اقتدار کی سیاست میں مدارس کا استعمال - ڈاکٹر مجاہد منصوری

اھدنا الصراط المستقیم۔ وزیراعظم عمران خان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت کیسے چلائی جائے؟ جس نااہلی، خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی ان کے اپنے ہمنوا اور حامی کھل کھلا کر اپنے سیاسی تجزیوں اور قابلِ قدر رائے کی شکل میں کر رہے ہیں، وہ یا تو انہیں دانستہ خاطر میں نہیں لا رہے یا نااہل خوشامدیوں کا ان کے گرد تنا پردہ یہ سب کچھ ان کے کانوں تک پہنچنے نہیں دے رہا۔

اوپر سے وزیراعظم کے گورننس سے متعلق اپنے غلط فیصلوں کے درست اور نتیجہ خیز ہونے کا پختہ یقین، عوام الناس کے لئے مہلک شکل اختیار کر گیا ہے۔ وہ ان کی مدلل نشاندہی کے باوجود ان پر اڑ گئے ہیں، ان پر نظر ثانی کے لئے تیار نہیں حالانکہ وہ عملی سیاست و حکومت میں یوٹرن لینے پر بھی یقین رکھتے ہیں اور اپنی مرضی سے جب چاہتے ہیں، لے بھی لیتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ ان کی 22 سالہ شاندار سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں جس عوام دشمن استحصالی سیاسی ٹولے کو انہوں نے نیم جاں کر دیا تھا، وہ اپنے متذکرہ حکمرانی رویے سے اس کے لئے مسیحا ثابت ہو رہے ہیں حتیٰ کہ الیکشن 18میں ووٹرز نے اپنی عزت کا پاس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن جیسی اسٹیٹس کو کی جاندار علامت کو پارلیمان سے فارغ کر دیا جس کے خلاف وہ الیکشن کمیشن، کسی عدالت اور ٹربیونل میں جانے کے بھی قابل نہ رہے۔

اب انجام سے دوچار ہوتی کرپٹ اپوزیشن کے اتحاد کے قائد بن کر سامنے آئے ہیں۔ مولانا صاحب کا قلمی احتساب متقاضی ہے کہ ان کے بطور کامیاب پریشر پولیٹکل لیڈر کے درجے پر فائز کرنے کے تجزیے میں وزیراعظم عمران خان کی نادانستہ خدمات سے صرف نظر نہ کیا جائے۔

ایک طرف تو ملک و قوم کو اجاڑ دینے والی دو بدترین جمہوری حکومتوں کے بعد عوامی توقعات، امنگوں اور معاونت کے دوش پر سوار ہو کر برسر اقتدار آنے والی تبدیلی حکومت، جو بلاشبہ عوام دشمن سیاسی قوتوں کو مضروب کرنے میں تو کامیاب ہوئی، کا مقتدر ہو کر یہ عالم بے خودی ہے۔

دوسری جانب اسٹیٹس کو کی پجاری مضروب طاقتیں، مولانا صاحب کی منظم نیم عسکری طاقت میں پناہ کو موجودہ برے وقت میں آئیڈیل جان رہی ہیں۔

یوں مولانا صاحب کی غیر پارلیمانی حیثیت کو ایسا گلوکوز لگا ہے کہ وہ اب خود کو 1977ء کی تحریک کا قائد مولانا مفتی محمود سمجھ رہے ہیں، جو وہ ہرگز نہیں۔ انہوں نے جو راہ پکڑی ہے وہ، وہ نہیں جو اللّہ بخشے مفتی صاحب نے ملک گیر انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ملک کے جید، جمہوری جذبے سے سرشار اور آئین کے علمبردار اپوزیشن لیڈرز کے ہمراہ اپنے فروعی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر آن واحد میں تیار کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   "مقابلہ کرنا میری تربیت" ساجدہ اقبال

مولانا صاحب! آپ نہ تو نوابزادہ نصر اللّہ بن سکیں گے نہ اپنے والد مرحوم کا رتبہ پا سکیں گے۔ عالم تنہائی میں غور فرمائیں کہ آپ کس راہ پر ہیں اور کس نظام بد کی بحالی کے لئے اپنے مدارس کے نیٹ ورک کو استعمال کر رہے ہیں۔

اور یہ سب کچھ آپ پاکستان کے دفاع اور کشمیریوں کی آزادی کے حوالے سے کس وقت پر کر رہے ہیں؟ تحریک انصاف اور اس کے قائد کے غیر سیاسی اور غیر پارلیمانی سیاسی ابلاغ کی سزا پورے پاکستان، پاکستانیوں اور کشمیریوں کو کیسے دی جا سکتی ہے؟ فرصت ہو تو بھارتی میڈیا دیکھ لیں۔

