں بھی ہار گئے اور 2002 میں بھی انہیں ایک نشست سے شکست ہوئی اور ایک پر کامیاب رہے اب کی بار ایک مرتبہ پھر ہار گئے اور آگ بگولہ ہوئے پھرتے ہیں۔

یہ ایک نشست کا دکھ نہیں یہ وزارت عظمی سے محرومی کا دکھ بھی ہے۔ روایت یہ ہے کہ انہیں نگران وزیر اعظم بننے کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میں عام انتخابات میں حصہ لوں گا ۔ اب عام انتخابات میں یہ ہار گئے۔ تین ماہ کی وزارت عظمی تو گئی سو گئی پانچ سال کے لیے اسمبلی بھی ہاتھ سے نکل گئی ۔ چنانچہ اب وہ بھی سراپا احتجاج ہیں کہ عمران خان کو گھر بھیج دیا جائے۔

محمود خان اچکزئی صاحب کے ساتھ اس الیکشن میں ہوا کیا ؟ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ این اے 263 سے محمود خان اچکزئی الیکشن ہار گئے ۔ لیکن ہارے کس سے؟ جے یو آئی کے مولانا صلاح الدین سے ۔ اور ہارے کتنے ووٹوں سے؟ صرف 17 ہزار 989 ووٹوں سے۔ دوسرے نمبر پر آنے کا اعزاز بھی نہ پا سکے۔ دوسرے نمبر پر اصغر خان اچکزئی تھے ۔ کیا آپ کو معلوم ہے یہ کس جماعت کے تھے؟ یہ اسفند یار ولی کی اے این پی کے امیدوار تھے۔ اب پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن لینے والی تینوں جماعتیں کنٹینر پر کھڑی ہیں کہ دھاندلی ہوئی۔ اچکزئی صاحب اور اسفند یار ولی بتا تو دیں کیا مولانا صلاح الدین نے انہیں دھاندلی سے ہرایا؟

یہ بھی پڑھیں:   موجودہ حکومت اور آزادی مارچ - مولانا عثمان الدین

محمود خان اچکزئی این اے 265 سے بھی امیدوار تھے۔ وہ یہاں سے بھی ہار گئے۔ قاسم سوری یہاں سے کامیاب ہوئے۔ ان کا تعلق پی ٹی آ ئی سے تھا۔ قاسم سوری کی جیت پرضرور سوال اٹھائیے، آپ کا حق ہے، لیکن آپ کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں اچکزئی صاحب دوسرے نمبر پر نہیں آئے تھے۔ دوسرا نمبر لشکری رئیسانی صاحب کا تھا۔ اچکزئی صاحب مبلغ 11487 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کے ووٹ رئیسانی سے بھی آٹھ ہزار کم تھے۔ اب وہ شور مچا رہے ہیں، دھاندلی ہو گئی۔

این اے 257 سے بھی محمود اچکزئی کی جماعت پشتونخواہ میپ کے امیدوار اللہ نور کو شکست ہوئی۔ لیکن کس سے؟ جے یو آئی کے مولانا عبد الواسع سے۔ اور شکست بھی 21 ہزار 405 ووٹوں سے۔ پی ٹی آئی کے امین اللہ جوگیزئی تو چوتھے نمبر پر رہے۔ تو کیا اچکزئی صاحب کے خلاف جے یو آئی نے دھاندلی کی؟

این اے 258 سے بھی محمود اچکزئی کے امیدوار حبیب الرحمن کو شکست ہوئی۔ لیکن کس سے؟ بلوچستان عوامی پارٹی سے۔ دوسرے نمبر پر مجلس عمل اور تیسرے نمبر پر ن لیگ تھی۔ تحریک انصاف کا نمبر تو چوتھا تھا۔ تو کیا فرماتے ہیں اچکزئی صاحب، ن لیگ اور جے یو آئی نے مل کر دھاندلی کی اور ان کے امیدوار کو ہرا دیا؟

این اے 259 سے بھی محمود اچکزئی کا امیدوار ہار گیا۔ کس سے؟ اکبر خان بگٹی کے پوتے شاہ زین سے۔ اچکزئی صاحب کی جماعت کے امیدوار نور احمد شاہ کی پوزیشن کیا تھی؟ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں؟ چلیں آپ کو بتا دیتا ہوں وہ 14 ویں نمبر پر تھے۔ تیرہ امیدواروں نے ان سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔

این اے 260 اور این اے 261 سے اچکزئی صاحب کا کوئی امیدوار میدان میں نہ تھا ۔ این اے 262 سے اچکزئی صاحب کی پشتونخواہ میپ کے امیدوار عیسی روشن کو اکیس ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست ہوئی ۔ لیکن کس سے؟ جے یو آئی کے کمال الدین ساحب سے۔ پی ٹی آئی کے ہاشم پانیزئی تو چھٹے نمبر پر تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   اجارہ داری - مفتی منیب الرحمن

این اے 264 پر بھی اچکزئی صاحب کے امیدوار عبدالرحمن کو شکست ہوئی ۔ وہی سوال کہ کس سے؟ جے یو آئی کے مولوی عصمت اللہ صاحب سے۔

این اے 266 سے بھی محمود اچکزئی کا امیدوار ہار گیا۔ یہاں سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن بلوچ کامیاب ہوئے۔ ان کا امیدوار دوسرے نمبر پر بھی نہ آ سکا۔ دوسری پوزیشن جے یو آئی کے حافظ حسین احمد کی تھی۔پی ٹی آئی کہیں چوتھے نمبر پر رہی۔ کیا پی ٹی آئی نے چوتھی پوزیشن کے لیے دھاندلی کی تھی؟

این اے 257 سے محمود خان اچکزئی کا کوئی امیدوار میدان میں نہ تھا ۔ یہاں سے جے یو آئی کے آغا محمد شاہ جیتے۔ این اے 261 پر بھی ان کا کوئی امیدوار نہ تھا۔ یہاں سے بھی ایم ایم اے جیتی۔ این اے 269 پر بھی یہ کوئی امیدوار نہ دے سکے۔ یہاں سے بی این پی کے اختر مینگل جیتے۔ این اے270، 271 اور این اے272 پر بھی ان کا کوئی امیدوار نہ تھا۔

یعنی پورے بلوچستان میں محمود خان اچکزئی کی پارٹی تحریک انصاف کے ہاتھوں صرف ایک نشست پر ہاری۔ فرض کریں تحریک انصاف نے اس الیکشن میں حصہ ہی نہ لیا ہوتا، اس صورت میں اچکزئی صاحب کو مزید کتنی نشستیں مل جاتیں؟ صرف ایک ۔ تو عالی جاہ ، قبلہ خان صاحب ، اتنا غصہ کس بات کا؟

ایک ہمارے اویس نورانی صاحب ہیں ۔ شدت جذبات میں گوارا نہ کر سکے کہ کوئی مولانا سے گلہ کر رہا ہو اور اس نازک وقت پر کوئی ناہنجار موبائل سے ویڈیو بنا لے۔ کسی رستم کی طرح اس پر جھپٹ پڑے ۔ باتیں آزادی اظہار کی ، کی جا رہی ہیں اور برداشت موبائل کی دو انچ کی سکرین نہیں ہو رہی ۔ فرض کریں دھاندلی نہ ہوتی تو نورانی صاحب کے پاس کیا دو تہائی اکثریت ہوتی؟

عالی جاہ مسئلہ کیا ہے؟ کچھ تو کہیے؟ میر صاحب بھی کہاں یاد آئے


میر سے پوچھا جو میں، عاشق ہو تم

سن کے وہ یہ بات , شرمائے بہت

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.