ریاستی قوانین اور اُن کی دھجیاں! اظہارالحق

ریلوے کی آتش زدگی میں 74افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ درجنوں زخمی موت و حیات کی کشمکش سے گزر رہے ہیں۔

آگ ریل کے اے سی سے شروع ہوئی یا گیس کے سلنڈر سے؟ روایات متضاد ہیں۔ ہمارے ایک ثقہ کالم نگار نے ریلوے کے ایک دیانت دار افسر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اصل وجہ سلنڈر ہی تھے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آگ کی ابتدا اے سی سے ہوئی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ زیادہ پھیلائو سلنڈر پھٹنے سے ہوا جو تعداد میں کئی تھے۔ ٹرین کے ڈرائیور محمد صدیق نے بتایا کہ تبلیغی جماعت والوں کو حادثہ کے بعد بھی سلنڈر رکھنے سے منع کیا لیکن تب بھی کوئی نہ مانا۔ روکا تو وہ لڑنے لگے۔ ایک عینی شاہد کہتا ہے کہ ایک شخص نے میرے سامنے سلنڈر جلایا۔ میں اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔ پہلے انہوں نے سالن گرم کیا۔ پھر چائے بنائی۔ دوبارہ پھر چائے بنانے لگے تو سلنڈر پھٹ گیا۔

سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے یہ ہے کہ کیا سالہا سال تبلیغ میں صرف کرنے والوں کو یہ تربیت نہیں دی جاتی کہ ریاستی قوانین پر عمل پیرا ہونا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے؟ ایک شخص جو ایک مذہبی جماعت کا حصہ ہے‘ اور ایک اور شخص جو کسی مذہبی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا۔ کیا دونوں میں فرق نہیں ہونا چاہیے؟ کیا مذہبی جماعت کے رکن کا رویہ اور عمل دوسرے سے بہتر اور قابل ستائش نہیں ہونا چاہیے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ کیسی تبلیغ ہے؟ کیسی تربیت ہے؟

تبلیغی جماعت کے جس شخص کے نام پانچ بوگیاں بک ہوئیں، ہماری اطلاع کے مطابق وہ زندہ ہے۔ کیا اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ کیا سلنڈر رکھنے کے غیر قانونی عمل پر اسے سزا نہیں دینی چاہیے۔ اس حادثے کے بعد کیا ہوا؟

ریلوے نے خانیوال کے قریب ایک اور ٹرین پر چھاپہ مارا۔ بہت سے سلنڈر ضبط کر لیے مگر بتایا گیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے کارکنوں نے ریلوے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ حقوق العباد کا معاملہ ان کے ہاں ہمیشہ سے مفقود تھا۔ ریاستی قوانین کو پامال کرنا بھی اب عام ہے! اصل میں ریاستی قوانین‘ حقوق العباد کا حصہ ہیں۔ یہ قوانین عوام کی زندگی کی حفاظت کرتے ہیں اگر ریل میں گیس کے سلنڈر رکھنا‘ کھانا پکانا خلاف قانون ہے تو صرف اس لئے کہ اس میں جان کا خطرہ ہے۔

ہم اس آتش زدگی کو بھول کر صرف یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر قانون سلنڈر ریل میں لے جانے کی اجازت نہیں دیتا تو کیا اس قانون پر عمل نہیں کرنا چاہیے؟ تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک مدت وابستہ رہنے کے بعد اس کالم نگار کے خیالات علم یا نظریات کی بنا پر نہیں بدلے! کیا اس کالم نگار کے نظریات اور کیا علم! کوئی دعویٰ ہے نہ زعم! خیالات صرف اور صرف آنکھوں دیکھے واقعات کی وجہ سے بدلے۔ مشاہدات کی وجہ سے بدلے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس جماعت کے ایک مقامی امیر نے کیسے گلی کی سرکاری زمین اپنے مکان میں شامل کر لی۔ کیسے ایک صاحب نے پڑوسی کی مسلسل اذیت سے تنگ آ کر مکان اونے پونے بیچا اور بستی ہی چھوڑ دی۔ یہ پڑوسی تبلیغی جماعت کا سرگرم رکن تھا۔ ایک صاحب عید قربان کے دنوں میں شب جمعہ پر جا رہے تھے۔ بوڑھے باپ نے کہا کہ قربانی کا جانور میں نہیں سنبھال سکتا۔ تم آج نہ جاؤ‘ وہ نہ مانا اور چلا گیا۔