اور یہ جو آپ نے مدارس کے طلبا کو نیم عسکری بنا کر پوری قوم کو چونکا دیا ہے کہ آپ ان شاگردوں کی فوج کو اپنی سیاست کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مدارس کے ملک گیر نیٹ ورک کے حوالے سے آپ استاذ الاساتذہ ہیں لیکن مدارس کا باضابطہ اخلاق تقاضا کرتا ہے کہ آپ اپنی ذاتی، گروہی، پارٹی اور اتحادی ملکی سیاست میں انہیں ہرگز ہرگز استعمال نہ کریں۔

آپ بڑی تعداد میں اساتذہ اور ان کے ہزارہا شاگردوں کو مدارس سے نکال کر کس راہ پر لے آئے ہیں؟ یہ آپ کیا مثالِ بد قائم کر رہے ہیں؟ آپ کرپشن سے لتھڑے جن طرح طرح کے اور بڑے بڑے وائٹ کالر کرائمز کے مرتکب سیاست دانوں کو ساتھ ملا کر ملک کے جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے پر تل گئے ہیں، وہ بھی رائے عامہ کو اس حوالے سے جانتے ہیں کہ انہیں علم ہے کہ عوام اس راہ کو گمراہی سمجھتے ہیں۔

الیکشن 77میں یکدم اپوزیشن رہنمائوں اور عوام الناس کا ردعمل طوفانی تھا اور پی پی کے ورکر اور حامی شرمندہ ہو کر یا ڈر سے خود ہی اپنے گھروں میں نظربند ہوگئے تھے۔

آپ صرف اپنے مدرسے کے طلبا کے بل بوتے پر کوئی عوامی تحریک نہیں چلا سکتے، جن معتوب سیاسی رہنمائوں نے آپ کے ساتھ کنٹینر پر آکر فوٹو سیشن بھگتا دیا ہے وہ ان کی مجبوری تھی، یہ ہی سب آپ کو مارچ کے اعلان پر ’’مذہبی کارڈ‘‘ کا طعنہ دے رہے تھے کہ یہ نہیں چلے گا خصوصاً آپ کا اپنے مدارس کے طلبا کو نیم مسلح کرکے جے یو آئی کے عسکری ونگ کی اچانک رونمائی کرنا تو انتہا کا غیر اخلاقی اور شاید خلافِ قانون اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کارکردگی کہاں ہے؟آصف محمود

آج استنبول سے کشمیر کاز کے لئے سرگرم میرے ایک ترک دوست نے ٹیلی فونک رابطے پر استفسار کیا کہ پاکستان میں یہ کیسے ہو رہا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے قائد جن کے زیر اثر و زیر انتظام مدارس کا ملک گیر نیٹ ورک ہے، طلبا کو ڈنڈا بردار کرکے اپنے غیر منطقی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں؟ میں نے ترک برادر کو بتایا کہ یہاں پوری قوم کی سمجھ نہیں آ رہی اور میں بھی آپ کو یہ سمجھانے سے قاصر ہوں، تو ترک دوست نے پڑھا ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ یہاں یاد آیا، 1992کی اسٹوری ہے، پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ نے اپنی ہائوسنگ کالونی بنانے کے لئے جو اراضی خریدی تھی اس کے کتنے ہی پلاٹوں پر لاہور کا ایک رکن اسمبلی قابض ہو گیا۔

گٹھ جوڑ میں ایل ڈی اے برابر کا شریک تھا، سپریم کورٹ اساتذہ کے حق میں فیصلہ دے چکی تھی۔ ایل ڈی اے پھر بھی اراضی اساتذہ کے نام کرنے پر تیار نہ ہوا اور متبادل اراضی دینے کے لئے اڑ گیا۔

اساتذہ نے مکمل اتحاد کے ساتھ ہڑتال و احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تو اسلامی جمعیت طلبہ نے فوراً اساتذہ کو سڑکوں پر احتجاج کرتے دیکھ کر قبضہ چھڑانے کی پیشکش ہی نہیں کی بلکہ ضد کی لیکن تمام لیفٹ رائٹ کے اساتذہ نے جنرل باڈی میں قرارداد منظور کی ہم طلبہ پر اپنی مورل اتھارٹی استعمال کرکے یا طلبہ کی پیشکش قبول کرکے کسی صورت قبضہ نہیں لیں گے، حالانکہ گورنر الطاف حسین (چانسلر) بھی اساتذہ کو یہ راہ دکھا چکے تھے لیکن جامعہ پنجاب کے اساتذہ کی سختی سے ضابطہ اخلاق کی پابندی نے اتنی طاقت پیدا کی کہ وزیراعظم بینظیر بھٹو نے لاہور پہنچ کر قانونی عمل سے اساتذہ کو اراضی کا قبضہ دلایا۔

مولانا صاحب آپ مدارس کا استعمال کہاں کر رہے ہیں؟ اور طلبہ کو آپ نے کس طرف لگا دیا ہے؟