ڈیڑھ عشرہ پہلے یہ کالم نگار ایک سرکاری ادارے کا سربراہ تھا۔ وفاقی حکومت کے ایک (سول) حساس ادارے نے درخواست کی کہ ایک دیانت دار اور معقول افسر تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر دیا جائے۔ افسران سے آپشن لیا گیا۔ جو لوگ رضامند تھے۔ ان میں سے ایک صاحب کو چُن کر اس خصوصی تعیناتی پر بھیج دیا گیا۔ یہ صاحب تبلیغی جماعت کے رکن تھے۔ وہاں جا کر چند دن کے بعد انہوں نے ایک سال (یا غالباً دو سال) کی چھٹی کی درخواست داغ دی۔ وجہ یہ لکھی کہ تبلیغ پر نکلنا ہے۔ حساس ادارہ ہکا بکا رہ گیا کہ تین سال کے لیے آپ تشریف لائے ہیں اور آتے ہی سال (یا دو سال) کی چھٹی مانگ رہے ہیں؟ یہ اَڑے رہے۔ تنگ آ کر ادارے نے صورت حال سے آگاہ کیا اور انہیں واپس بھیج دیا۔ محکمے نے اس غیر معقول اور اذیت ناک رویے پر انہیں چارج شیٹ کر دیا۔ چارج شیٹ کرنا تھا کہ بھونچال آ گیا۔ جتنے اصحاب تبلیغی جماعت سے اس کالم نگار کے واقف تھے۔ سب نے فون کرنا اور احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ جو واقف نہیں تھے انہوں نے بھی ڈرانا شروع کر دیا کہ اللہ کے دین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہو! جب ان سے پوچھا جاتا کہ کیا ان صاحب کا رویہ درست تھا؟ اس کا جواب کوئی نہ دیتا! مگر یہ اصرار سب کرتے کہ چارج شیٹ واپس لی جائے۔

یہ دلیل کہ تبلیغی جماعت کے ارکان بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں‘ بے وزن ہے‘ تبلیغی جماعت یا کسی بھی مذہبی جماعت کے ارکان سے عوام بہتر رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر ساری زندگی چِلّوں‘ سہ روزوں میں بسر کرنے کے بعد اور سالہا سال گشت ’’تعلیم‘‘ ’’تشکیل‘‘ اور ’’جوڑ‘‘ کے مراحل سے گزرنے کے بعد بھی کھلم کھلا ریاستی قوانین کی خلاف ورزی پر اصرار کیا جائے اور پولیس پر حملے کئے جائیں تو اس ساری تربیت کا کیا فائدہ؟

ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ریاستی قوانین قرآن و حدیث اور فقہی احکام کا درجہ نہیں رکھتے۔ یہ دلیل مضحکہ خیز ہے۔ اس کی رُو سے سمگلنگ جائز ہے اور تجارت کا حصہ ہے۔ ٹریفک قوانین کا قرآن و حدیث اور فقہ میں کہاں ذکر ہے؟ لال بتی پر رُک جانا‘ شریعت کی رُو سے ضروری نہیں! قرونِ اولیٰ میں پاسپورٹ اور ویزہ سسٹم بھی نہیں تھا۔ اندازہ لگائیے یہ دلیل معاشرے کو کس افراتفری سے دوچار کر سکتی ہے!

دوسری طرف ریلوے کے عملہ کو ذمہ داری سے مبرّیٰ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اگر سلنڈر گاڑی میں رکھنے اور بوگیوں کے اندر کھانا پکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو پھر یہ اجازت کسی صورت میں نہیں دینی چاہیے۔ ریلوے پولیس ایک الگ محکمہ ہے۔ ایک سینئر افسر اس فورس کا سربراہ ہے۔ ریلوے پولیس کا فرض ہے کہ غیر قانونی عمل کو روکے اور ضرورت پڑے تو طاقت کا استعمال کرے۔ مجرموں کو گرفتار کرے۔ تبلیغی جماعت کا اجتماع رائے ونڈ میں جاری ہے۔ کیا جماعت کے بزرگ اپنی تقریروں میں اس حادثے کے اسباب و علل کا ذکر کریں گے؟ کیا وہ ریاستی قوانین پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کریں گے کیا وہ سلنڈر رکھنے والوں پر ناراضگی کا اظہار کریں گے؟ کچھ کہا نہیں جا سکتا! خدا کرے ایسا ہو!

انگریزی حکومت جو ادارے صحت مند حالت میں چھوڑ کر گئی تھی‘ بدقسمتی سے ہم انہیں سنبھال نہ سکے۔ بھارت کی ریلوے ہماری ریلوے سے آگے نکل گئی۔ جو ادارے ہم نے خود بنائے اور کامیابی سے چلائے‘ وہ بھی آخر کار تنزل کا شکار ہوئے، قومی ایئر لائن اور سٹیل مل اس کی واضح مثالیں ہیں! ع کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */